بھوک بدلہ اور ایک دروازہ

بھوک بدلہ اور ایک دروازہ میری زندگی کی وہ حقیقت ہے جس نے مجھے بچپن میں ہی وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔
باپ کی موت اور حق کا چھن جانا
جب ابا فوت ہوئے تو چاچی نے ہمارے حصے پر قبضہ کر لیا۔ اماں نے بہت دروازے کھٹکھٹائے مگر کہیں انصاف نہ ملا۔ ظلم سہتے سہتے اماں بھی دنیا سے رخصت ہو گئیں، اور میں اکیلا رہ گیا۔
سڑکیں، بھوک اور آنسو
کم عمری میں سڑکوں پر گاڑیاں صاف کرنا میری مجبوری بن گیا۔ کئی راتیں بھوکا سویا، اور کئی دن آنسوؤں کے ساتھ گزارے۔ ایک رات بھوک کی شدت سے میں روتے ہوئے شیشے صاف کر رہا تھا کہ اچانک ایک کالی شیشوں والی گاڑی میرے سامنے آ کر رکی۔
کالی گاڑی اور زندگی بدلنے کی پیشکش
شیشہ نیچے ہوا اور اندر سے آواز آئی:
“اگر زندگی بدلنا چاہتے ہو تو پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاؤ، پیٹ بھر کھانا ملے گا۔”
میں نے کوئی سوال نہ کیا۔ بھوک نے میرے فیصلے کر لیے تھے۔
چار سال کی خاموش تبدیلی
انہوں نے مجھے کھانا دیا، رہائش دی اور کام سکھایا۔ میں نے کبھی ان کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی۔ چار سال گزر گئے اور میں وہ لڑکا نہیں رہا تھا جو سڑکوں پر روتا تھا۔
واپسی — بدلے کے ارادے سے
ایک دن میں عالیشان گاڑی میں بیٹھا اپنے پرانے محلے لوٹا۔ دل میں صرف بدلہ تھا۔ جیسے ہی گاڑی چچا کے گھر کے سامنے رکی، میں نے خود کو مضبوط کیا اور آگے بڑھا۔
وہ دروازہ اور ہلا دینے والا انکشاف
دروازے پر لکھا نام دیکھ کر میرا جسم لرز گیا۔
جس شخص نے مجھے سڑک سے اٹھایا تھا،
جس نے مجھے پہلی بار پیٹ بھر کھانا دیا تھا،
وہی اس دروازے کے پیچھے تھا۔
انجام — بدلے سے پہلے سچ
میں سمجھ گیا کہ ہر دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے دکھائی دے، اور ہر سہارا محض اتفاق نہیں ہوتا۔ بعض دروازے انسان کو بدلہ نہیں، بیداری دیتے ہیں۔
بھوک بدلہ اور ایک دروازہ مجھے یہ سکھا گیا کہ اصل جنگ دوسروں سے نہیں، اپنے اندر کے اندھیرے سے ہوتی ہے۔
—
یہ بھی پڑھیے