تجھ پہ فدا پیارے نبی
تحریر : منیبہ مختار اعوان
ربیع الاول کے مہینے میں موبائل پہ ایک ہی پوسٹ بار بار نظر سے گزر رہی ہے !
” میرے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تجھ پہ سب کچھ فدا” یہ جملہ ہے یا نعرہ ، میں اسے کئی دفعہ سن چکی ہوں مگر کبھی سوچ اتنی گہرائی میں نہیں گئی ، آج ذہن میں ایک ایسی جنگ چھڑی کہ ذہن کے دریچے جیسے ہوا کے جھونکے سے ٹھا کر کے لگے ہوں اور ذہن کے درو دیوار ہلنے لگے ہوں ، ذہن میں نئے نئے سوالات جنم لینے لگے:
کیا واقعی میں نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر جان قربان کر سکتی ہوں ؟
یا یہ جملہ محض نعت کی زینت و آرائش کے لیے مختص ہو چکا ہے ، کیا میرا تقوی میرا جذبہ اس قابل ہے کہ میں یہ ڈنکے کی چوٹ پر نا صرف دعویٰ کر سکوں بلکہ وقت آنے پر جان دے بھی سکوں ، مگر اپنے جذبے ، تقوی کی پیمائش کہاں جا کر کروں ؟ کیا کوئی ایسا پیمائشی میٹر ہے کہ جس سے یہ مانپا جا سکے کہ مجھے نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی محبت ہے ؟ چلو ایک لمحہ کے لیے سوچ بھی لیا جائے کہ ہاں مجھے نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہے ، تو کیا یہ محبت کچھ اغراض بھی رکھتی ہے یا یہ بے غرضانہ محبت ہے،
ان سوالات نے مجھے پریشان کر دیا تھا، پریشانی کے عالم میں ایک ہی شعر ذہن میں آرہا تھا کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
میاں وہ دن گئے اب یہ حماقت کون کرتا ہے
وہ کیا کہتے ہیں اُس کو، ہاں، محبت، کون کرتا ہے
کوئی جنت کا طالب ہے، کوئی غم سے پریشاں ہے
غرض سجدے کراتی ہے۔۔ عبادت کون کرتا ہے
ان اشعار نے میری پریشانی میں اصافہ کر دیا تھا ۔ میں ڈر گئی تھی کہ اگر میری محبت میں کمی نکلی تو کیا بنے گا؟
پھر میں اس محبت کے مقاصد پہ غور کرنے لگی ، اگر اس محبت کے کچھ مقاصد ہیں تو وہ کیا ہو سکتے ہیں ؟
یہ سوالات میرے ذہن میں ڈگمگانے لگے اور میں ان کے جوابات سوچنے لگی،
مقاصد بھی بہت سارے تھے اور ان کے جوابات بھی مجھے آسانی سے ملنے لگے ، مثلاً اللہ کا حکم ہے ، خود نبی کا حکم ہے ، اطاعت رسول ہی جنت میں لیجائے گی اور جہنم سے بچائے گی وغیرہ وغیرہ ، جن کی ایک لمبی فہرست ہے ۔
دنیا کی رونقوں میں مصروف ایک عرصہ ذہن کی کھڑکیاں بند رہنے کے بعد جب کھلیں اور ایک حدیث میری نظروں کے سامنے سے گزری ، اس تاویل حدیث کا کچھ حصہ عرض ہے
حدیث سے ثابت ہے کہ:
اے محمد! اپنا سرِ (انور) اُٹھائیں، اپنی بات کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: میرے ربّ! میری اُمت، میری اُمت، پس فرمایا جائے گا: جائیں اور جہنم سے ہر ایسے اُمتی کو نکال لیں جس کے دل میں جَو کے برابر بھی ایمان ہو۔
اس حدیث نے مجھ پہ رقت طاری کر دی اور آنسوؤں کی جھری لگ گئ ۔ جب نفسا نفسی کا دور ہو گا ، سب اپنی جان بچانے کے در پر ہوں گے ، کوئی کسی کے زرہ برابر کام نا آئے گا ایسے میں نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں سر رکھے گے ، اور اس وقت تک نہیں اٹھائیں گے جب تک ان کی امت کی شفاعت نہیں ہو جائے گی ، ہر شخص پکارے گا نفسہ نفسی ،واحد میرا نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے گا یا “ربی امتی” یا اللہ میری امت ۔۔۔۔
ایسے نبی (محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) پہ تو آنکھیں بند کر کے مر جانے کا جی چاہتا ہے ۔ میرے دل میں کس کے لیے کتنی محبت ہے ، میں اس بات کی پیمائش اس شخص کی مجھ سے محبت دیکھ کر کرتی ہوں اور پھر وہ نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم جس نے تمام زندگی قیام ،سجود میں امت کے لیے دعائیں مانگتے گزار دیں ، میرے اور آپ کے لیے اپنی نیندیں قربان کر دیں ایسے نبی (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) پر میری جان کیوں نا فدا ہو
” میرے پیارے نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تجھ پہ سب کچھ فدا”
تجھ پہ فدا پیارے نبی