358

بڑا سائیں

تحریر شئیر کریں

بڑا سائیں

مردوں کے لیے تازیانہ جو عورت کو جوتی کی نوک پہ رکھتے ہیں۔

بابا جی سنا ہے آپ کی بہوی بڑی خطرناک عورت تھی۔؟ سوال نہیں تھا ایک بولتی حقیقت تھی ۔وہ واقعتا بڑی خطرناک عورت تھی جبھی تو اسے طلاق دے دی تھی اس ں نے۔بھری دوپہر میں برگد کے اس پیڑ کے نیچے بیٹھا وہ بوڑھا اتنی گھنی چھاؤں میں بھی بے سائباں لگ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
زمانے بیت جاتے ہیں مگر اپنے اندر تلخ حقائق کی جمع پونجی چھوڑ جاتے ہیں۔یہ جمع پونجی ہی انسان کی اصل کمائی ہوتی ہے۔جو انسان نے اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوتی ہے۔یہی تو رونا ہوتا کہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی اس کے اپنے کرتوت ہی اس کے لیے وبال جاں بن جاتے۔جس کے ساۓ میں بیٹھ کر وہ ہمیشہ پچھتاوں کے گیت لکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
جس بات کی ابتداء سوال سے
ہوئی تھی اس نے جوابوں کی لمبی پٹاری کھول دی تھی۔ایسی پٹاری جس کے اندر بالن ہی بالن تھا۔گناہوں پچھتاوں کا بالن۔
اماں آپ بھی نا میں نے نئیں کرنی کسی غریب لڑکی سے شادی۔غریب کی بیٹی کو ہمیشہ پیٹ کی فکر ستاتی ہے۔تربیت کا خانہ کہیں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔اور یہ بہت کڑا سچ بھی ہے۔جس نمانی نے بھوک دیکھی ہو اس کے آسے پاسے تو بھوک ہی ناچے گی نا!پر اماں کو کون سمجھاتا بقول اماں کے وہ نمانی ایسی دل کو بھائی کہ پھر اماں نے اسے میری دلہن بنا کر چھوڑا۔۔۔دھان پان سی تھی۔اوپر سے بے زبان بھی۔مجھے پہلی دفعہ دیکھنے پہ اس میں کوئی خاص کشش محسوس نہ ہوئی ۔اور ہوتی بھی کیسے میں ٹھہرا ایک نظر باز قسم کا مرد جس کی نظر میں بھرا پرا حسن ہی قبولیت کے درجے پہ پہنچتا ہے سوکھا سڑا نہیں۔مگر ضمیر نے بڑی کمینگی سے دلیل پیش کی تھی کہ چلو اچھا ہوا بےضرر سے عورت ہے ایک کونے میں پڑی خدمت کرتی رہے گی نا سوال نا جواب۔اس کے باپ نے بھی رخصتی کے وقت یہی کہا تھا کہ میری بیٹی سیدھی سی ہے زیادہ بولتی نہیں مگر اس کا سائیں بڑا ڈھاڈا ہے ۔اور اس نے بڑے فخریہ انداز میں کالر جھاڑے تھے۔
۔۔۔۔۔
وہ دلہن بن کر آچکی تھی مگر میری روٹین میں کوئی فرق نا آیا تھا۔اس کے آنے کے کچھ عرصے بعد ہی اماں بھی چل بسی تھی اب گھر میں ہم دو ہی نفوس باقی رہ گۓ۔میں سارادن باہر ہوتا اور رات گۓ پلٹ کے آتا تھا۔جوا نشہ اور نظر بازی ۔۔کونسی لت نہیں تھی جو مجھ میں نا ہو۔وہ چپ چاپ دیکھتی رہتی ۔۔۔۔جو گھر میں موجود ہوتا پکا کر آگے رکھ دیتی۔نا ہوتا تو بیٹھی رہتی بھوکی پیاسی۔میرا موڈ ہوتا تو لا دیتاا نہیں تو نا سہی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
ایک دن وہ نمانی بولی آپ گھر کا راشن ایک ہی بار پورے مہینے لا دیا کریں۔اوہ میرا تو خون ہی کھول اٹھا ہوئی ناغریب کی بیٹی فکر ہے بھی تو راشن کی۔۔۔۔میں نے پکڑ کر دھلائی کر دی۔زبان دراز عورتیں مجھے بھلا کہاں پسند تھیں ۔وہ۔کمزور وجود کی تھی ۔بہت سے دن اٹھ نا سکی مگر پروا کسے تھی؟
۔۔۔۔
یہ اس کی دھلائی کا ایک ہفتے بعد کی بات ہے۔جسے سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔ہوا کچھ یوں کہ میری ہمسائی نے بتایا کہ تمہارے گھر سے باتوں کی آوازیں آتیں ہیں۔اور اب مجھے بے چینی لگ گئ کہ آخر وہ کس سے باتیں کرتی ہے میری غیر موجودگی میں۔اور پھر ایک دن میں کان لگا کر کھڑا ہوگیا۔ وہ کہہ رہی تھی بزے سائیں آپ نے جب تک میرا رزق اپنے ہاتھ میں رکھا تب تک تو ٹھیک تھا مگر جب سے تو نے اپنے بندے کے ہاتھ میں دیا ہے یہ مجھے زبان سے تو تکلیف دیتا ہی تھا مگر اب مارتا بھی ہے۔اتنی رسوائی میں نہیں سہہ سکتی ،سلائی کرتے ہاتھ اپنی ہی دھن میں شکوہ کناںتھے۔میں دنگ رہ گیا تھا۔کون تھا اس کا بڑا سائیں جو مجھ سے بھی پہلے اسے رزق دیتا تھا۔اور عزت سے دیتا تھا۔جب انکشاف کے بادل چھٹے تو میں ڈر گیا تھا۔اندر سے دہل گیا۔
۔۔۔۔
اور پھر اگلے ہی دن میں اسے اسکے باپ کی دہلیز پہ چھوڑ آیا تھا طلاق دے کر۔جب اس کے باپ نے وجہ پوچھی تو بس یہی کہہ سکا کہ اس کا سائیں بڑا ڈاھڈا ہے۔کہیں گرفت میں نالے لے۔یہ میری شکایتیں کرتی رہتی ہے۔جس پر اس کا باپ بولا میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ اس کا سائیں بڑا ڈاھڈا ہے۔اسے تو صرف اسے ہی رازی کرنا آتا ہے۔
۔۔۔۔
میں ایک جواری تھا۔زندگی میں بہت سے جوے ہارے تھے مگر یہ کیسا جوا تھا جس کی کسک دل سے جاتی ہی نا تھی۔اسے چھوڑنے کے بعد میں بہت پچھتایا ۔بلکہ آج تک اس کی یاد ستاتی ہے۔وہ سوکھے سڑے وجود والی مگر روشن اور تروتازہ ایمان رکھنے والی عورت بھلا کہاں سے ملے گی اب۔۔۔
پھر بالآخر مجھے سمجھ ؤ ہی گیا کہ میں نے اسے طلاق دینے میں جلدی کیوں کر ڈالی تھی۔رات وہ یہی تو دعا کر رہی تھی بڑے سائیں سے کہ تو مجھے اپنے پاس سے رزق دے۔اور پھر پھر ذمے سے اس کا رزق تو ختم ہونا ہی تھا۔

۔۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک بڑی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔میں اسکی زندگی میں تو ٹس سے مس نا ہو سکا مگر اس کے جانے کے بعد سرتاپا بدل گیا تھا۔بڑے سائیں کا ہر دم ڈر رکھنے والا۔اس کی یاد کوکبھی نا بھلانے والا وہ بوڑھا جو برگد کے درخت کے نیچے بیٹھا اس کی مخلوق کو اس سے ملانے کی تگ ودو کرتا رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں