حفاظت نظریہ پاکستان اور ہم
تحریر: آمنہ راجپوت
اسلام آباد،
نظریہ تصور یا نصب العین جس کے حصول کے لئے انسان اپنی کوشش کا آغاز کرتا ہے وہ کسی بھی قوم کی اجتماعی زندگی کا مشترکہ مقصد بن جاتا ہے، اصل میں نظریہ انسانی سوچ اور مخصوص عقائد کا نام ہے۔ یہ کسی گروہ یا قوم کی نمایاں خصوصیات بن جاتی ہے۔ اس قوم کے افراد کی الگ سوچ اور زندگی گزارنے کا طریقہ کار ظاہر کر تا ہے
۔ اسی طرح نظریہ پاکستان کی ضرورت کو مسلمانوں کے اپنے عقیدہ اور نظام حیات کے لئے ضروری سمجھا گیا۔ مسلمانوں نے اپنے عقائداور نظام حیات کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کے لئے نظریہ پاکستان کو پیش کیا جو صرف ایک خاص گرو یا قوم کی آواز نہ تھی۔ بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے دل کی صدا تھی۔
اسلامی نظریہ قومیت کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہے۔ جو مغربی نظریہ قومیت سے بالکل مختلف ہے، جس نظریہ کی بنیاد ہی رنگ ،نسل، ذات پات، پر ہوتو وہ کیسے انسانیت کی بھلائی کے لئے کیسے بہتر ہو سکتا ہے۔
قدرت کا بنایا ہوا ہرنظام اٹل ہے اوراس کا نظم و ضبط اپنی خالق کی طرح بے مثل ہے۔ ہندوستان میں ہندو بی اکثریت میں تھے اور انہوں نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ ایسے کٹھن وقت میں بہادر دل رکھنے والے علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں دو قومی نظریہ پیش کیا جیسے قائداعظم جیسےدوراندیش رہنماؤں نے 23 مارچ 1940 میں پارک کےاحاطہ میں کھڑے ہوکر نہایت دبنگ الفاظ و انداز میں نظریہ پیش کیا۔ جس سے ہندوں نے خود نظریہ پاکستان کا نام دیا۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ایک ایسی اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ جو دنیا کی واحد اسلامی مملکت ہے۔ جو کسی نظریہ کی بنیاد پر اس دنیا کے نقشے پر اپنا وجود قائم کر سکی۔
نظریہ پاکستان میں ہمارا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے ملک میں یہ ایک بات المیہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ نظریہ پاکستان کو بیرونی ثقافت سے خطرہ ہے، اس کے اندرونی حالات کو بہتر کرنے کے لئے ہمیں اپنے رسم و رواج اور عقائد کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کا رہن سہن اور رسم و رواج نظریہ کہلاتا ہے۔ ہمارا ملک پاکستان ہمیں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، نظریہ پاکستان کا مقصد مسلمان قوم کو ایک ایسی جگہ مہیا کرنا تھا،
کہ مسلمان اپنے مذہبی اقدار بخوبی نبھا سکے، ہمارا فرض ہے کہ ہم نے یہ ملک بے تحاشہ قربانیوں ، دعاؤں کے بعد حاصل کیا، اس کی ثقافت و تمدن کی حفاظت کرے، اور اس پر کبھی بھی کسی دشمن کی بری نظر نہ پڑنے دیں، اور مشکل وقت میں اپنے ملک کا ساتھ دیں۔ پاکستان زندہ باد