عظمیٰ ظفر
“امی،،، کیا سوچ رہی ہیں عمر کا ںخار تیز ہورہا ہے اتنی مشکل سے نمبر ملتا ڈاکڑ مبین کا اگر نمبر نکل جائے گا تو کیا کریں گی؟”
سارا نے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنا شروع کردی تھیں۔
اس نے سوچ اور پریشانی میں ڈوبی اپنی ماں کو پکارا۔
“ہاں،، ہاں،،، اچھا بخار تیز ہوگیا
کیا کروں کیسے جاوں”؟ سمیرا نے بے بسی سے کہا۔
“میں کب سے کہہ تو رہی ہوں اوبر منگوالیں نہیں تو رکشے سے چلی جائیں، میں ساتھ چلتی ہوں” سارا نے کہا۔
“نن نہیں،، تم کو لے کر نہیں جاوں گی۔”
سمیرا کے اردگرد سوچوں کا جال تھا
جوان جہان لڑکی کو کہاں اسپتال کے چکر لگاوں گی،
گھر میں بھی تنہا نہی چھوڑ سکتی،،،
پڑوس میں باپ جیسا چچا ہے بچپن سے سارا کو اپنی ںچیوں کی طرح پالا ہے، لیکن نہیں،،، وہاں بھی نہیں چھوڑوں گی۔
میں خود بھی تو گھر سے باہر نکلوں گی کہیں کچھ ہوگیا تو؟
شوہر تو ویسے ہی شکی مزاج ہے۔
سمیرا کے لیے قدم اٹھانا مشکل لگ رہا تھا معاشرے کے ناسور ماں، بہن، بیٹیوں زندہ مردہ سب کی تفریق بھول گئے ہیں۔
“یا اللہ کیا کروں؟”
“امی،،،”
سارا نے عمر کے بخار سے تپتے چہرے کو دیکھا۔
“آپ نے تو اس حادثے کو سر پر سوار کرلیا ہے ایسے تو آپ نفسیاتی مریضہ بن جائیں گی اور مجھے بھی ڈرا ڈرا کر بزدل کر دیں گی”۔
“تم نہیں جانتی سارا! خوف میرے دل میں بیٹھ گیا ہے محرم نا محرم کسی پر اعتبار نہیں رہا بس خوف ہے درندگی کا خوف
راتوں کی نیند اڑ گئی ہے دن کا سکون ختم ہوگیا ہے۔ کیسے کیسے برے خیال آتے ہیں زبان پر لا بھی نہیں سکتی۔
جان قربان کرسکتی ہوں عزت نہیں۔” سمیرا نے دو ٹوک کہا۔
“ٹھیک ہے پھر آپ پہلے میرا گلا دبادیں عمر تو بخار سے ویسے بھی مر جائے گا پھر آپ بھی خوف کشی کرلیجیے گا مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا”
سارا نے غصے سے کہا۔
سمیرا اس کی بات سن کر رو پڑی۔
” اللّٰہ نا کرے کیسی باتیں کر رہی ہو سارا۔”
“امی،، آپ کے ڈر اور خوف سے کچھ نہیں ہوگا اللّٰہ پر بھروسہ رکھیں میں چچا جان سے کہتی ہوں وہ عمر کو لے جائیں گے ڈاکڑ کے پاس آپ مت جائیں۔”
یوں سارا نے وقتی مسئلے کو حل تو نکال دیا تھا لیکن معاشرے کی اس درندگی کا کیا حل نکالیں جو ہماری جانوں کو لگ گیا پہلے ہی مسائل کم ہیں، آپ کیا کہتے ہیں؟
======================