187

حکایتِ نسلِ کوثر و ابتَر

تحریر شئیر کریں

قلیلہ ایک چبوترے پر بیٹھی نیم کے درخت کی چھاؤں میں گم سم تھی۔ آس پاس وقت کے پرندے کچھ ماضی کی صدا لیے اڑ رہے تھے۔ دمنہ، جو اکثر دنیا کی چالاکیوں پر بات کرتا تھا، آج خاموشی سے اس کے قریب آ بیٹھا۔

دمنہ:
“اے قلیلہ! تم اتنی سوچ میں کیوں ہو؟ کیا پھر کسی بادشاہ نے ظلم کیا ہے؟”

قلیلہ (نرم لہجے میں):
“ظلم تو ہر دور میں ہوتا رہا، دمنہ۔ مگر کچھ مظلوم ایسے ہوتے ہیں جن کی داستان وقت کے ہر لمحے پر نقش ہو جاتی ہے۔ میں آج کربلا کی سوچ رہی ہوں… اور یزید کی!”

دمنہ (کچھ چونک کر):
“یزید؟ وہ جو تخت پر بیٹھا، اور خود کو اسلام کا حاکم کہتا رہا؟ جس کے چودہ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں؟”

قلیلہ:
“ہاں… وہی یزید… جو سمجھتا تھا کہ نسلیں حکومت سے باقی رہتی ہیں۔ مگر اے دمنہ! آج تم نے کسی کو یہ کہتے سنا کہ ‘میں یزید کی نسل سے ہوں؟'”

دمنہ (سوچ میں پڑ کر):
“نہیں قلیلہ… نہیں! میں نے تو نہیں سنا۔ گویا وہی ہوا جو قرآن نے فرمایا تھا:
‘اِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْاَبْتَر’
کہ جو رسولؐ سے بغض رکھے، وہی بے نسل ہے۔”

قلیلہ (آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے):
“اور حسینؓ؟ وہ جو میدانِ کربلا میں اپنے ننے بچوں سمیت پیاسے شہید کر دیے گئے؟ جن کا صرف ایک بیٹا، علی زین العابدین، بچا تھا؟”

دمنہ:
“سبحان اللہ! وہی ایک بیٹا آج پوری دنیا میں نسلِ حسینؓ کی پہچان ہے۔
آج دنیا کے ہر کونے میں کوئی نہ کوئی ‘سید’، ‘زیدی’، ‘نقوی’، ‘رضوی’ نظر آتا ہے۔
گویا
‘اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَر’
کا جلوہ ہے جو روزِ عاشور سے قیامت تک جاری رہے گا۔”

قلیلہ (مسکراتے ہوئے):
“دمنہ! نسلیں تعداد سے نہیں، تاثر سے باقی رہتی ہیں۔ یزید کے چودہ بیٹے بےنشان، حسینؓ کا ایک بیٹا عالم میں چراغ بن گیا۔
فرات کا پانی پی نہ سکے، مگر ان کا نام ہر دل میں اتر گیا۔”

دمنہ:
“اور یزید… وہ تخت پر بیٹھا تھا، مگر تاریخ کی گلیوں میں بھٹکتا نام بن گیا۔
جو رسولؐ کی نسل کے خلاف اٹھا، خود نسلوں کے اندھیرے میں دفن ہو گیا۔”

قلیلہ (آہستہ سے):
“تو دمنہ، سمجھ لو… نسل کو باقی رکھنے کا راستہ تخت سے نہیں، قربانی سے نکلتا ہے۔
اور یاد رکھو —
جو سر مقتل میں کٹا… وہی آج بھی بلند ہے۔
وہ سر حسینؓ کا ہے۔”
—
ظلم وقتی حکومت دے سکتا ہے، لیکن عزت صرف وہی پاتا ہے جو حق پر قربان ہوتا ہے۔
یزید تخت پر بیٹھا… مگر آج ایک بھی وارث کا نام نہیں۔
حسینؓ مقتل میں شہید ہوئے… مگر اُن کی نسل رہتی دنیا تک زندہ رہے گی — کیونکہ وہ کوثر ہیں، اور یزید ابتَر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں