396

جام امید

تحریر شئیر کریں

جام امید

نصرت یوسف

سوہانجنا کے درخت پر دوڑتی نھنھی گلہری اور سر سبز شاخوں پر لگے دسمبر کی نرم سی دھوپ میں سکتے سفید پھول بہت دلکش منظر ،  آنکھ کی پتلی پر یہ ٹہرا  رہتا تو دل مگن ہی رہتا لیکن سرد ہوا سے ہلتی ٹہنیوں کے ساتھ یادیں ایسی ابھریں گویا  وہاں کوئ روزن تھا جو یادوں نے پایا اور وہ قطار بناتیں آنے لگیں…جیسے لڑی ٹوٹ گئ ہو اور انکو روکنا اختیار سے باہر ہو.
کئ پیارے جو مٹی تلے چلے گۓ، جن کی جدائ کے بعد انکی دنیا کی قیام گاہوں پر جاکر  دل بے کل سا لگتا ہے، یاد آجاۓ تو ان پیاروں کے بجائے اداسی اردگرد دکھتی ، مکانوں کے دریچوں سے جھانکتی ہے تو اس مقام سے کوچ بہتر لگتا ہے، لیکن کہاں کہاں سے انسان بھاگے، عمر کے ساتھ لگتا ہے انسان ہر پیارے کی موت کے ساتھ قسطوں میں مرتا ہے.. پھر ایک دن جسم کی آخری پرت لینے عزرائیل آجاتے ہیں َاور انسان زمین کے اوپر سے زمین کے نیچے پہنچ جاتا ہے.
اس آنے جانے میں کیا ملا اسکو؟
جو زمین کے اوپر آکر زمین  نے دیا وہ تو وہیں چھوڑ کر جانا تھا..
زمین کے نیچے جا کر کیا ملا؟
وہاں وہ ملا جو اس نے زمین پر خیر یا شر کی صورت میں خریدا.
دنیا میں کئ طرح کے سودے انسان کرتا ہے،
مال سے تجارت کرتا ہے
جذبوں کی سوداگری ہوتی ہے
وقت کا مول لگاتا  ہے
اور پھر زمین پر اسکے نقش بنانے کی مدت ختم ہوتے ہی اسے ہٹا لیا جاتا ہے.
زمین پر اربوں کھربوں انسان آۓ، اور مستقل یہ آمد جاری ہے. یہ ایسا ہی ہے جیسے ہوائی اڈہ پر مسافروں کے سامان کے لیے رواں کنویور بیلٹ پر رکھا سامان گھومتا ہو اور ہر آن بیلٹ سے کوئ شۓ ہٹائ اور نئ رکھی جاتی ہو. متحرک بیلٹ اگر دنیا کے طور پر لیں تو  رکھا سامان انسان، جسکو نہیں علم عمر کے کس مقام پر وہ دنیا سے نکال لیا جاۓ.
یہ منظر اور یہ سوچ مجھے خوبصورت اور جگمگاتے ماحول سے یکدم وہاں لے گئ جہاں فنا ہے اور حساب ہے. جہاں دنیا ایک دھوکہ دیتے مناظر کی مقناطیس مانند کھینچتی اپلیکیشن ہے، اس میں گم انسان  آخری منظر کا حصہ بننے سرکتا جارہا ہے. آخری منظر طربیہ ہوگا یا المیہ، کون جانے؟
کون جانے بہار میں ڈھالے یا مسمار کردیئے جائیں اعمال.
جھرجھری دوڑ جاتی ہے، رحمت ربانی کا آسرا یاد آتا ہے. اسکی عنایتوں پر نظر جاتی ہے تو امید بندھتی ہے.
امیدیں کہتی ہیں کہ مدارتوں کے لیے خدا واحد ہی کو بس ناخدا بناتے حب رسول کی پتواریں سنبھالتے زندگی گزارنی ہے.

جام امید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں