452

خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں

خزانے کی تلاش کی ساتویں قسط ملاحظ کیجیے

قسط 7

پورے ہال میں کوٸی نہ تھا ۔
تھوڑا سا سوچنے پہ ہی معاملہ اس کی سمجھ میں آ گیا ۔ دروازے کے ساتھ ہی اکڑوں بیٹھ کر اس نے اس جگہ سے قالین ہٹایا اور فرش کو ہاتھ سے دبایا ۔
اگلے ہی لمحے سیمنٹ کی بڑی سی سلیٹ وہاں سے سِرک گٸی ۔ نیچے سیڑھیاں جاتی دکھاٸی دے رہی تھیں ۔ وہ تیزی سے ان میں اتر گیا ۔ کٸی سیڑھیاں اُترنے کے بعد ایک سرنگ نمودار ہوٸی ۔ اُس نے بغور ہر طرف دیکھتے ہوٸے تیز تیز دوڑنا شروع کر دیا ۔ ایک ہاتھ میں پِسٹل ، دُوسرے میں ٹارچ اور وہ دوڑا چلا جا رہا تھا ۔ ۔ آخر اس نے خود کو پوری اسپیڈ پہ چھوڑ دیا اور آخر اپنے ہاتھ والی مدھم روشنی میں اُسے تِین ساٸے دکھاٸی دے گٸے ۔
”میں تُمہیں چھوڑوں گا نہیں خزانے کے دُشمنو! “
وہ چِلّایا ۔ آواز سرنگ کی دیواروں سے گلے لگ کر واپس آ گٸی ۔ اُسے لگا ، وہ بھی ناکام ہو جاٸے گا ۔ اُس کا جوش اور غضب بڑھ گیا ۔

اِدھر وہ تینوں پوری رفتار سے دوڑ رہے تھے ۔ پیچھے سے دھپ دھپ کی آواز سناٸی دے رہی تھی ۔ موت سرعت سے ان کا پیچھا کر رہی تھی ۔ آواز تیزی سے قریب آ رہی تھی ۔
”رفتار تیز کرو ۔ “زابیل چلایا ۔


”ہاں عجیب بات “
برنیٹ نے کہا اور کُچھ دیر پہلے کا سارا قِصّہ سنا دیا ۔
”اوہ ۔۔۔ حسن کے منہ سے نکلا ۔ ”آخر ایسا کیا خزانہ ہو سکتا ہے وہاں ۔۔ کہ موت تک کی دھمکی دے دی گٸی ؟؟“
”یہی تو مَیں سوچ رہا ہوں ۔“ برنیٹ نے کہا ۔
”سر! آپ نے اُن نوجوانوں کا پیچھا کہاں تک کیا تھا ؟“
حسن نے پوچھا ۔
”تُم پریشان کیوں ہو گٸے ؟ ۔“ برنیٹ نے اسے گھورا ۔ شک کا کانٹا ابھی تک اس کے دل سے پوری طرح نہیں نکلا تھا ۔
”کُچھ نہیں سر!“حسن نے کہا ”مَیں سوچ رہا ہوں ، ہمیں خزانے کا کھوج تو لگانا ہی چاہیے ۔“
”یہ کَیسے ہو سکتا ہے! 20 ستمبر کو تو سب قرآن ہی جلا دیے جاٸیں گے ۔“
”ہاہاہا ۔۔ اُس خزانے کا راز معلُوم ہو جانے کے باوجود بھی!!“ حسن اپنی ہنسی نہ روک سکا ۔
”بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں اپنے رہنماٶں کو ۔ “برنیٹ نے بے بسی سے کہا ۔


پارک میں حَسن اور سعید کی گُفتگو سننے کے بعد جب وہ وہاں سے نِکلا ، اس کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا ۔ مگر فی الحال وہ آرام نہیں کر سکتا تھا ۔ اُس کے پاس وقت بہت کم تھا ۔ اُس کا ذہن آندھی طوفان کی رفتار سے منصُوبے بنا رہا تھا ۔
آخر وہ ایک نتیجے پہ پہنچا اِتنے میں ایک موڑ آیا اور اُس نے اپنے دل کے ساتھ ساتھ کار کا رُخ بھی موڑ دیا ۔
”سر! مَیں اُن کی پُوری گفتگو سُن کے اِسی نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں اب کُچھ کرنا چاہیے ۔“
وہ اب ایک گھر میں کِسی کے سامنے بیٹھا تھا ۔
”تُم پاگل ہو گٸے ہو اور اپنے ساتھ ساتھ مُجھے بھی پاگل کرنا چاہتے ہو ۔“
”سر! سر آپ نہیں جانتے ، مَیں نے کیا کیا نہیں دیکھا!! کہاں کہاں پھرا ہوں!! سر یہ سب دھوکا ہے ، سُراب ہے ،فراڈ ہے ۔۔ سر پلیز ۔۔۔ پلیز سر! اب اور نہیں ۔۔۔ اور نہیں سر! اُسی کے واسطے ۔۔۔ اُسی کے واسطے سر! جِس کو میں نے نہیں دیکھا“ کہتے کہتے وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا ۔
(اور یہاں پہ راٸٹر کے بھی آنسُو بہنے لگے ہیں)
وہ ہکّا بکّا رہ گٸے ۔ اِس ردّ عمل کی اُن کو توقّع نہ تھی ۔
”ہُوا کیا ہے ؟ مجھے تفصیل سے بتاٶ ۔“
وہ ذرا آگے ہو گیا اور دھیمی آواز میں بولنا شُرُوع کیا ۔
وہ ہمہ تن گوش ہو گٸے ۔۔
پُوری بات سُننے کے بعد اُن کا سر جھک چکا تھا ۔
”اب کیا کِیا جاٸے!“
وہ ہارے ہُوٸے لہجے میں بولے ۔
آپ ایک بار اُن نُسخوں کو دیکھ لیں ۔
”ٹھیک ہے ۔۔ ابھی چلو“


اب حسن کو اُس بلڈنگ کے اُسی ہال کمرے کی چابی حاصل کرنا تھی ، جس میں قُرآن کے نُسخے رکھے تھے ۔ وہ جانتا تھا ، اُس کمرے کے لاک کی کٸی چابیاں ہیں جن میں سے ایک چابی برنیٹ کے پاس بھی ہے ۔
حسن کو رات ہونے کا اِنتظار تھا ۔۔ وہ گھڑیاں گِن گِن کے گُزار رہا تھا ۔۔ بہت سے انجانے خدشے ستا رہے تھے ۔۔ مگر وہ مطمٸن تھا اور اُسے یقین تھا کہ اللّٰہ اس کا اور اُس کے ساتھیوں کا ساتھ ضرُور دے گا ۔
رات کے وقت وہ دبے پاٶں کمرے میں داخل ہُوا ۔ اس نے دیکھا ، برنیٹ گہری نیند سو رہا تھا ۔۔ وہ مطمٸن ہو گیا ۔ اس نے کی اسٹینڈ سے متعلّقہ چابی نکالی اور دبے پاٶں باہر نکل گیا ۔۔ اِس سے بالکل بے خبر کہ برنیٹ سو نہیں رہا تھا ۔ اُسے خُوب خبر تھی کہ کَمرے میں کون آیا اور کیا چیز لے گیا !!
حَسَن کو کُچھ عِلم نہ تھا کہ برنیٹ آج کل اُس کی نقل و حرکت پہ کِتنی کَڑی نگاہ رکھے ہوٸے ہے اور آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے ؟؟؟؟؟
(خزانے کی تلاش جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں