خزانے کی تلاش کی چوتھی قسط ملاحظ کیجیے
کہانی پڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اس کہانی کا تعلّق کسی خاص ملک یا علاقے سے نہیں ۔ اس میں لکھے گٸے سبھی کرداروں کے ناموں کے ساتھ مقامات کے نام بھی فرضی ہیں ۔ کسی قسم کی مشابہت کا ہونا محض اتفاق ہو گا ۔
قسط 4
آج سحر کا وہ منظر یاد آتے ہی حسن کی آنکھیں بھرا گٸی تھیں ۔ ہاں وہی منظر جس میں وہ اپنے پیارے اللہ کے سامنے سسکیاں لے لے کر رویا تھا ۔۔۔ آنسُٶوں کے دریا بہا ڈالے تھے ۔۔ فریادوں کے طوفان اٹھا ڈالے تھے ۔ ہاں اس نے صرف اسی سے مدد کی بھیک مانگی تھی ، جس سے مدد ملنے کی امید تھی ۔ ساتھ ملنے کی تاٸید تھی ۔ وہی جس کے سوا تنہا لوگوں کو کبھی سہارا ملا ہے نہ مل سکتا ہے ۔۔۔ وہی جو بے سہاروں کا سہارا ہے ، بے آسروں کا آسرا ہے ، غمزدوں کا غمخوار ہے ، ٹوٹے دلوں کا بہترین دوست ہے ، وہی جو غرباء کا دوست ہے ، وہی جس کی موجودگی اس کے لیے کفر کے اس گڑھ میں اندھیرے کی کرن کی مانند تھی ۔۔۔ پھر وہ مدد کیسے نہ بھیجتا! آس کیسے نہ دلاتا! امید کیسے نہ بندھاتا! اور پھر اس نوجوان کو دیکھ کر حسن ایسا رویا کہ اس اجنبی کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آٸے ۔۔۔۔ حسن بھی سچا تھا ۔۔ اپنے سامنے ایک مسلمان کو دیکھ کر اس کے دل کا درد ابل کر باہر آ گیا تھا ۔ کسی اپنے کو دیکھ کر اسے درد بانٹنے کا موقع جو مل گیا تھا ۔ یہ بات اس کے لیے ڈوبتے کا ہاتھ تختے سے ٹکرانے کی مانند تھی ، کہ اس کا سامنا کسی مسلمان سے ہو گیا تھا ۔۔۔ اجنبی کی زبان سے اِنّا للہ اور الحمدللہ سن کر اس پہ جیسے ہی یہ حقیقت آشکارا ہوٸی کہ اس کے سامنے ایک مسلمان کھڑا ہے ، اسے یوں لگا ، اس کے سامنے کوٸی اجنبی نہیں ، اس کا سگا بھاٸی کھڑا ہے ۔
بمشکل حسن کو سنبھالتے ہوٸے اجنبی اسے لے کر قریبی بینچ پہ بیٹھ گیا ۔ حسن کو کچھ حیرت اجنبی کی زبان پہ بھی تھی جو اردو تھی
جب اس کی حالت کچھ سنبھلی تو اجنبی نے کہا ”بتاو میرے دوست! کیا پریشانی ہے ؟؟“
جوابًا حسن نے سارا قصہ سنا دیا ۔
اس نوجوان نے اپنا نام سعید بتایا اور بتایا کہ وہ بریشیا سے آیا ہوا ہے ۔۔ حسن کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ اس نے بھی اپنا تعارف کروایا ۔
قرآن جلانے کی تاریخ کا علم تو سعید کو بھی تھا اور کفار کے اس ارادے پہ بیریٹن کا کون سا مسلمان دکھی نہ تھا! سب کا درد مشترکہ تھا ۔۔
”اب کیا کیا جاٸے ؟؟“ سعید نے پوچھا ۔
”ہم! ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں ، اگر جذبہ سچا ہو “
”مگر پھر بھی ۔۔۔۔ آخر کوٸی پلاننگ تو کرنا ہی ہو گی“
”آپ میٹن میں اکیلے رہتے ہو ؟“ اس کی بات کا جواب دینے کے بجاٸے حسن نے سوال کیا ۔
”میں اور میرے ساتھ میرے چار سو ننانوے ساتھی فورٹن (بیریٹن کا ایک دور دراز شہر) سے یہاں آٸے ہوٸے ہیں ۔۔ شاید آپ کو معلوم نہیں ، شاہراہ رڈنی تعمیر ہو رہی ہے اس کی تعمیر کے لیے سول انجینٸیرز کی جو ٹیم یہاں بلواٸی گٸی ہے ، میں اس میں شامل ہوں “
سعید نے تفصیلا بتایا ۔
”آٸیڈیا!“ حسن چہکا ”آپ لوگ کب تک یہاں ہو ؟“
”21 ستمبر تک“ سعید نے بتایا ”20 ستمبر کو ہمارا پروجیکٹ مکمل ہو رہا ہے ، میٹن کے پانچ بڑے ہوٹلز میں ہم سب نے کمرے بک کروا رکھے ہیں ۔ ایک ایک ہوٹل میں سو سو انجینٸرز کی رہاٸش ہے اور پچھلے ایک سال سے ہم سب یہاں ہیں ۔“
”اوہ! گویا 20 ستمبر سے پہلے آپ لوگ فارغ نہیں اور قرآن جلانے کی تاریخ بھی 20 ستمبر ہے ۔ اس کا مطلب ہے میں نے جو آٸیڈیا سوچا ہے ، وہ کسی کام کا نہیں“
حسن نے ہاتھ ملتے ہوٸے کہا
”اس کا بھی کوٸی حل نکال ہی لیں گے“ سعید نے کچھ سوچتے ہوٸے کہا ۔
”آپ لوگوں میں کتنے مسلمان ہیں ؟“ حسن نے پوچھا
”ہم سب کے سب ۔شاید آپ کو علم ہو ، فورٹن صرف اور صرف مسلمز کا شہر ہے ۔ باقی میں بریشین ہوں جاب کے لیے یہاں آیا ہوا ہوں “
”
”جاب تو ہم اب کریں گے“ حسن کی آنکھوں میں چمک آ گٸی
”کیسے کرنی ہے ؟؟“ سعید نے پوچھا
حسن سعید کے کان کے قریب جھک کر کچھ بتانے لگا ، جسے سن کر وہ اچھل پڑا
اس نے آواز کی سمت قدم بڑھاٸے ۔ آواز حسن کے کمرے کی اس کھڑکی سے آ رہی تھی ، جو لان میں کھلتی تھی ۔ تقدیر نجانے کیا فیصلہ کرنے چلی تھی کہ کھڑکی کھلی تھی ۔ اس نے اندر جھانکا ۔ زیرو بلب کی روشنی میں نظر آتا وہ سایہ جو سامنے بیٹھا تھا ، یقینًا حسن تھا ۔۔ جو سرگوشیوں میں کچھ کہہ رہا تھا ۔
مگر وہ بات کس سے کر رہا تھا ؟؟ اس سوال نے اس کو لرزا دیا ۔ اس کے اندر کا شک اچھل کر حلق سے باہر آ گیا اور اس کے کانوں میں داخل ہو گیا ۔۔۔ مگر پوری کوشش کے باوجود وہ کچھ بھی سن نہ پایا ۔۔ آواز کافی ہلکی تھی ۔
اِتنا طے ہو گیا تھا کہ حسن آج کل کی ساری صورتحال کسی اور کے عِلم میں لا رہا ہے اور کسی سے مسلسل رابطے میں ہے ۔ یہ بات اس کے لیے اور اس کے ٹڈی دل آقاٶں کے لیے لرزا دینے والی تھی ۔۔ ۔
ایک لمحے کو اسے خیال آیا ، آج وہ حسن کا موباٸل چیک کرے گا مگر دوسرا خیال روح فرسا تھا ۔۔ کوٸی اور یہاں موجود تو نہیں ؟
آخر وہ کس سے بات کر رہا ہے ؟؟؟
دبے پاٶں وہ وہاں سے ہٹا اور پھر تیز تیز چلتا راہداری میں داخل ہو گیا ۔ حسن کے کمرے کے قریب پہنچ کر قدموں کی چاپ پھر ہلکی کی اور اندر جھانکا ۔۔ سامنے وہ آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔۔ اور بیڈ پہ رکھا اس کا موباٸل اس کے بے ضرر ہونے کی گواہی دے رہا تھا ۔ اس نے پورے کمرے میں نظریں گھماٸیں ۔۔ پھر اس کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا ۔
کیونکہ کمرے میں کوٸی بھی نہیں تھا ۔۔ مگر حسن بدستور بات چیت کر رہا تھا!!
وہ ذرا پیچھے ہٹا اور کان اس کی آواز پہ لگا دیے ۔ جوں جوں سنتا جا رہا تھا ، حالت غیر ہوتی جا رہی تھی ۔ حالت کی یہ غیریت یہاں تک پہنچی کہ اس کے لیے کھڑے رہنا مشکل ہو گیا ۔ وہ پیچھے ہٹا اور لڑکھڑاتا ہوا اپنے کمرے تک پہنچا ۔
گرتے پڑتے وہ اندر داخل ہوا ۔بیڈ پہ تقریبًا ڈھے سا جانے کے بعد اس نے آنکھیں موند لیں ، آنسو تواتر سے اس کے گال بھگونے لگے ۔
کوٸی سانپ تھا ، جو اس کے سینے پہ لوٹنے لگا تھا
وہ دونوں باہر کی طرف دوڑے ، مگر تب تک وہ لوگ جا چکے تھے ۔
پھولتی سانسوں کے ساتھ وہ گیٹ پہ پہنچے اور زابیل نے ایک محافظ کا گریبان جکڑ لیا ”ابھی اندد کس کو بھیجا تھا ؟؟“
”سر! دو نوجوان تھے ، ہمیں تو عیساٸی محسوس ہوٸے تھے ۔ کہتے تھے ، یہ عمارت دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں ۔۔۔ لہٰذہ ہم نے انہیں اندر بھیج دیا ۔ اب تو وہ واپس بھی جاچکے ہیں“
اِتنا سُنتے ہی ان دونوں نے باہر کی جانب دوڑ لگا دی مگر اِتنا تک اُن کے ذہنوں میں نہ آ سکا کہ ان کو ڈھونڈنے سے پہلے ان کے حلیے تو جان لیتے!!
کافی آگے جا کر ان کو اس بات کا خیال آیا تو سر تھام کر واپس لوٹے اور محافظوں کو تنبیہ کی کہ اب وہ لوگ آٸیں تو ان کو فورًا حراست میں لینا ہے اور پھر ہمیں اطّلاع دینی ہے
”سر! خیریت ؟؟“ ایک گارڈ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
”بس ذرا خطرہ ہے “ زابیل نے بات ٹال دی
اُسی دم زابیل کے موباٸل کی گھنٹی بجی ۔ نمبر انجانا تھا
اس نے اٹینڈ کیا
”ہیلو“
”زابیل ہو ؟“ دُوسری طرف سے پوچھا گیا
”ہاں“
دُوسری طرف سے نجانے کیا کہا جانے لگا کہ اس کا چہرہ متغیّر ہو گیا ، رنگ فق ہو گیا ۔
(خزانے کی تلاش جاری ہے)