265

جزبات کا کھیل

تحریر شئیر کریں

جزبات کا کھیل

افسانہ:ام بریرہ

رات کے اندھیرے میں ہلکی بارش ہورہی تھی۔ کچن میںرکھی گھڑی کی ٹک ٹک پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ صوفے پر بیٹھے نایاب کی آنکھیں دروازے پر جمی تھیں۔ آج بھی زریاب دیر سے آیا تھا۔

دروازہ کھلنے کی آواز آئی، اور زریاب تھکے تھکے قدموں سے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر تھکن اور پریشانی واضح تھی، لیکن نایاب کی نظریں اس کی بے توجہی پر جمی تھیں۔ وہ کئی دنوں سے زریاب کی لاتعلقی محسوس کر رہی تھی، مگر آج دل کی بھڑاس زبان پر آگئی۔

“تمہیں لگتا ہے میں روبوٹ ہوں؟ صبح سے رات تک گھر کے کام کرتی ہوں، تمہارا انتظار کرتی ہوں، اور تمہیں پروا بھی نہیں!” وہ غصے سے بولی۔

زریاب نے الجھی نظروں سے اسے دیکھا۔ “نایاب، میں بہت تھک گیا ہوں، تمہیں سمجھنا چاہیے۔ دفتر میں کام کا دباؤ الگ، زندگی کے مسائل الگ…”

نایاب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ “اور میرا دباؤ؟ کیا مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ میں تمہارے بغیر کتنی خالی محسوس کرتی ہوں؟”

زریاب سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ نایاب کا رویہ محض جذباتی نہیں، بلکہ اس کے ہارمونی نظام کی عکاسی کر رہا ہے۔ عورت میں جب آکسیٹوسن کم ہوتا ہے، وہ زیادہ حساس اور بے چین ہوجاتی ہے۔ جبکہ مرد جب مسلسل دباؤ میں رہتا ہے، اس کا ٹیسٹوسٹیرون کم ہونے لگتا ہے، اور وہ بے حوصلہ، خاموش اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔

یہ وہ فرق تھا جو دونوں کو سمجھنا تھا، مگر وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں الجھن اور شکوے کے سوا کچھ نہ دیکھ پائے۔

—

نایاب اور زریاب کی شادی کو پانچ سال ہوچکے تھے۔ شروع کے دنوں میں زریاب اکثر نایاب کو پھول لاکر دیتا، اس کے ساتھ چہل قدمی کرتا، اس کے مسائل سنتا، اور وہ خوشی سے کھل اٹھتی۔ ہر چھوٹے لمحے پر نایاب کے چہرے کی مسکراہٹ زریاب کی روح کو خوش کردیتی۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زریاب کا دھیان بدل گیا۔ اب وہ زیادہ تر کام میں مصروف رہتا، گھر آتا تو موبائل میں گھسا رہتا، نایاب کی باتیں سننے کے بجائے صرف سر ہلا دیتا۔ اسے لگتا تھا کہ محبت کا اظہار کرنے کے لیے کوئی بڑی چیز چاہیے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

نایاب کو محبت چھوٹے چھوٹے اشاروں میں چاہیے تھی— زریاب کا ہاتھ تھام لینا، اس کی بات دھیان سے سننا، کوئی معمولی سا تحفہ، یا بس ایک “تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو” کہنا کافی ہوتا۔ مگر زریاب ان چیزوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر رہا تھا، اور نایاب کے اندر کا خلا بڑھتا جارہا تھا۔

دوسری طرف زریاب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیوں دن بہ دن زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنے لگا ہے۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ اب اس میں وہ توانائی نہیں جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ وہ اکثر چڑچڑا ہوجاتا، زیادہ وقت ٹی وی یا گیمز میں گزارتا، نایاب کی باتوں کا جواب دینے کا بھی دل نہیں چاہتا تھا۔

یہ سب اس کے جسم میں کم ہوتے ٹیسٹوسٹیرون کی علامات تھیں، مگر اسے اندازہ نہیں تھا۔

—

حل کیا تھا؟

ایک دن نایاب نے ایک کتاب پڑھی، جس میں مردوں اور عورتوں کے ہارمونی فرق کا ذکر تھا۔ وہ حیران رہ گئی کہ جو کچھ وہ محسوس کر رہی تھی، وہ محض جذبات نہیں بلکہ حیاتیاتی تبدیلیاں تھیں!

“زریاب، ہمیں بات کرنی ہے،” نایاب نے رات کے کھانے کے بعد سنجیدگی سے کہا۔

“ہاں بولو،” زریاب نے موبائل رکھتے ہوئے کہا۔

“کیا تمہیں پتہ ہے کہ مردوں کا دباؤ ٹیسٹوسٹیرون کم کرتا ہے، اور اگر وہ کچھ ایسا نہ کریں جو انہیں اچھا محسوس کرائے، تو وہ بے حوصلہ ہوجاتے ہیں؟”

زریاب نے حیرانی سے دیکھا۔

“اور عورتوں کو خوشی کے لیے آکسیٹوسن چاہیے، جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بڑھتا ہے؟ مطلب تمہارے لیے ایک بڑا کام، میرے لیے چھوٹے چھوٹے اشارے…”

زریاب کے دماغ میں روشنی سی چمکی۔ “مطلب میں جب تمہیں گلے لگاتا ہوں، تمہیں کوئی چھوٹا تحفہ دیتا ہوں، تمہاری بات دھیان سے سنتا ہوں، تو تم خوش ہوجاتی ہو؟”

نایاب نے سر ہلایا۔ “اور تمہاری خوشی کے لیے میں تمہیں تھوڑا اسپیس دوں، تمہیں وہ کام کرنے دوں جو تمہارا ٹیسٹوسٹیرون بڑھائیں— جیسے کوئی مسئلہ حل کرنا، کوئی ہنر سیکھنا، کوئی چیلنج لینا۔”

زریاب مسکرا دیا۔ “تو یہ ایک گیم کی طرح ہے؟ میں تمہارے آکسیٹوسن پوائنٹس بڑھاؤں، اور تم میرے ٹیسٹوسٹیرون پوائنٹس؟”

“ہاں!” نایاب نے مسکرا کر جواب دیا۔

سورہ فاتحہ حیران کر دینے والی

—

خالی خانہ پھر سے بھر گیا

اس رات زریاب نے ایک چھوٹا سا نوٹ لکھ کر نایاب کے تکیے پر رکھا:
*”تم میرے لیے بہت خاص ہو۔”*

نایاب نے اسے پڑھ کر مسکراتے ہوئے زریاب کو دیکھا۔

اگلے دن نایاب نے زریاب کے لیے اس کا پسندیدہ کھانا بنایا، اور کھانے کے بعد زریاب نے برتن دھونے میں اس کی مدد کی۔

یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں تھی، مگر ان کے دلوں میں سکون اتر آیا۔ زریاب کو لگا جیسے اس میں پھر سے زندگی کی رمق لوٹ آئی ہو، اور نایاب نے محسوس کیا جیسے اس کی دنیا میں رنگ بھر گئے ہوں۔

کیونکہ تعلق کوئی پیچیدہ پہیلی نہیں، صرف ایک دوسرے کی فطرت کو سمجھنے کا نام ہے۔

جزبات کا کھیل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں