274

دسمبر لہولہو،سانحہ پشاو ر

تحریر شئیر کریں

دسمبر لہولہو،سانحہ پشاو ر

اقراء ملک(میانوالی)

دسمبر کے آ تے ہی اسما چپ سی ہوجاتی ۔ہر چیز کی جگہ خا مو شی لے لیتی۔اداسی،مایوسی،اکتاہٹ،بے چینی،درد او رخوف غالب آ جاتا ۔ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم دسمبر سے خطوط لکھنے شروع کر دیۓ ۔اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین بھی غمگین ہو جاتے ۔


وہ خط لکھتے لکھتے نیند کی وادی میں چلی گئ ۔کمرے سے مدھم روشنی نکل رہی تھی۔ماں نے کمرے میں آ کر اسکی کتب سمیٹی ۔اس کے چہرے پر آۓ بالوں کو پیچھے کیا۔اس کی آنکھیں نم تھی ۔یہ بات جان کر ما ں کے دل میں درد اٹھا ۔


اسما کے ہاتھ کے نیچے سے اک خط ملا ۔وہ اسکو پڑ ھنے لگ گئی ۔ہر سال کی طرح آج بھی وہی الفاظ پرو ۓ گئے تھے ۔اسکو لگا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسما کو صبر آ جائے گا مگر شا ید کوئی چیز اسکے دکھ کا مرہم نہیں بن سکتی تھی


خط کی پہلی سطر پڑھتے ہی اس کی آنکھیں آ بشار کی ما نند بہنے لگیں
“پیارے علی! تمہیں گۓ ہوۓ آ ٹھ سال مکمل ہونے کو ہیں۔لیکن آج بھی تمہا رے علاوہ میرا کوئی دوست نہیں ہے ۔16 دسمبر 2014 کو تم نے شہادت کے بلند مرتبے کو پایا تھا۔مجھ آج بھی وہ منظر یاد ہے جب تم نے اک چھوٹی سی پری (جو تمہیں بھائی بولتی تھی )اور مجھے اپنی جان پر کھیل کر بچایا تھا ۔ان درندو ں نے تمہارے جسم کو گولیو ں سے چھلنی کر دیا تھا ۔

جب میں تمہارے پاس آئی تھی اس وقت تم شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کو تیار تھے۔تم مجھے تنہا کیوں چھوڑ گئے ؟۔آج میں نے آرمی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کر لی ہے۔تم نے مجھ سے آخری وقت وعدہ لیا تھا ناں کہ میں تمہا را ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرو ں ۔علی ! آج میں نے تم سے کیا وعدہ پورا کردیا ہے ۔لیکن علی ! کاش میں اس وقت اتنی بڑ ی ہوتی کہ تمہاری جان ان دہشت گردوں سے بچا سکتی”۔


اسی ا ثنا ء میں اسما کی آنکھ کھل گئی ۔وہ بول نہیں پا رہی تھی ۔ما ں کو دیکھ کر کچھ تسلی میسر ہوئی ۔ما ں علی میرے خواب میں آیا تھا ۔اس نے مجھے ڈاکٹر بننے پر مبارک باد دی ۔درد اور خوشی کی ملی جلی کیفیت نمایاں تھی ۔آنسو اسکے گالابی گا لوں پر لڑھک آۓ۔اس نے تہجد کی نماز ادا کی اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی ۔دودھیا ہاتھ آنسو ؤ ں سے بھیگ گۓ۔

دسمبر لہولہو،سانحہ پشاو ر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں