400

جب دل جلے

تحریر شئیر کریں

جب دل جلے

تحریر ام۔سلیمان

  

فاختہ….!! اری او فاختہ!!
اے کہاں مر گئی؟ ادھر آ….!
ایک تو ان آج کل کی لڑکیوں سے تنگ ہوں میں… ذرا جو آواز پہ کان دھر لیں۔ مجال ہے پہلی آواز پہ سن لیں بات کسی کی۔ ہر وقت کانوں میں گھنٹیاں ڈالے بیٹھی رہتی ہیں۔“

”آ رہی ہوں دادی حضور….“ فاختہ سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی آئی.
”جی دادی حضور! فرمائیے…. فاختہ جبیں سے کیا کام پڑ گیا آپ کو؟“ شوخ سی آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی۔

”اے بی تم سے آرام سے نہیں چلا جاتا؟ یہ کیا ہر وقت کدکڑے لگاتی رہتی ہو!!“
دادی اماں اصل بات بھول کے اس کے اچھلنے کودنے کی عادت پہ معترض ہوئیں۔

”لو بھئی! نام تو رکھ دیا فاختہ جبیں اور چاہتی ہیں آرام سے بیٹھی رہوں…
ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا دادی حضور!! ہر وقت پنکھ پھڑ پھڑانے کو اور دور آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جانے کو دل چاہتا ہے…..“ اور ابھی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ دادی اماں کا دھموکا کمر پہ آن لگا…..!

”اوئی دادی ماں… کیا ہو گیا؟“ فاختہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں جو آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے بند ہونے لگی تھیں۔

”بی بی! ہم نے تمہارا نام فاختہ رکھا ہے، اڑن طشتری نہیں رکھا!! اس لیے آسمانوں میں پرواز کرنے کا خیال چھوڑ دو۔ آئی سمجھ ؟؟“

”اچھا نا دادی اماں! کام تو بتائیے کیا کام ہے کیوں بلایا تھا آپ نے امن کی فاختہ کو؟“

”میں کہہ رہی تھی یہ کون ماچسوں کا دشمن پیدا ہو گیا ہے…؟ یہ دیکھو ذرا… دو ڈبیا خالی ہوئی پڑی ہیں چولہے کے پاس۔ ارے میں پوچھتی ہوں یہ اتنی تیلیاں جلانے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا تیلیاں جلا جلا کے کھیل رہی تھی مہارانی؟ آئے کیا گھر کی معیشت کا بھٹا بٹھاؤ گی بی بی؟“

”اوہو…. دادی حضور!! آپ بھی نا بس…!! سمجھتی نہیں ہیں بات کو اور نکل پڑتی ہیں رات کو…
دراصل بات یہ ہے کہ صبح سے گیس غائب ہے اور دسیوں مرتبہ اماں کے کہنے پر اور پچاسیوں مرتبہ صرف اپنا تجسّس دور کرنے کی خاطر ہم نے ہر دو اور پانچ منٹ بعد چولہا جلاجلا کے دیکھا کہ شاید کوئی ننھا منا چراغ ٹمٹما جائے… مگر مجال ہے جو کوئی انگارہ جھپکا ہو یا کوئی شعلہ لپکا ہو۔ ٹھنڈے کے ٹھنڈے ہی پڑے ہیں چولہے صبح سے۔“ فاختہ مطمئن سی بولتی رہی… لیکن دادی جان کا اطمینان رخصت ہوا.. انھیں تو اس وقت ادرک کے قہوے کی شدید طلب ہو رہی تھی سو توپوں کا رخ عمران خان کی طرف ہو گیا….

”آئے ہائے عمران خان! اللہ کرے تیرا بیڑہ غرق جائے… بنی گالا میں زلزلہ آ جائے.. تیری شاندار کوٹھی، ملبے کا ڈھیر بن جائے…. دیسی بکرے اور دیسی مرغیاں کھانے والے…!! اللہ کرے تو برائیلر چکن کو بھی ترسے…!!“
دادی اماں نے خوب دوپٹے پھیلا پھیلا کے عمران خان کو کوسا.

ادھر فاختہ کے ہنس ہنس کے پیٹ میں بل پڑے جا رہے تھے… بس کر دیں دادی حضور…!! دوپٹے میں چھید ہیں آپ کے، ساری بد دعائیں نیچے نکل نکل کے گر رہی ہیں!
٭٭٭٭٭٭

جب سے سردیاں شروع ہوئیں روز کا معمول بن گیا تھا، صبح، دوپہر، شام باقاعدگی سے گیس کی لوڈشیڈنگ ہورہی تھی. مگر گھر کی جہاں دیدہ خواتین نے بھی اپنے کھانے پکانے کے اوقات گیس کی آمد کے اوقات کے ساتھ ساتھ سیٹ کر لیے تھے اور ایمرجنسی کے لیے چھوٹے سلنڈر والا چولہا رکھا ہوا تھا جس پر دیر سویر ہوتے وقت کام چلا لیا جاتا۔ مگر آج تو سلنڈر میں بھی گیس ختم ہو گئی تھی اور فیضان بھی گھر پہ نہیں تھا جو سلنڈر ہی بھروا لاتا۔ سو دادی اماں کا پارہ تھرمامیٹر سے باہر نکلا جا رہا تھا۔

”کیسی ہو خالہ اماں! دودن سے چکر ہی نہیں لگایا ہماری طرف.. کوئی ناراضی ہو گئی کیا؟“ پڑوس کی شبانہ بھی اپنے ٹیپو سلطان کو گود میں چڑھائے آ دھمکی.

”ارے نہیں شبانہ بیٹی! بھلا تم سے کیسی ناراضی… یہ موا جوڑوں کا درد ہی پیچھا نہیں چھوڑتا کہ کچھ ادھر ادھر کی خبر لی جائے۔ تم سناؤ کیسی ہو؟ بچے کیسے ہیں؟ گیس آ رہی ہے تمہاری طرف…؟“ ناک پہ چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا۔

”اے لو خالہ اماں!! میرا گھر کون سا دو کوس پرے ہے جو گیس کا پوچھ رہی ہیں مجھ سے.. یہ رہی پڑوس میں! جو آپ کا حال وہی میرا حال۔
صبح سے گیس نہیں آئی. بچے بھوک سے بے تاب ہو رہے تھے تو رشید بھائی کے ٹھیلے سے آلو کی بریانی منگا کر کھلائی ہے تب کہیں جا کے سکون سے بیٹھے ہیں۔ مگر دیکھ لو عصر کا وقت ہو گیا اور گیس ابھی تک نہیں آئی۔“

اتنے میں راحیلہ بھابھی (فاختہ کی امی) بھی عصر کی نماز پڑھ کر جائے نماز لپیٹتی ہوئی ان کے پاس آ گئیں اور محبت سے شبانہ کا حال احوال پوچھا… کیسی گزر رہی ہے شبانہ؟

”بس کیا بتاؤں بھابھی ..! زندگی بڑی عجیب سی ہو گئی ہے۔ سارا سارا دن چولہے ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کا ساتھ ہے، کھانا پکانے کے علاوہ بھی دسیوں کام ہوتے ہیں چولہے کے… کبھی پانی گرم کرنا، کبھی دودھ گرم کرنا، کبھی چائے بنانا، کبھی سالن گرم کرنا… سارا دن اسی ادھیڑ بن میں گزر جاتا ہے بس کہ بار بار کچن میں جا کر گیس چیک کرتے رہو !!“

”ارے ٹھیک کہہ رہی ہو شبانہ! اب تو گیس آ بھی جائے تو اتنی نہیں ہوتی کہ کچھ کام کر لیا جائے.. بار بار چولہا بھڑک کے بجھ جاتا ہے۔ ورنہ پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ گیس کے اوقات میں بھر کے چولہے جلتے تھے، جلدی جلدی سارے کام نمٹ جاتے تھے۔ اب تو گیس بھی بہت ہلکی آتی ہے۔

”ارے ہاں تو جب پڑوس میں چاروں طرف گیس پریشر پمپ لگنے لگیں تو ہم جیسوں کے گھروں میں گیس کہاں سے آئے گی بھلا..!!“

”آئے سچ کہو شبانہ… کیا واقعی ہمارے پڑوسیوں نے گیس پریشر پمپ لگا لیے ہیں..؟“ دادی اماں کو یقین نہیں آ رہا تھا۔

”تو اور کیا خالہ اماں…!! پہلے وہ دائیں ہاتھ والے عبد الجبار میاں لے کر آئے تھے پھر طفیل میاں کے یہاں لگا اور اب تو تین چار گھروں میں اور لگ گیا ہے. یہاں تک کہ ہماری گلی میں جو کرائے دار رہتے ہیں انھوں نے بھی گیس کھینچنے والی مشین لگا لی ہے۔“ شبانہ نے تمام معلومات ایمان داری سے ان کے گوش گزار کر دیں۔

”لیکن یہ تو قانوناً جرم ہے اور حکومت نے اس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔“ فاختہ کا بھائی فیضان گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ دو چار جملے سنتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کس موضوع پر بات چل رہی ہے۔

”ارے واہ بھائی… پہلے بڑا قانون پر عمل ہو رہا ہے ہمارے ملک میں…. بس جس کی لاٹھی اس کی بھینس! اندھا قانون ہے یہاں اور نا اہل حکومت!“ فاختہ نے اپنی سمجھ کے مطابق حالات کا تجزیہ بیان کیا۔

”بس کر جاؤ بی فاختہ! ہر وقت اور ہر بات میں حکومت کو الزام دینا ٹھیک نہیں…!
کیا لوگوں کو حکومت مجبور کرتی ہے کہ گیس پمپ خریدو اور لگاؤ گھروں میں؟ اور باقی لوگوں کاجینا حرام کرو!“ فیضان ایک دم جذباتی ہو گیا۔

”ہاں ہاں. بھلا تم کیوں کچھ سنو گے حکومت کے خلاف…. وہ تم ہی تو تھے جو بھاگم بھاگ ووٹ ڈالنے گئے تھے عمران خان کو! بڑا شوق تھا نا تبدیلی لانے کا۔ اب آ گئی تبدیلی.. لو بھگتو…!!


ایک گیس کی ہی کیا بات، ہر ہر چیز کو ترس رہے ہیں عوام۔ لوگ بد دعائیں دیتے ہیں خود کشیاں کر رہے ہیں.. مگر تم ابھی تک اس ناہنجار حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہو۔“ فاختہ نے بھی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔

”آئے بس کر جاؤ تم دونوں.. گھر کو اسمبلی بنا دیا۔ دونوں بہن بھائی کیسے آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے علم بردار بن کر۔ بے شرم کہیں کے!“
دادی اماں نے دونوں کو ڈانٹ کر خاموش کروایا۔

”فیضان تم جاؤ اور سلنڈر میں گیس بھروا کے لاؤ.. جلدی کرو. سر درد سے پھٹا جا رہا ہے میرا۔ صبح سے شام ہو گئی ابھی تک چائے کا ایک کپ نصیب نہیں ہوا۔“

”جی جی میں جا رہا ہوں دادی اماں!“
فیضان نے بائیک نکالی اور یہ جا وہ جا۔

تھوڑی دیر میں ہی سلنڈر میں گیس بھروا کر لے آیا. فاختہ نے جلدی سے ادرک اور دار چینی ڈال کر مزے دار سی چائے بنائی اور سب سے پہلے پیالی بھر کے دادی اماں کے حضور پیش کی۔

”ائے میں قربان جاؤں فاختہ!! کتنا خیال ہے دادی کا. یہی تو تیری ادائیں ہیں جو میرا دل موہ لیتی ہیں۔ اللہ تجھ جیسی خدمت گزار بیٹی ہر والدین کو نصیب کرے۔ آمین“
وہ چائے کی پیالی پکڑتے ہوئے خوش دلی سے بولیں۔ اور فاختہ خوشی سے نہال ہو گئی۔
باقی سب کو بھی چائے دی اور اپنا کپ تھامے کرسی پر بیٹھ گئی۔

”لو بھئی جواب آ گیا اور بالکل حسب منشا آیا ہے۔“
فیضان موبائل میں کچھ دیکھتے ہوئے بولا.

”ارے بھئی کس کا جواب، کیسا جواب، کچھ ہمیں بھی تو پتا چلے۔“
دادی اماں تجسّس سے بولیں۔

دو دن سے ایک مفتی صاحب کے پاس سوال بھیجا ہوا تھا، اس کا جواب آیا ہے۔ آپ سب بھی سنیے۔
مفتی صاحب کہتے ہیں کہ:


”گیس کی قلت کی صورت میں زیادہ گیس کھینچنے کے لیے گھر میں”گیس پریشر پمپ یا ہیٹ گن‘‘ لگانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اولاً تو اس لیے کہ اس سے دوسرے لوگوں کو تکلیف اور ضرر لاحق ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب گیس کا پریشر کم ہوگا اور ہیٹ گن کے ذریعہ گیس کھینچ لی جائے تو آس پاس کے لوگوں کو گیس کی سپلائی متاثر ہوگی اور وہ اس معمولی گیس سے بھی محروم ہوجائیں گے جو پہلے آ رہی تھی۔ اور جو چیز عام لوگوں کی تکلیف کا ذریعہ بنے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوتا۔


ثانیاً گیس کھینچنے کے لیے ہیٹ گن کا استعمال کمپریسر کی مانند خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے، نیز یہ کہ گیس کا استعمال ہیٹ گن کے ذریعہ قانوناً بھی جرم ہے اس لیے گیس کھینچنے کے لیے ہیٹ گن یا گیس پریشر پمپ کا استعمال کرنا درست نہیں ہے۔


بلکہ ایسے علاقوں میں جن اوقات میں گیس معمول کے مطابق ہو اُن اوقات میں اپنی ضروریات پوری کرلی جائیں یا جس قدر گیس مہیا ہو اسی پر اکتفا کرلیا جائے، اس صورت میں وقت کا خرچ اور مشقت ضرور ہوگی، تاہم دوسروں کو ان کے حق سے محروم کرنے اور قانون شکنی جیسے گناہ سے آدمی محفوظ رہے گا۔


یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کو تکلیف دینا ناجائز اور حرام ہے۔ اور گیس پریشر پمپ کے ذریعے جو آپ دوسرے لوگوں کا حق مارتے ہیں اور انھیں اذیت پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی سخت جواب دہی ہوگی.“

فیضان مفتی صاحب کا جواب پڑھ کے خاموش ہو گیا۔ اور شبانہ نے دل ہی دل میں اپنے ارادے سے توبہ کی وہ جو سوچے بیٹھی تھی کہ میاں سے کہہ کر وہ بھی گیس مشین لگوا لے گی گھر میں۔ لیکن اب مفتی صاحب کا جواب سن کر ڈر گئی تھی۔ اتنے لوگوں کا حق مار کر میں بھلا کیسے مطمئن رہ سکتی ہوں! اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے جو صرف اپنا بھلا سوچتے ہیں اور اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی خلق خدا کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی بد دعائیں سمیٹتے ہیں۔

جب دل جلے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں