—
کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں ایک وسیع و عریض جنگل تھا۔ اس جنگل میں کئی قومیں، پرندے، درندے اور رینگنے والے جانور بستے تھے۔ اس جنگل کا سب سے بڑا درندہ “شیرِ فارس” تھا — جس کے قلعے کی مضبوطی اور تہہ خانوں کے راز، دور دور تک مشہور تھے۔ قلعے کے تہہ خانے چھ چٹانی غاروں پر مشتمل تھے اور کہا جاتا تھا کہ ان میں ایسی چمکتی دولت اور ہنر چھپا ہے جس سے مستقبل میں پوری سلطنت کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
جنگل کے ایک کونے میں “لومڑیٔ بنی اسرائیل” رہتی تھی — تیز دماغ، شاطر اور ہمیشہ نئی چالوں میں مصروف۔ برسوں سے وہ شیرِ فارس کی طاقت سے خوف زدہ تھی۔ اس نے کئی بار اپنے جال بُنے، کئی بار شکاری پرندوں کو بلایا، مگر قلعہ بدستور ناقابلِ تسخیر رہا۔
ادھر جنگل کی فضا میں ایک نیا بادشاہی پرندہ “عقابِ امریکہ” ابھر رہا تھا۔ اس کے پنجے لوہے کے تھے، پروں میں بجلی بھری تھی اور اس کے پاس ایک خاص قسم کے آہنی تیر تھے جنہیں “بنکر بسٹر” کہا جاتا تھا — جو زمین کے اندر گہری تہوں تک جا کر ہدف کو تباہ کر سکتے تھے۔
لومڑی نے موقع دیکھا اور عقاب کو فریاد کی:
“اے عقابِ معظم! میرا وقار داؤ پر ہے۔ اگر تُو چند تیر برسا دے تو نہ صرف میرا سر اونچا ہوگا، بلکہ تیرا نام بھی امر ہو جائے گا۔”
عقابِ امریکہ ابتدا میں ہچکچایا۔ اس کے درباری ہُدہُد اور شاہینوں نے مشورہ دیا کہ “ایسا اقدام بغیر جنگل کی کونسل سے پوچھے نہ کرنا، ورنہ سب پرندے ناراض ہو جائیں گے۔” مگر عقاب کے سر پر غرور اور تاجِ نارنجی کی چمک غالب آ گئی۔ اس نے کونسل کو نظر انداز کر کے یکایک پرواز کی اور تین آہنی تیر — فردو، نطنز اور اصفہان نامی غاروں پر برسائے۔
تیر بہت زور سے گرے۔ زمین کانپی، پہاڑ لرزے، غاروں کے دہانے پر دھواں چھا گیا۔
جنگل کے کونے کونے میں خبر پھیل گئی کہ “شیرِ فارس کے خزانے تباہ ہو گئے!”
لومڑی فوراً بول پڑی:
“دیکھو، میں نے کہا تھا نہ؟ یہ ہماری بڑی فتح ہے!”
عقاب نے بھی اپنے آشیانے سے بلند آواز میں اعلان کیا کہ:
“یہ کارنامہ میرا ہے!”
مگر کچھ پرانے عقاب اور دانا الّو جانتے تھے کہ یہ سب فریب ہے۔ اصل خزانے تو شیرِ فارس نے کئی ماہ پہلے محفوظ مقام پر منتقل کر دیے تھے۔
اب سوال یہ تھا کہ شیر جوابی حملہ کرے گا یا صبر سے کام لے گا؟
جنگل میں قیاس آرائیاں ہونے لگیں:
اگر شیرِ فارس نے عقاب یا اس کے اتحادیوں پر حملے شروع کر دیے تو جنگل میں وہ آگ بھڑکے گی جو سب کو جلا ڈالے گی — ایک ایسی جنگ جس کا دائرہ پورے جنگل بلکہ سارے عالمِ جانوریت میں پھیل جائے گا۔
مگر اگر شیر خاموش رہا، تو لومڑی اور عقاب اسے اپنی کامیابی کا رنگ دے کر جنگل میں صلح کی آوازیں بلند کریں گے۔
دانا الّوؤں نے پیش گوئی کی کہ “آئندہ 72 گھنٹے فیصلہ کن ہیں۔ اگر صلح کا کوئی معاہدہ طے پا گیا تو ہر فریق اپنی کامیابی کے نعرے لگائے گا۔ اگر نہیں، تو تیسرے بڑے معرکے کا آغاز ہو سکتا ہے — ایک ایسا معرکہ جس سے پورا جنگل لرز اٹھے گا۔”
کہتے ہیں کہ جنگل کی فضا اب بھی بوجھل ہے۔ سب پرندے، درندے اور چرند اپنے اپنے گوشوں میں دبکے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ اب آگے کیا ہوتا ہے…
حکایتِ “عقاب، لومڑی اور شیرِ فارس”