587

خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں

ساجدہ بتول

قسط 1

خزانے کی تلاش کہانی ہے ۔ایک ایسی کہانی جو منفرد بھی 5ہے اور دلچسپ بھی۔خزانے کی تلاش کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پہ ختم ، یہ سب اس کہانی میں ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”20 ستمبر کو قرآن جلاٸے جاٸیں گے اور تمہیں اس کے لیے میرا ساتھ دینا ہو گا“
برنیٹ نے تحکمانہ انداز میں حسن سے کہا
حسن جوابًا خاموش رہا
”تم خاموش کیوں ہو ؟“
برنیٹ دھاڑا
”یس سر!“ حسن کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوٸی
برنیٹ کٹڑ یہودی تھا ۔ اسلام سے شدید نفرت کرنے والا برنیٹ ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا تھا ۔ بیریٹن کی حکومت نے 20 ستمبر کو قرآن جلانے کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس کے لیے ایک عیساٸی ادارے سن شاٸن نے حکومت کو اپنی خدمات دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ سن شاٸن عیساٸیت کا پرچار کرنے والا ادارہ تھا ۔ اس کے کارکنوں نے پچھلے سال میں قُرآن مجید کے پچھتر ہزار نسخے حاصل کر لیے تھے ۔ یہ نسخے وہ مسلمانوں کا رُوپ دھار کر وقتًا فوقتًا خریدتے رہے تھے ۔ اب یہ تمام نسخے سن شاٸن کی مرکزی عمارت میں رکھے تھے ۔ 20 ستمبر کو اِن تمام نسخوں کو عمارت کے گراٶنڈ میں رکھا جانا تھا اور پھر کیمروں کی روشنی میں اِن نُسخوں کو تیلی دکھاٸی جانا تھی ۔ یہ منظر ٹی وی پر بھی دکھایا جانا تھا ۔
حسن مذہب سے درمیانہ سا لگاٶ رکھنے والا مسلمان تھا ۔ چند ماہ قبل غم روزگار اسے بریشیا سے بیریٹن کھینچ لایا تھا ۔ ایک دوست کے ذریعے یہاں آ کر اس نے کٸی کمپنیوں کو انٹرویوز دیے اور آخر سن شاٸن کے کارکن برنیٹ نے اسے اپنا سیکرٹری بنا لیا ۔ یہ ملازمت کوٸی چھوٹی مُلازمت تو تھی نہیں ، لہٰذہ اسے رہاٸش کے لیے بنگلہ اور نوکر چاکر بھی مل گٸے ۔ حسن جیسا ذہین نوجوان برنیٹ کو بہت کار آمد لگا تھا ۔


حَسَن جتنا بھی گنہگار سہی ، مگر مُسلمان تھا ۔ قرآن پاک کی قدرو قیمت کو دل و جان سے سمجھتا تھا ۔ اپنی اِسلامی اقدار سے واقف تھا ۔ وہ جانتا تھا ، اگر برنیٹ کا ساتھ دینے سے انکار کرے تو اسے مُلازمت سے فارغ کر کے بریشیا جانے والے جہاز میں بِٹھا دیا جاٸے گا ۔ یہ کام اُس کے لیے آسان ترین تھا ۔ مگر وہ اپنی آنکھوں سے قرآن کریم کو جَلتے بھی کیسے دیکھ لیتا!!
کبھی سوچتا ، وہ ایک گُنہگار اِنسان ہے ۔ اس کے لیے اتنا ہی

یہ بھی پڑھیے

گرمی والاکوٹ

کافی ہے کہ برنیٹ کا ساتھ دینے سے اِنکار کرے ، استِعفیٰ دے اور بریشیا واپس چلا جاٸے ۔ اس مہنگاٸی کے دور میں وہاں جا کر اپنے غریب گھرانے کی کفالت میں خوار ہو ۔ اور بیروزگاری اُس کا مُقدّر بن جاٸے ، اِس سے بڑھ کر وہ کر ہی کیا سکتا تھا! مگر کبھی اس کے ذہن پر اسلام پسندی غالب آ جاتی ، اللّٰہ کا خوف اُس کے دل میں بھر جاتا اور وہ سوچتا ”نہیں ۔۔۔ مُجھے اِن کے خِلاف کچھ کرنا ہو گا“
وہ عجیب کشمکش میں گھر چکا تھا ۔


ٹینشن کے مارے اُسے کُچھ سُوجھ ہی نہ رہا تھا ۔ اس نے گاڑی نِکالی اور سڑکوں پہ بے مقصد دوڑانے لگا ۔ اُسے پتہ ہی نہ چلا ، کب وہ راولا ہوٹل کے سامنے پہنچ گیا ۔ یہ ایک بہت بڑا ہوٹل تھا ۔ اس نے ایک کپ کافی پی کر اپنا غم غلط کرنے کا سوچا اور گاڑی ایک طرف کھڑی کر دی ۔ ہوٹل کے اندر قدم رکھے ہی تھے کہ اُسے محسُوس ہوا ، کوٸی اُس کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے ۔ اُس نے سر گھما کر اپنے داٸیں جانِب دیکھا ، وہ اُسی کی عمر کا نوجوان تھا ۔۔۔ اچانک حسن کی چیخ بلند ہوٸی ۔ اُس نے سہم کر نوجوان کی طرف دیکھا ۔ پھر اُس نوجوان کے لب ہِلے تھے ۔ حَسَن کی حیرت کا کوٸی ٹھکانہ نہ رہا ۔
( خزانے کی تلاش جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں