294

دنیا فانی

تحریر شئیر کریں

تحریر۔ آمنہ راجپوت

یہ سمندر یہ آسمان تارے یہ دنیا سب ایک فانی جگہ ہے، انسان جتنا بھی ترقی کر لے لیکن انسان کی حقیقت دو سانسوں کے بند ہونے میں ہے، پھر سب کچھ پیچھے رہ جائے گا، اپنے لیے لوگ اچھے سے اچھے کی تلاش میں ہوتے ہیں، اور اپنے آپ کو دیکھتے ہی دیکھتے کہاں سے کہاں تک لے جاتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے آخرت میں بھی جانا ہے، دوسرے جہاں کی فکر بالکل بھی نہیں ہوتی، اور انسان ایک دائرےکی طرح گھوم رہا ہے زندگی کے قریب، مگر زندگی کا پتہ نہیں چلتا دو پل کی یہ زندگی پتا نہیں کب ختم ہو جاتی ہے پتا بھی نہیں چلتا، اور جب اس دنیا سے جانے کا وقت آتا ہے تو سب تدبیریں سب خوش فہمیاں وعدے قسمیں اور باتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، اور انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا،

آج کا انسان مکمل طور پر ایک مشین کی طرح بن گیا ہے، صبح سے لے کر شام تک پیسہ بنانے کی مشین کی طرح لگا ہوتا ہے، مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ہم نے اگلے جہاں بھی جانا ہے، ساری کوشش و محنت کے بعد بھی آخر کار انسان لوٹ کے واپس جانا ہی ہے، انسان دنیا کی ہوس میں اتنا آگے چلا جاتا ہے کہ مرنے یا دوسرے جہاں جانے کا کوئی خوف نہیں ہوتا،

ایسے میں جب تھوڑا سا کوئی مسئلہ پریشانی ہوتی ہے، تو اپنے رب کی یاد آتی ہے، لیکن آج کا انسان اس سوچ کا مالک ہے وہ نہیں جانتا یہ مال دولت جمع کر رہا ہے وہ کسی کام کا نہیں ہے، جو لوگ اس بات کو سمجھ جاتے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوار لیتے ہیں، یہ دنیا ایک فانی جگہ ہے یہ دل لگانے کی جگہ نہیں ہے،۔

دنیا فانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں