184

حکایتِ چابیاں اور دل

تحریر شئیر کریں

حکایتِ چابیاں اور دل

(قلیلہ و دمنہ — جدید حکایات سے انتخاب)
تحریر: روبینہ شاہین

ایک دن قلیلہ، دمِ نخلستان کی چھاؤں میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔

“اے دمنہ، عجیب زمانہ ہے۔ انسانوں کی بات سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ کوئی ہنسی میں چھپا ہوا درد لیے پھرتا ہے، تو کوئی خاموشی میں ایک طوفان۔ میں چاہتا ہوں سب کے دل جیت لوں، مگر ہر دل بند تالا ہے۔”

دمنہ ہنسا، ایک دانا لومڑی کی طرح آنکھیں سکیڑ کر بولا:

“اے قلیلہ! اگر ہر دل تالا ہے، تو ہر تالے کی چابی بھی ہوتی ہے۔ لیکن وہ چابی سب کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔”

قلیلہ چونکا۔ “کیا مطلب؟”

دمنہ درخت سے ایک پتا توڑ کر اسے ہتھیلی پر رکھتا گیا اور کہتا گیا:

“لالچی کا دل نصیحت سے نہیں کھلتا، اسے ذرا سا لالچ دو، دروازہ کھل جائے گا۔

غرور والے کو نیچا مت دکھاؤ، اس کے سامنے خود جھک جاؤ، اس کا غرور خود زمین بوس ہو جائے گا۔

بیوقوف کو دلیل سے سمجھانا ایسا ہے جیسے صحرا میں بیج ڈالنا — اسے چھوڑ دو، وہ خود ٹھوکر کھا کر سیکھے گا۔

عالم کو سچ دو، کیونکہ وہ جھوٹ کو آنکھ کے کناروں سے بھی پہچان لیتا ہے۔

جو اکیلا ہے، اسے الفاظ نہیں، صرف تمہارا ہاتھ چاہیے — ایک ساتھ، ایک سایہ، ایک کندھا۔

بھوکے کو فلسفہ مت دو، روٹی دو، کیونکہ بھوک اس وقت سب سے بڑی حقیقت ہے۔

بچے کو اصول مت دو، ایک کھلونا دو، وہ تمہارا ہو جائے گا۔

استاد کو علم نہ سکھاؤ، عزت دو، وہی اس کا مقام ہے۔

ساس کو طعنہ مت دو، میٹھے بول دو، زبان کی چاشنی دل کی کڑواہٹ کو مٹا دیتی ہے۔

شوہر کو دلیل مت دو، اسے سکون دو، وہ اپنی تھکن اسی میں بھولتا ہے۔

بیوی کو زیور مت دو، وقت دو، اس کا دل تمہارے لمحات میں جیتا ہے۔

نوکر کو دھمکی مت دو، عزت دو اور تنخواہ پوری، وہ تمہارے لیے جان دے گا۔

دوست کو قیمتی تحفے مت دو، صرف خلوص دے دو — وہ ہر قیمت پر تمہارے ساتھ رہے گا۔

دشمن سے لڑو مت، ایک بار ہاتھ جوڑ کر دیکھو، شاید وہ خود اندر سے ٹوٹا ہوا ہو۔

اور محبوب…؟”

دمنہ رک گیا۔

قلیلہ نے مسکرا کر کہا، “اسے الفاظ نہیں، ایک وعدہ چاہیے — میں تمہارا ہوں، ہمیشہ کے لیے۔”

درختوں نے سرسراہٹ کی، جیسے وہ بھی یہ حکایت سن کر سر دھن رہے ہوں۔

اور قلیلہ، اب جان چکا تھا…
دل جیتنے کے لیے دل کی چابی پہچاننی پڑتی ہے — کیونکہ ہر انسان ایک الگ تالا ہے۔

حکایتِ چابیاں اور دل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں