بچوں کی کتابوں میں دلچسپی کیسے پیدا کریں?جانیے قلم کتاب پر
تحریر : لبنٰی جمشید
کتاب کسے کہتے ہیں؟
وہ با مقصد تحریر جو ایک منظم شکل میں محفوظ شدہ حالت میں موجود ہو کتاب کہلاتی ہے۔ علامہ راغب اصفہانی کے مطابق کتب کا معنی ہے چمڑے کے دو ٹکڑوں کو سی کر اپنے مطلوبہ مواد کے اطراف ایک دوسرے کے ساتھ ملا دینا ۔
کتب بینی کی اہمیت
اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا کہ سوشل میڈیا ایجاد کرنے والے امریکیوں کی ایک بڑی اکثریت تقریباََ 70 فیصد اب بھی کتابیں پڑھتی ہے۔ ان کتب کے تناسب میں طبع شدہ کتابیں اب بھی ای بکس اور آڈیو بکس سے کہیں زیادہ ہیں ۔ ۔
مصنف اور مزاح نگار مارک ٹوئین کا کہنا ہے کہ جو شخص کتابیں نہیں پڑھتا ، اُس شخص سے کسی طرح بہتر نہیں ہے جو پڑھنا ہی نہیں جانتا۔
بچے کتابوں سے الرجک کیوں ہیں؟
کتب بینی میں دلچسبی پیداکرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو بچے اور کتاب کے مابین حائل ہیں۔
سکرین
چاہے وہ ٹی وی کی صورت ہو یا پھر موبائل کی شکل میں بچوں کے لیے کتابوں سے زیادہ مقناطیسیت رکھتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک کمرے میں شیشے کی الماری میں خوبصورت سر ورق کے ساتھ کتابیں سجی نظر آرہی ہوں اور اسی کمرے کی دوسری دیوار پر لگی ایل سی ڈی پر ٹام اینڈ جیری یا کوئی اور کارٹون فلم چل رہی ہو تو فطری طور پر بچہ کارٹون کہانی ہی دیکھناچاہے گا۔
سکرین ایڈکشن نے ہماری زندگی میں بہت سی دوسری چیزوں کے ساتھ کتابوں کی اہمیت کو بھی کم کر دیا ہے۔ جب تک سکرین کا اندھا دھند استعمال محدود نہیں ہو جاتا کتابوں کہ اس کا پرانا کھویا ہوا مقام ملنا مشکل ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کا ایک ٹائم ٹیبل سیٹ کیاجاۓ جس میں کتب کا سکرین کی نسبت زیادہ وقت ہو۔
بچے ہمیشہ والدین کو فالو کرتے ہیں
عام طور پر بچےبھی وہی کرناچاہتے ہیں جو اپنےوالدین کو کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ اس لیے اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچوں کی دلچسبی کتابوں میں ہو تو انہیں خود بھی مطالعہ کی عادت ڈالناہو گی۔ جب تک والدین بچوں کے ساتھ عملی طور پر اس بات کا نمونہ نہیں بنیں گے جو بات اپنے بچوں کو سکھاناچاہ رہے ہیں تب تک بچے بھی اس چیز کو والدین کی آنکھ سے نہیں دیکھ پائیں گے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی موجودگی میں دن کے کسی وقت کتاب پڑھناشروع کر دیں آپ یقین مانیے کہ چند منٹوں کے بعد بچہ بھی آپکے پاس اپن کتابیں تھامے پڑھنے چلا آۓ گا۔
بچوں کی کتابیں چننا
اگر ہم درسی کتابوں کا موازنہ بچوں کے ساتھ کریں تو ہمیں معلوم ہو گاکہ ان میں چھپا مواد ہر بچے کے زہنی میعار , پسند, دلچسبی, ماحول اور نیچر سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کتاب پڑنے کو ایک پہاڑ توڑنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ انہیں اس کتاب سے اکثر خوف آنے لگتا ہے اور وہ پھر اس کو نہ پڑھنے کے بودے بہانے تلاشنے لگتے ہیں۔ ہر بچہ مختلف زہنی سطح کا مالک ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں ہ رواج ہے کہ ایک درسی کتاب ہی ہر طرح کے بچے پر لاگو کر دی جاۓ۔ اب ذہین بچوں نے تو سمجھ لیا کہ اس میں لکھا کیا ہے مگر کیا ہر بچہ اس کتاب کو سمجھنے کے قابل ہو پاۓ گا۔ جواب یقینا نہیں میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کتب کی درجہ بندی پسند اور زہنی مطابقت کے میعار پر کی جانی چاہیے تاکہ بچہ دلچسبی اور شوق سے پڑھے۔
کتابوں کے متعلق حساس رویہ
عام طور پر دیکھاگیا ہے کہ بچہ جسے ہی کتاب پکڑتا ہے اسے الٹ پلٹ کر کے مختلف زاویوں سے پرکھنا چاہتا ہے اور والدین سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ایسا کرتے ہوۓ کتابوں کو پھاڑ دے گا۔ اس لیے وہ ساتھ ساتھ اپنی نصیحتوں کی پٹاری بھی کھول دیتے ہیں۔” ایسے نہ پکڑو“ ” یہاں سے نہیں کھولو “ ” شروعات سے پڑھؤ“ ” آخری صفحہ پر نہ جاؤ وغیرہ وغیرہ۔۔ اب بچہ سوچتا کہ جب وہ کھلونوں سے کھیل رہا ہوتاہے تب تو والدین اس طرح نہیں ٹوکتے۔ وہ پھر کتاب کے سامے اری ٹیشن کا شکار ہو جاتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اسکے مقابلے میں تو کھلونے ہی اچھے ہیں جن کے ساتھ وہ آذادانہ طور پر کھیل تو سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کے ساتھ ایک دم ہائیپر ہو کر ایسی باتیں کرنے سے ان کی کتابوں میں دلچسبی مذید کم ہو جاۓ گی۔ کوشش کریں کہ اس کوایک بار کتاب کا اپنےطور پر مکمل جائزہ لے لینے دیں پھر جب وہ اپنی تسکین پوری کر چکے پھر کتاب کا متن سمجھانے میں کوئی مضائکہ نہیں ہے۔
مسکراؤ کہ رونے کے لیے کوئی دن نہیں بنا
مطالعہ کی عادت پیدا کرنا
بچہ تب تک کتاب میں دلچسبی نہیں لے گا جب تک کہ اس کے اندر مطالعہ کی عادت پیدا نہیں ہو پاتی۔ہم نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن کو رات کو تب تک نیندنہیں آتی جب تک وہ کتابکے چند اوراق کا مطالعہ نہ کر لیں۔ مطالعہ کی اس عادت کو ڈویلپ کرنے میں بہت سے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ اگر بچپنسے ہی والدین کتابوں اور ان میں لکھی معلومات کے بارے میں حوالہ دے کرگفتگو کریں, کتابوں کو فہم و فراست کی دنیا کی اس کھڑکی کے طور پر متعارف کروائیں جس کا نظارہ آنکھوں کو اس قدر بھلا لگے کہ پھر تمام عمر اس کھڑکی کو بند کرنے کا خیال بھی نہ ذہن میں آۓ۔۔
بلاشبہ کتابوں میں علم کا وہ خزانہ چھپا ہے جو ہمیں سوشل میڈیا پر بھی نہیں مل سکتا۔۔
سوشل میڈیا کی تحریروں اور کتابوں کا فرق
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا صرف ایک کلک کے فاصلےپر آ کھڑی ہوئی ہے۔ لیکن دیکھا جاۓ تو سوشل میڈیا رائیٹرز اور کتابوں کے معروف لکھاریوں میں سب سے بڑافرق تعلیم ہے۔۔ سوشل میڈیا پر تو کوئی شخص بھی میٹرک ایف اے پاس اپنے الفاظ لکھ لےگا اور ہمارےپاس کوئی ثبوت بھی نہیں کہ یہ معلومات کتنی مصدقہ ہیں جبکہ ایک کتاب کا خالق اپنی زندگی کے مطالعے اور تجربےکا نچوڑ لکھتا ہے۔اگر یہ بات ہمارے نوجوان ہوتے بچے سمجھ پائیں تو کتابوں کی نگری کو اپنا بسیرا بنا لیں۔
بچوں کی کتابوں میں دلچسپی کیسے پیدا کریں؟