خفیہ دراز
رات کا آخری پہر تھا، جب زریاب ہاؤس
کے دروازے پر دستک ہوئی۔ کرن، ایک نوجوان صحافی، نئے کرائے پر اس پرانے مگر شاندار حویلی نما گھر میں شفٹ ہوئی تھی۔ محلے والے کہتے تھے کہ یہاں برسوں پہلے ایک لڑکی کی پراسرار موت ہوئی تھی… اور تب سے اس مکان میں کچھ “عجیب” ہے۔
کرن نے پہلے دن سے ہی عجیب سی آہٹیں محسوس کرنا شروع کیں۔ سیڑھیوں پر قدموں کی آواز، بند کمروں سے سسکیوں کا نکلنا، اور کبھی کبھی آئینے میں کسی اور کا عکس۔ مگر وہ ایک حقیقت پسند صحافی تھی، ان باتوں پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا: “اگر کوئی راز ہے، تو میں اسے کھول کر رہوں گی۔”
ایک رات، صفائی کرتے ہوئے، کرن کو ایک پرانی لکڑی کی الماری کے پیچھے ایک خفیہ دراز ملی۔ اس دراز میں ایک خستہ حال ڈائری رکھی تھی، جس پر لکھا تھا:
“میرا نام زری۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے، تو جان لو، یہ خودکشی نہیں ہو گی۔”
کرن کی سانس رک گئی۔ ڈائری زریاب نامی اس لڑکی کی تھی جو اس گھر میں پندرہ سال پہلے “خودکشی” کر گئی تھی۔ مگر اب، کہانی بدلنے لگی تھی۔
کرن نے اس کیس پر تحقیق شروع کی۔ پولیس ریکارڈز، محلے والوں سے بات چیت، اور سب سے بڑھ کر ڈائری کے اوراق۔ ہر صفحہ ایک نیا انکشاف تھا: زریاب کو کسی نے ڈرایا دھمکایا تھا، اس کا پیچھا کیا جاتا تھا، اور اس کی آخری ملاقات… کسی “ق” نامی شخص سے تھی۔
کرن نے نوٹ کیا کہ گھر میں موجود پرانا ملازم، بخشو، ہر سوال پر خاموش ہو جاتا۔ وہ زریاب کے وقت سے ہی اس گھر میں تھا، مگر وہ کچھ چھپا رہا تھا۔ کرن نے ایک دن اس کا پیچھا کیا، اور دیکھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں گھر کے پچھواڑے کسی سے بات کر رہا تھا۔
ایک رات، کرن کو آواز آئی: “ڈائری واپس رکھ دو، ورنہ تم بھی مر جاؤ گی۔”
وہ پلٹی تو کسی کا سایہ غائب ہو گیا۔
وہ ڈری، مگر پیچھے نہ ہٹی۔ اس نے پولیس کو مطلع کیا، مگر ثبوت ناکافی تھے۔
تب ایک روز کرن نے زریاب کی آخری تصویر کی پچھلی جانب ایک نمبر لکھا پایا۔ نمبر تھا ایک سابق پولیس افسر کا، جو اس کیس سے اچانک ہٹا دیا گیا تھا۔
اس ریٹائرڈ افسر نے کرن کو بتایا کہ قتل کا شک زریاب کے چچا، قمر صاحب پر تھا، مگر سیاسی دباؤ کی وجہ سے فائل بند کر دی گئی۔ قمر اب شہر کے معروف بزنس مین تھے… اور وہی بخشو کا نیا مالک بھی تھے۔
کرن نے ایک اسمارٹ کیمرہ نصب کر دیا۔ ایک رات، وہ شخص خود گھر میں آیا — قمر صاحب۔ اور ان کے ہاتھ میں تھا وہی کلہاڑا جس کا ذکر زریاب نے ڈائری میں کیا تھا۔
کرن نے سب کچھ ریکارڈ کیا اور اگلے دن میڈیا پر نشر کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی۔ قمر کو گرفتار کر لیا گیا۔
اور وہ پرانا گھر… اب خالی نہیں تھا۔ اس میں ایک بے آواز گواہ اب ہمیشہ کے لیے بول اٹھا تھا۔
خفیہ دراز