218

افسانہ جی پہلا حصہ

تحریر شئیر کریں

وہ صرف ایک نام نہ تھی
بلکہ ہر اُس بےآواز صدا کی گونج تھی،
جو کسی ماں کے دل سے نکلی،
کسی یتیم کی آنکھ میں ٹھہر گئی،
یا کسی سجدے میں گر کر رہ گئی۔

وادئ نیلم کے خاموش کنارے پر،
وہ امن کی پکار تھی،
قربانی کی گواہی تھی،
اور صبر کی مجسم تصویر۔۔۔
وہ “جی” تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وادئ نیلم کی وہ شام بڑی عجیب تھی۔اداسی میں ڈوبی ہوئی، ندی کنارے پھیلے چیڑھ کے درخت آہستہ آہستہ ہل رہے تھے، جیسے صدیوں کا کوئی راز ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کر رہے ہوں۔ نیچے نیلم بہہ رہا تھا، سرد، نیلا اور خاموش، مگر اندر ہی اندر شور سے بھرا ہوا۔ زندگی یہاں سادہ تھی، مگر کچھ ایسا بھی تھا جو کہانی بننے کو بیتاب ہو۔

گاؤں میں پگڈنڈیوں پر چپلوں کی چاپ، چھتوں سے اڑتی لکڑی کے دھویں کی مہک، اور بچوں کی آوازیں فضا میں گھلتی تھیں۔ اسی خاموش، مگر خوابیدہ سی فضا میں “جی” کا گھر تھا۔ پرانا، مٹی کی دیواروں والا، جس کی کھڑکی سے تین گملے جھانکتے تھے — ایک میں بیری، ایک میں سبز بیل، اور ایک میں سوکھی ٹہنی۔ وہ اس سوکھی ٹہنی کو بھی پانی دیتی۔ لوگ پوچھتے، “جی! اس میں جان کہاں؟” وہ ہنس کر کہتی، “کبھی دعا بھی تو بنجر دلوں میں ہریالی لے آتی ہے۔”

جی، جس کا اصل نام کسی کو معلوم نہ تھا، مقبوضہ کشمیر سے آئی تھی۔ وہ دن جب اس کی دنیا آگ میں جلی، جب اس کے شوہر، دونوں بیٹے، والدین… سب شہید ہوئے، وہ دن نہ اس نے کبھی بیان کیا، نہ کسی نے پوچھا۔ بس جان لیا گیا کہ یہ عورت زخموں سے بنی ہے، اور خاموشی سے جیتی ہے۔
جی بہت کم بولتی تھی مگر اس کی خاموشی چیختی تھی عورتیں آ کر اپنے دکھ بانٹتیں، اور جی سن کر صرف اتنا کہتی، “دھوپ ہو یا رات، دعا کبھی خالی نہیں جاتی۔” پھر ایک لمس دیتی، اور عورت کی آنکھوں میں نمی نہیں، آس اترتی۔
ایک رات جی نے خواب دیکھا۔ وہ جاگی تو آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ صبح گاؤں کی ایک بچی نے پوچھا، “جی! آپ رو رہی تھیں؟”
جی نے اسے گود میں بٹھایا اور کہا،
“خواب میں میں غزہ گئی۔ وہاں ایک بچہ بیٹھا تھا، پھٹے کپڑوں میں، آنکھوں میں دھواں۔ میں نے اسے سینے سے لگایا، اور کہا: آؤ! وادئ نیلم کی پہاڑیوں پر چلتے ہیں۔ قلفی کھاتے ہیں، غبارہ اڑاتے ہیں۔”
پھر وہ رک گئی۔
“پتا ہے، وہ بچہ ہنسا نہیں، بس بولا: ‘میرے ابا نے کہا تھا، اللہ کے علاوہ کوئی۔سپر پاور نہیں صرف اسی پہ بھروسہ کرنا۔’”
جی نے تب سے ایک نیلا غبارہ اپنی الماری میں رکھا تھا اس پر لکھا تھا: “غزہ کی آزادی تک”۔
اس کی باتوں میں درد تھا، مگر نفرت نہیں۔ وہ کہا کرتی، “جنگ طلب نہ کرو، جنگیں صرف لاشیں نہیں لاتیں، سجدے چھینتی ہیں، ماؤں کی گودیں خالی کرتی ہیں۔ مگر… جب جنگ مسلط کر دی جائے تو بھاگ جانا بزدلی ہے۔”

پھر وہ دن آیا — وہ دن جس کا جی نے برسوں سے انتظار کیا تھا۔
جب پاکستان نے ایٹمی طاقت بننے کا اعلان کیا، گاؤں میں وہ دن عید سے کم نہ تھا۔ جی نے پورے گاؤں کے بچوں کو قلفی کھلائی۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں ٹھنڈی قلفیاں تھیں اور دلوں میں گرم امیدیں۔ وہ زور سے ہنسی تھی، برسوں بعد، جیسے دل سے ہنسی ہو۔
وہ چھت پر چڑھی، آسمان کی طرف دیکھا اور کہا،
“یااللہ! آج ہمیں سہارا ملا ہے۔ اب ہمیں کوئی نہیں روند سکے گا۔”
پھر وہ نیچے اتری، عورتوں کے حلقے میں جا کر بولی:
“ہماری دعائیں سنی گئیں، پاکستان ہماری امید ہے۔ یہ بم صرف دفاع کے لیے نہیں، عزت کے لیے ہے، امت کے لیے ہے۔”
عورتیں جی کی باتوں پر رونے لگیں، کچھ نے اس کی پیشانی چومی، کچھ نے بچے اس کی جھولی میں ڈال دیے۔
جی نے ایک چھوٹے سے کشمیری لڑکے کو گود میں لے کر کہا:
“دیکھو بیٹا! اب تم آزاد ہو گے۔ تمہارا بچپن ٹینکوں تلے نہیں، تتلیوں کے پیچھے دوڑتے گزرے گا۔”
وہ لڑکا ہنسا نہیں، مگر جی کے گال چوم کر کہا:
“جی! مجھے آپ پہ یقین ہے۔ اور پاکستان پہ بھی۔”
وقت گزرتا گیا۔ جی کا کمرہ وہی رہا دری، پلنگ، تسبیح، اور تین گملے۔ عورتیں اسے ولی سمجھنے لگیں، بچے دادی۔ کوئی اداس ہو، تو جی کے پاس جاتا۔ کوئی بچہ بیمار ہوتا تو دم کروانے آ جاتا، روتے بلکتے بچے جی کی گود میں آکر سکون پا جاتے۔

پھر ایک رات خبر آئی — مظفرآباد کی جامع مسجد پر حملہ ہوا۔ کچھ ہی… کئی شہروں کی مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سجدوں کو لہو سے رنگا گیا۔

جی کھڑکی کے پاس بیٹھی رہی۔ آسمان کو دیکھتی رہی، لب ہلتے رہے۔ اس کی آنکھوں میں درد ایسا تھا جیسے دوبارہ جھیل میں پتھر گر گیا ہو۔
وہ گہری سوچ میں گم تھی پاکستان پہ حملے کیسے ہو سکتے تھے؟ وہ تو ایٹمی طاقت تھا! اس نے تو وعدہ کیا تھا کہ وہ ہماری آزادی کا ضامن ہوگا۔ مگر یہ کیا ہو گیا؟
وہ بار بار اپنا سر ہلاتی، “نہیں، نہیں ایسا نہیں ہو سکتا…”
اس رات اس نے ایک لڑکی سے کہا:
“جنگیں جب مسجدوں پر برسیں، تو زمین سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ تب نہ قلفی میٹھی لگتی ہے، نہ خواب رنگین رہتے ہیں۔”
صبح جب سورج نکلا، جی جا چکی تھی۔
کمرے میں دری پر وہ ساکت لیٹی تھی، جیسے سو گئی ہو۔ تسبیح ہاتھ سے گر چکی تھی، چہرے پر سکون تھا۔ جیسے درد کی انتہا، اطمینان میں ڈھل چکی ہو۔
میز پر ایک پرچی تھی:
“جنگیں مت مانگو، مگر ظلم کے آگے جھکنا مت۔
جب مسجدوں میں آگ برسائی جائے، تب خاموشی جرم ہوتی ہے۔
فری غزہ، فری کشمیر۔
کبھی کسی ایٹمی طاقت پہ بھروسہ مت کرو،
کرنا ہے تو اس واحد سپرپاور پہ کرو۔”
گملے میں وہ سوکھی ٹہنی ہری ہو چکی تھی۔
بچے اب بھی اس کے دروازے پر قلفی کھاتے ہیں، عورتیں اس کے ذکر پر دعا کرتی ہیں۔
اور جب نیلم ندی چپ چاپ بہتی ہے، تو لوگ کہتے ہیں
جی کی دعائیں اب بھی اس کے ساتھ بہتی ہیں۔
کیونکہ جی صرف عورت نہیں تھی…
وہ ایک دعا، ایک خواب، ایک صبر کی صورت تھی۔
وہ اپنی بانٹی گئی خیر اور لفظوں کی بدولت زندہ ہے، مگر وہ اس لمحے مر گئی تھی جس لمحے ایٹمی طاقت کے اندر ہی مسجدیں اور مدرسے شہید ہو گئے اور اس کا بھروسہ ٹوٹ گیا۔

بقایا قسط کے لیے کلک کری۔

افسانہ جی دوسرا حصہ

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں