(قلیلہ و دمنہ — جدید حکایات سے انتخاب)
تحریر: روبینہ شاہین
کہتے ہیں کہ دریائے ہاکڑا کے کنارے، صحرا کے ایک گوشے میں ایک جنگل آباد تھا۔
وہاں پرندے بھی تھے، درندے بھی، اور عقابوں کے سائے میں سانپ بھی پلتے تھے۔
جنگل کے دو بڑے قبیلے تھے:
ایک مشرق میں، جو خود کو “بھارت ورش” کہتا تھا،
اور دوسرا مغرب میں، جو “پاکستان” کہلاتا تھا۔
دونوں قبیلے صدیوں سے ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کرتے آئے تھے —
کبھی حملہ، کبھی سازش، کبھی زہر، اور کبھی صرف خاموشی۔
مئی کا مہینہ تھا۔
گرمی شدید تھی، اور فضائیں بوجھل۔
اچانک بھارت ورش کی چیلوں نے، جو “رافیل” کہلاتی تھیں،
پاکستان کے شہر بہاولپور میں واقع مسجدوں اور مدارس پر حملہ کیا۔
دوپہر کے وقت، جب قرآن کے حرف گونج رہے تھے،
اچانک دھواں چھا گیا، اور تئیس معصوم روحیں پرواز کر گئیں۔
قبیلہ پاکستان چونک پڑا۔
پہلے غصہ، پھر حملہ
چند دنوں میں بھارت کی کئی “ائیر بیسز” خاموش ہو گئیں،
اور چیلیں زمین سے لپٹ گئیں۔
یہ جنگ صرف توپوں میں نہ لڑی گئی،
یہ جنگ دراصل خاموشی اور عزت کی بھی تھی۔
مگر جب جنگ ختم ہوئی،
تو نہ کوئی اعلانِ فتح ہوا،
نہ کسی نے شہیدوں کے نام لیے۔
صرف ایک ٹوئٹ —
جیسے تاریخ کا منہ بند کر دیا گیا ہو۔
قلیلہ، جو اس جنگل کی دانشور لومڑی تھی،
یہ سب دیکھ کر دمنہ کو ساتھ لیے بزرگ ہدہد کے دربار میں گئی۔
وہاں، کبوتر، الو، مور اور بندر بھی جمع تھے —
اور ان سب کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا:
“کیا خون کا رنگ جھنڈے سے بدلتا ہے؟”
قلیلہ بولی:
“ہم نے بہاولپور کے شہداء کو دفنا دیا،
مگر ان کے جنازوں پر کوئی نوحہ نہ تھا،
کوئی نغمہ، کوئی نعرہ،
کوئی فخر،
کوئی شرمندگی —
صرف خاموشی۔”
دمنہ نے آگے بڑھ کر کہا:
“اور جب بھارت کی ائیر لائن کا ایک پرندہ گرا،
جس کا لندن جانا مقدر نہ تھا،
تو اسی قبیلہ پاکستان کے حاکم نے،
مودی کو تعزیت کا کبوتر بھیجا۔”
بندر بولا:
“کیا ہمارے شہید، انسان نہ تھے؟
کیا ان کی ماں کا آنسو سستا تھا؟
کیا تعزیت صرف سرحد پار والوں کے لیے مخصوص ہے؟”
ہدہد نے گہری آہ بھری اور کہا:
“جب حکمرانوں کے دل مفاد سے لبریز ہوں،
تو قوموں کے جنازے بھی خاموش گزرتے ہیں۔
وہ جنگ جو ہم نے جیتی،
میز پر ہار دی گئی۔
اور وہ تعزیت، جو دشمن کے لیے تھی،
اپنوں کے لیے بد دعا بن گئی۔”
قلیلہ نے سر جھکایا:
“یاد رکھو، جب ماضی خاموش ہو جائے،
تو آنے والا وقت چیخنے لگتا ہے۔
ہم نے جو نہ رویا آج،
وہ کل ہمیں رلائے گا۔”
—
قومیں جنگ سے نہیں، رویوں سے ہارتی ہیں۔
اور جو اپنے شہیدوں کو فراموش کرے، وہ دشمنوں کے ہمدرد تو ہو سکتے ہیں —
اپنوں کے وارث نہیں۔
تبصرے بند ہیں