198

حکایتِ برگِ آخری

تحریر شئیر کریں

قلیلہ ایک سوکھے پیڑ کے نیچے بیٹھا تھا۔
گرد و پیش میں مٹی اڑ رہی تھی، پرندے ہجرت کر چکے تھے، اور ندی کا پانی، جو کبھی شفاف تھا، اب سیاہی میں بدل چکا تھا۔
دمنہ آہستہ قدموں سے آیا اور بیٹھتے ہوئے بولا:
دمنہ:
“قلیلہ! تم کب سے اس سوکھے درخت کو دیکھ رہے ہو؟”
قلیلہ (مدھم آواز میں):
“یہ درخت… کبھی سایہ دیتا تھا،
کبھی پھل، کبھی خوشبو،
اور اب… صرف شرمندگی!”
دمنہ:
“ہم نے درخت کاٹ کر عمارتیں اگائیں،
ندی بیچ کر شاپنگ مال بنائے،
پرندے بھگا کر سگنل لگائے۔
اب شکوہ کس سے کریں؟”
قلیلہ (چپ چاپ):
“جب آخری درخت کٹ گیا —
تو ہمیں یاد آیا کہ سایہ مفت تھا۔
جب آخری پرندہ اُڑ گیا —
تو احساس ہوا کہ موسیقی صرف انسان نہیں گاتا۔
اور جب آخری ندی سونی ہو گئی —
تو پتہ چلا کہ پانی پلاسٹک کی بوتل میں نہیں اگتا۔”
دمنہ (تلخ ہنسی سے):
“ہم نے زمین کو بینک سمجھا،
پھل کو مارکیٹ پراڈکٹ،
اور بارش کو فالتو پانی۔
اب نوٹ تو ہیں… مگر سانس نہیں۔”
اسی لمحے ایک ننھی گلہری مٹی سے بھرا ایک بیج اپنے منہ میں دبائے آئی۔
اس نے زمین میں چھوٹا سا گڑھا کھودا، بیج رکھا، اور بولی:
گلہری:
“میں جانتی ہوں یہ زمین زہریلی ہے،
بارشیں کم ہیں،
اور دھوپ قہر ہے
مگر شاید…
یہ بیج اگ آئے۔”
قلیلہ (نرم آواز میں):
“یہی امید ہے، دمنہ!
بیج اگتا ہے نہ اگتا
مگر کوشش وہ واحد دعا ہے
جو زمین تک بھی پہنچتی ہے
اور آسمان تک بھی۔”

دمنہ:
“ہمیں پھر سے درخت اگانے ہوں گے۔
ورنہ اگلی نسلیں ہمیں صرف کتابوں میں پتیوں کی تصویر دکھا کر پوچھیں گی:
یہ کیا ہوتا تھا؟”
—
عبرت و حکمت
درخت سایہ، ہوا، خوشبو اور زندگی دیتے ہیں اور ہم نے ان کی جڑیں کاٹ کر اپنی جڑیں کمزور کر لیں۔

اگلی کہانی کے لیے کلک کریں

قافلہ الصمود امید کی کرن

 الٹی دنیا کا موسم

کبوتر, ہنس اورجال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں