بیٹیوں کا وراثت میں حصہ
ہر انسان کی زندگی مختلف ہوتی ہے۔ جینے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے اور ان کے غم بھی الگ ہی ہوتے ہیں کسی کے لئے زندگی کسی اور وجہ سے مشکل لگتی ہے تو کسی کو کسی اور وجہ سے۔
یہاں ہم بات کریں گے بیٹیوں کے غم کی ایسی شادی شدہ بہن اور بیٹیوں کے غم کی جن کو اپنوں سے دور کردیا جاتا ہے۔ جائداد میں حصہ نہ دینا پڑ ے اس خوف سے وہ بہنوں سے دور ہوجاتے ہیں ان سے اکھڑے اکھڑے رہتےہیں۔ جب وہ گھر آتی ہین ان سے کتراتے ہیں ساتھ بیٹھ کر کھانا نہین کھاتے۔ بہت سی بیٹیاں ، بہنیں ایسی شکایات کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کے بھائی اچانک ان سے بیزار ہوتے ہیں جس کی وجہ ان کا یہ خوف ہوتا ہے کہ بہنیں اپنا حصہ نہ مانگ لیں۔ اور وہ اس میں ایک ماں کو بھی تکلیف دیتے ہیں جو بیٹی سے دور ہونے پر مجبور ہوتی ہے۔
ان سب سے بہتر یہ کیوں نہیں کرتے جو اسلام نے ہمیں بتایا ہے شریعت میں بتایا گیا ہے بہنوں کو شریعت کے مطابق ان کا حصہ ان کو دے دیا جائے۔ تا کہ ہم آخرت میں بھی جواب دہ نہ ہوں اور کسی کے حق پر قابض ہونے سے بچ جائیں۔
اکثر بہنوں کی وراثت کے وقت یہ باتیں بھی بہت ہوتی ہے کہ اس کی شادی میں تو بہت خرچہ کیا ہے وہ حصے کے برابر تھا اتنا مہنگا جہیز دیا اس میں خرچہ ہوگیا اب الگ سے حصہ کیوں دیں۔ ان دو چیزوں کو کبھی ساتھ نہیں جوڑنا چاہئے جو آپ نے شادی پر خرچہ کیا وہ حبہ تھا تحفے کے طور پر آپ نے کیا۔ اسلام میں یہ فضول خرچی کہا جاتا ہے
اس کی اجازت بھی نہیں ہےکیونکہ یہ فائدہ نہیں دیتا مگر یہ آپ نے کیا ہے تو معاشرے کو دکھانے کے لئے کیا ہے ۔ بہن کا جو حق ہے وہ اس کا وراثت میں حصہ ہے اس کو نہ دینے کا آپ کوئی بہانہ نہیں بناسکتے کیونکہ اس پر اس کا بھی حق ہے۔ جس طرح یہ جائداد آپ کے کام آسکتی ہے ویسے ہی آپ کے بہن کے بھی کام آئے گی۔
کوئی آپ سے کہے نہ کہے آپ اسے اس کا حق لازمی دیں کیونکہ بہنیں اور بیٹیاں بولتی نہیں ہیں صرف روتی ہیں خاموش رہتی ہیں کیونکہ انہیں یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ جائیداد کی وجہ سے ان کے بھائی انہیں نہ چھوڑ دیں انہوں رشتوں کے کھودینے کا بھی خوف ہوتا ہے۔
اپنی بہنوں کا حق انہیں لازمی دیں اور جو بڑے بزرگ ہیں انہیں چاہئے کہ اس بات کویقینی بنائیں کہ کوئی بہن حق سے محروم نہ ہو۔قیامت کے دن اس حوالے سے بڑی۔وعیدیں ہیں۔ہمیں رشتوں کے حقوق کے حوالے سے ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے
بیٹیوں کا وراثت میں حصہ