309

تاریخ کی غردار قوم

تحریر شئیر کریں

۔۔۔تاریخ کی غدار قوم۔۔۔
تحریر:”محمد عاقب جدون۔“
تاریخ اسلام جہاں ایک طرف ان وفاشعاروں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے خونِ جگر دے کر اسلام اور داعیانِ اسلام سے وفاداری نبھاٸی۔۔تو وہیں تاریخ اپنے دامن میں کچھ ایسے بد نما چہروں کو بھی چھپاۓ ہوے ہے جن کے دامن غدّاری کے جرمِ عظیم سے داغدار ہیں۔۔ اسی نشیب و فراز میں اگر ”کوفی قوم“ کو تاریخ اسلام کی سب سے غدار قوم قرار دیا جاۓ تو شاٸد بے جا نہ ہو جنہوں نے ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہوۓ ہر دور میں اپنے ہمدردوں اور وفاداروں کو کٹوانے میں کوٸی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔۔”حضرت علیؓ“ کے لشکر میں بھی اکثریت کوفیوں کی ہی تھی۔۔۔ اسی وجہ سے آپؓ نے اپنا دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔۔ لیکن پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ایک گروہ خوارج کی صورت میں آپؓ کے لشکر سے جدا ہو کر آپؓ کو موردِ الزام ٹہرانے لگا اور جو آپؓ کے ساتھ تھے اور اپنے آپ کو شیعانِ علی کہا کرتے تھے وہ بھی اعلانیہ آپؓ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے لگے۔۔ یہی وجہ تھی کہ آپؓ کسی بڑی جنگی کارواٸی سے باز رہے۔۔ نیز یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ”سیدنا حسنؓ“ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور پھر کچھ تاریخی روایات کے مطابق زہر دلوا کر شہید بھی کردیا۔۔۔
60ھ میں جب یزید تخت نشین ہوا تو یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ”حضرت حسینؓ“ کو ”18 ہزار“ خطوط لکھےاور یزید کے خلاف خروج پر آمادہ کیا۔۔ اور ہھر آپؓ کے سفیر ”حضرت مسلم بن عقیل“ کے ہاتھ پر پہلے ہی روز ”12 ہزار“ لوگوں نے بیعت بھی کر لی۔۔ لیکن جب ”حضرت امام حسینؓ“ نے خروج فرمایا تو غدارانِ کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ مل گٸے اور آخرکار میدان کربلا میں ”نواسہ رسول“ کو بھوکا پیاسا شہید کردیا۔۔۔
کوفیوں کی غداری فقط امام حسینؓ کی شہادت تک محدود نہ رہی بلکہ چشم فلک نے غدارانِ کوفہ ہی کی بدولت 71ھ میں مقامِ جاثلیق میں ایک اور کربلا کا منظر دیکھا جب عبدالملک بن مروان ”حضرت عبدللہ بن زبیر“ کی طرف سے مقرر شدہ گورنر کوفہ اور ان کے بھاٸی ”حضرت مصعب بن زبیر“ کے مقابل آیا۔۔ تو عین میدانِ جنگ میں کوفی ”حضرت مصعب“ کا ساتھ چھوڑ کر عبدالملک کے ساتھ مل گٸے۔۔اور”حضرت مصعب بن زبیر“ کے ساتھ میدان میں صرف سات آدمی رہ گٸے۔۔اور بمثل کربلا مقامِ جاثلیق میں نواسہ رسول کی طرح نواسہ صدیقؓ بھی کوفیوں کی غدارکی بھینٹ چڑھ گٸے۔۔
یوں ہی 122ھ میں جب ہشام بن عبدالملک کی طرف سے یوسف ثقفی کوفہ کا گورنر تھا تو کوفہ میں ”15 ہزار“ لوگوں نے ”حضرت زید بن علی بن حسین بن علیؓ“ کے ہاتھ پر بیعت کی اور گورنرِ کوفہ کے خلاف خروج پر آمادہ کیا لیکن جب میدانِ کارزار میں تلوار چلانے اور مردانگی دکھانے کا وقت آیا تو بیعت فسخ کر کے گھروں کو چل دٸیے اور حضرت زید بن علی کے ساتھ میدان جنگ میں صرف 122 آدمی رہ گٸے زید بن علی کوفہ میں ایک ایک شخص کے گھر تک گٸے اور اپنا کیا ہوا عہد و پیمان یاد دلایا لیکن کوفی جو کہ پہلے ہی ”کوفی لا یوفی“ مشہور تھے کسی نے جواب تک نہ دیا اور زید بن علی نے اسی وقت سے ان غداران کو ”رافضی“ کا خطاب دیا۔۔ اور میدان جنگ میں جام شہادت نوش کردیا۔۔۔۔صرف یہی نہیں بلکہ کوفہ سے اُٹھنے والے غداران کا یہ گروہ ہمیشہ اسلام کیلے آستین کا سانپ بنا رہا۔۔ تاریخ شاہد ہے میدانِ کارزار میں معتصم باللہ کو تن تنہا چھوڑنے والا ابن علقمی ہو۔۔ یا انگریز کے مقابلے میں سلطان سراج الدولہ سے غداری کا ارتکاب کرنے والا میر صادق، ٹیپو سلطان کو میدان جہاد میں اکیلے چھوڑنے والا میر جعفر ہو یا مشرقی پاکستان کو پیچنے والا جنرل یحیٰ۔۔ سب ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے والے بھیڑیے ہیں جو ہمیشہ ہی اپنے خونخوار دانتوں سے اسلام کے سینے کو چاک کرنے میں ملوث رہے۔۔۔ داعیانِ اسلام کیلے مقامِ فکر ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھتے ہوۓ آگے بڑھیں۔۔اور ان تمام خونخوار درندہ نما انسانوں سے ہوشیار رہیں جو کسی بھی لمحے اسلام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔ اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوۓ منزل کی طرف گامزن رہیں۔۔ جب متحد ہو کر ہمارے قدم منزل کی جانب اُٹھیں گے تو وہ وقت دور نہیں جب منزل ہماری قدم بوسی سے باریاب ہو گی۔۔
فرد قاٸم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں۔۔
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں