180

حکایتِ بوجھل پرواز

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔
کہتے ہیں ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ، دو پرانے دوست رہا کرتے تھے — قلیلہ، ایک دانا اور تجربہ کار لومڑی اور دمنہ، ایک نوجوان، نادان مگر سیکھنے کا شوقین ہرن۔

ایک دن صبح دم، دمنہ ہانپتا ہوا قلیلہ کے پاس آیا۔ اُس کی آنکھوں میں ہول تھا، سانس اکھڑی ہوئی، اور الفاظ بکھرے بکھرے۔

“قلیلہ!” وہ بولا، “میں نے آسمان کو گرتے دیکھا ہے۔”

قلیلہ نے گردن اٹھائی، اپنی بوڑھی مگر تیز آنکھوں سے دمنہ کو دیکھا اور مسکرا کر بولی،
“بیٹا دمنہ، آسمان کب گرتا ہے؟ گرتا تو انسان ہے۔ کہو، کیا ہوا؟”

دمنہ نے لرزتی آواز میں جواب دیا،
“ایک بڑی لوہے کی چیل، جسے انسان ‘جہاز’ کہتا ہے، آسمان میں بلند ہوئی، اور پھر پل بھر میں زمین پر آ گری۔”

قلیلہ نے سر جھکایا اور ہلکی آہ بھری۔
“میں جانتی ہوں اس کہانی کو وہ چیل صرف آسمان سے نہیں گری، وہ امیدوں، خوابوں اور منصوبوں کو بھی اپنے ساتھ لے گری۔”
دمنہ خاموش ہو گیا۔ جیسے کچھ سمجھنے لگا ہو۔ مگر پھر وہ بولا:
“قلیلہ، اُس چیل میں انسانوں کے قبیلے سے دو سو سے زائد مسافر سوار تھے سب اپنے اپنے سفر پر، اپنے خوابوں کی طرف۔ اور وہ سب… وہ سب… راکھ ہو گئے۔”

قلیلہ نے کہا،
“اور کیا تمہیں معلوم ہے، کہ وہ چیل صرف ہوا میں نہ ٹوٹی، بلکہ زمین پر ایک ایسی جگہ گری، جہاں کچھ نوجوان پرندے جو اوروں کے زخموں پر مرہم رکھنا سیکھ رہے تھے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے؟”
دمنہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“کیا یہ زندگی اتنی ناپائیدار ہے، قلیلہ؟”
قلیلہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور گویا ہوئی:
“زندگی ایک امانت ہے، جو بغیر بتائے واپس لی جا سکتی ہے۔
انسان کی کتنی ہی احتیاط، کتنے ہی منصوبے
ایک لمحے کی خاموشی میں بے معنی ہو جاتے ہیں۔”
دمنہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا:
“قلیلہ، اگر موت اتنی آسان ہے، تو پھر دنیا کے بڑے انسان بادشاہ، جرنیل، سردار
اتنی جنگیں کیوں چھیڑتے ہیں؟
اتنا بارود کیوں اڑاتے ہیں؟
اتنے پیسے صرف مارنے پر کیوں لگاتے ہیں؟”
قلیلہ مسکرائی، مگر مسکراہٹ میں دکھ تھا۔
“کیونکہ وہ بھول چکے ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کی زندگی ہے، نہ کہ اس کی موت۔
وہ بھول چکے ہیں کہ ایک ماں کی آنکھ کا خواب، ایک باپ کی دعا، ایک بچے کی مسکراہٹ —
بارود سے قیمتی ہے۔
لیکن جب اقتدار کا نشہ چڑھتا ہے، تو حقیقت دھندلا جاتی ہے۔”
دمنہ نے آہستہ کہا:
“تو ہمیں کیا کرنا چاہیے، قلیلہ؟”
قلیلہ نے نرمی سے کہا:
“یاد رکھو دمنہ،
ہر روز جب سورج نکلے، تو شکر ادا کرو۔
جب کوئی گلے ملے، تو دیر تک تھامے رکھو۔
جب کسی کے آنکھوں میں آنسو دیکھو، تو چپ نہ رہو۔
کیونکہ کل کا وعدہ، نہ آسمان دیتا ہے، نہ زمین۔”
اس روز دمنہ دیر تک قلیلہ کے ساتھ بیٹھا رہا۔
اُس نے پہلی بار جانا کہ حادثہ صرف خبر نہیں ہوتا
کبھی وہ فلسفہ بن جاتا ہے،
اور کبھی… انسانیت کا آئینہ۔
زندگی ایک امانت ہے، جس کا بھروسا نہیں اس لیے انسان سے دشمنی نہیں، محبت کرو۔ خوابوں کو مت روندوں، کہ کسی اور کا خواب، تمہاری حقیقت سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔

قلیلہ دمنہ جدید حکایات سے انتخاب
#qaleeladumnaNewversion

حکایتِ بوجھل پرواز

اگلی اقساط پڑھیے

قلیلہ و دمنہ جدید حکایات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں