493

حیا ڈے

تحریر شئیر کریں

حیا ڈے
طاہرہ ملک
ہمارا پیارا وطن “اسلامی جمہوریہ پاکستان”ایک الگ نظریہ کی بنیاد پر دنیا کے نقشے پر ابھرا.وہ نظریہ صرف اور صرف اتنا تھاکہ مسلمان اپنے مذہب,تہذیب و ثقافت,لباس,زبان کے لحاظ سے ایک الگ پہچان رکھتے ہیں.جی ہاں یہی وہ نظریہ تھا جس کے لیے ہمارے لیڈروں نے دن رات محنت کی اور اپنے مقصد میں اللہ کی مدد سے کامیاب ہوے.ہمارےوہ تمام لیڈر جنہوں نے مسلمانوں کے حقوق کےلیے,اسلامی قوانین کو نافظ کرنے لیے قربانیاں دی ہیں,ہم ان کی کی قربانیوں کا یہ صلہ دے رہے ہیں کہ ان کے نظریہ کو بھول کر,ہاےافسوس اپنے مذہب کو بھول کر مغرب کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں.ان کا لباس,زبان ,اور رسم و رواج اپنانے میں ہم فخر محسو س کرتے ہیں.

اور ہم میں اتنی حیا باقی نہیں رہی کہ گناہ کو گناہ تسلیم کرنا تو دور کی بات ہم گناہ سمجھتے ہی نہیں ہیں.انسان سے غلطیاں سر زد ہو جاتی ہیں .لیکن ان غلطیوں کو تسلیم کر کے کے دوبارہ دوہرانا نہیں چاہیے.یہاں حقیقت برعکس ہے.ہم گناہ کر کے اپنے ضمیر کو یہ صفایاں دیتے ہیں کہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے.درخت کا ایک پتا بھی اللہ کی مر ضی کے بغیر نہیں ہلتا .لیکن یہاں پر میں کہوں گی کہ سب کچھ اللہ کی اجازت سے ہو رہا ہے.اللہ نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم سیدھے راستے پر چلیں گے تو اس کا ہمیں اجر ملے گا,اور اگر ہم اپنی اجازت سے برائ کا راستہ اختیار کریں گے تو روز جزا حساب لیا جاے گا.

اللہ کی مرضی تو پیغمبروں کا راستہ ہے.ہمارے پاس اختیار ہےاب ہم چاہیں تو اللہ کی مر ضی کا راستہ چنیں یا اپنی مرضی کا.ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں حیا کیوں نہیں رہی؟حیا نہ ہونا تو مذہب سے دوری کی علامت ہے.کیا ہم اپنے مذہب سے بہت دور ہیں؟کیا ہم اس بات کو بھول چکے ہیں یا ذہن نشین نہیں کر نا چاہتے کہ اللہ کہ دو فر شتے ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں اور ایک ایک لمحے کے بارے میں لکھ رہے ہیں .اور اللہ تعالی ہماری شاہ رگ سے بھی قریب ہیں .پھر بھی ہمیں گناہ کرتے ہوے حیا نہیں آتی اور ہم بڑ ے اعتماد سے گناہ کرتے ہیں


بخاری شریف میں حدیث ہے .”جب تم میں حیا نہ رہے تو جو جی میں آے کرو”.اب ہمیں اپنا محاسبہ خود کرنا ہے کہ ہم میں حیا باقی ہے یا نہیں ہے .ہم نے اللہ کی مرضی سے دنیا گزارنی ہے یا اپنی مر ضی سے.ہم اس فانی دنیا کہ مسافر اپنی خوبصورت منزل پانے کے لیے کس حد تک اپنے ساتھ مخلص رہیں گے.اللہ تعالی ہمیں اپنے مذہب پر چلنے اور اپنے وطن کے نظریہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرماےآمین.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں