230

حکایتِ فاختہ و فجر

تحریر شئیر کریں

ایک دن صبح دم، جب مشرق کے کنارے ہلکی سی روشنی پھیل رہی تھی، قلیلہ خاموش کھڑا آسمان کو تک رہا تھا۔
دمنہ (قریب آ کر):
“کیا سوچ رہا ہے، اے قلیلہ؟”
قلیلہ (آہ بھرتے ہوئے):
“سوچ رہا ہوں، دمنہ!
کہ غزہ میں فاختائیں رو رہی ہیں، بچے بھوک سے بلک رہے ہیں،
اور یہاں ہماری فجر کی مسجدیں خالی ہیں۔”
دمنہ:
“کیا ان دونوں باتوں کا کوئی تعلق ہے؟”
قلیلہ:
“تعلق؟
دمنہ! فجر کی خالی صفیں ہی تو ہمارے زوال کی اصل تصویر ہیں۔
بزرگ کہا کرتے تھے:
‘بیٹا! فجر کی نماز میں نوجوان تو نظر نہیں آتے،
مگر جیسے ہی فجر کا وقت گزرتا ہے،
روڈ، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں نوجوانوں سے بھر جاتی ہیں۔’”
دمنہ:
“یہ تو سچ ہے — لیکن نماز چھوڑ کر کامیابی کی امید؟”
قلیلہ:
“بس یہی ہماری بھول ہے
کہ ہم نے کامیابی کو ڈگریوں، فالوورز، اور بینک بیلنس سے ناپنا شروع کر دیا ہے،
اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈال کر برکت کہاں سے آئے گی؟”
(چند لمحوں کی خاموشی…)
دمنہ (سر جھکائے):
“قلیلہ، کیا تُو جانتا ہے؟
آج غزہ کی وادی اور ایران میں یہودی ظلم کا بازار گرم کیے بیٹھے ہیں۔
لیکن ان کی نظریں کسی اور چیز پر بھی ہیں۔”
قلیلہ (چونک کر):
“کس چیز پر؟”
دمنہ:
“ہماری فجر پر!”
قلیلہ:
“کیا؟ فجر؟”
دمنہ (سنجیدگی سے):
“ہاں! ان کی مذہبی کتابوں میں لکھا ہے:
‘جس دن فجر کی نماز میں مسلمانوں کی مسجدیں
جمعہ کی طرح بھرنے لگیں —
اسی دن وہ تم پر غالب آ جائیں گے۔’
اور اسی ڈر سے،
انہوں نے موبائل، سوشل میڈیا، فلمیں، نیٹ فلکس، ریلز
ایسی خرافات ایجاد کیں
کہ ہم صبح کے وقت سونے والے بن گئے،
اور فجر کو صرف الارم کا نام رہ گیا۔”
قلیلہ (درد سے):
“کتنے افسوس کی بات ہے دمنہ!
جو امت فجر کے وقت آسمانوں کو ہلا دیا کرتی تھی،
آج وہ نیند میں ڈوبی ہوئی ہے۔”
فاختہ (دور minaret سے پکارتی ہوئی):
“اے امت محمدﷺ!
کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہاری نیند غزہ کے بچوں پر بھاری پڑ رہی ہے؟
جس فجر سے تم غافل ہو —
اسی سے دشمن کانپتا ہے۔”
—
یہودیوں کو ہماری فجر سے خوف ہے اور ہمیں فجر کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔

حکایتِ فاختہ و فجر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں