دوپٹہ امی کا ایک خوبصورت کہانی
از: مدیحہ صدیقی
’’ارے ارے اماں ایک منٹ‘‘ خالد نے آواز لگائی اور ردا جو باورچی خانے سے آنے والی سالن کی خوشبو پر چونک کر چمچ ہلانے کے لئے اُٹھی تو پیچھے بیٹھے خالد کی آواز پر گھبرا کر گردن موڑی۔ ’’کیا ہوا بیٹا؟!‘‘ ’’کچھ نہیں اماں بس آپ کے ڈوپٹے سے چشمہ صاف کررہا تھا‘‘ ’’توبہ ہے ٹشو پیپر لے لیا کرو۔‘‘ ردا نے ڈانٹا۔ ’’نہیں اماں آپ کے ڈوپٹے سے زیادہ اچھا صاف ہوتا ہے‘‘ ماں سے محبت میں گُندھے لہجے میں خالد نے مُسکرا کر جواب دیا جس پر ردا کی ممتا سرشار ہوگئی اور اُس نے بھی مُسکراتے ہوئے باورچی خانے کا رُخ کیا۔ یہی ہوا کرتا تھا ردا کا ڈوپٹہ ایسا کثیر المقاصد کپڑے کا ٹکڑا تھا جس میں اولاد کے کئی مسائل کا حل تھا۔ آج ہی صبح نبیہہ کی آنکھ میں شاہد نے کھیلتے ہوئے انگلی ڈال دی وہ تو گرتی پڑتی ایک آنکھ سے دیکھتی ہوئی امی امی کا نعرہ لگاتی آنسو بہاتی ماں کے سر پر پہنچ گئی اور جھٹ اماں نے بھی فرسٹ ایڈ یعنی اپنا ڈوپٹہ اُٹھایا اور پھونک مار مار کر آنکھ کی سکائی شروع کردی یوں نبیہہ کو تسلی ہوئی۔
ماں تو ہے ہی محبت کا دوسرا نام جب بھی فائزہ کی اپنی سہیلی سے لڑائی ہوجاتی آنسو بہاتی ردا ہی کے ڈوپٹے سے خشک کرتی۔ ’’کئی مرتبہ کہا ہے اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی سہیلیوں سے لڑائی نہ کیا کرو‘‘ ’’امی آپ کو نہیں پتہ‘‘ اور دھائیں دھائیں روتی امی کے ڈوپٹے میں منہ چھپالیتی اور ردا پیار سے فائزہ کے بال سمیٹتی اُسے درگُزر کے گُر سکھاتی۔ یہی ڈوپٹہ ہوا کرتا تھا جو ڈھائی سالہ فہمینہ نیند کی آمد کے ساتھ ہی اپنے سینے سے لگا کر ہاتھوں کے دائرے میں سمیٹ کر دنیا و مافیھا سے بے خبر سوجاتی پھر یہی ڈوپٹہ ہی تھا کہ جوں ہی ردا نماز کے لئے کھڑی ہوتی، ندا بھاگ کر ردا کی الماری سے ڈوپٹہ کھینچ لاتی اور برابر میں نماز شروع کردیتی اور یہ ردا کا ڈوپٹہ ہی تو تھا جو وہ رب کے آگے جھولی پھیلا کر اولاد کے لئے دو جہاں کی عافیت مانگتی۔
یہ صرف ایک آنچل ہی نہیں یہ محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں یہ اللہ اور رسولﷺ کی محبت کے بعد سب سے زیادہ برستی ہوئی محبت کی بارش ہے، اُس محبت و الفت کی جو بچے کی تخلیق سے شروع ہوکر اولاد کی آخرت کے سنور جانے کی فکر تک جاتی ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی آنکھوں سے ہر دو صورت میں آنسو رواں ہوجاتے ہیں چاہے وہ اولاد کی تکلیف ہو یا اُس کی کامیابی دونوں ہی اُس کے دل کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ٹھنڈا اور میٹھا چشمہ ہے جو مانگے یا بِن مانگے محبت اور تحفظ سے سیراب کرتا ہےدوپٹہ امی کا جاری ہے
مگر شاید ہمیں اِس نعمت کی قدر نہیں۔ ہم اندھا دھند مغرب کی تقلید میں لگے ہوئے ہیں جن کی اولاد آیاؤں اور ڈے کیئرز کی نذر ہورہی ہیں۔ وہ آیائیں کہ جن کے ہاتھ میں نہ محبت کا لمس ہے اور نہ رہنمائی کا جذبہ وہاں کے بچے لاوارث ہیں اور اُسی نقالی میں اس کثرت سے ڈے کیئرز قائم ہورہے ہیں لیکن یہ ضرور ہی یاد رکھنا چاہئیے آج کا ڈے کیئر آنے والی نسلوں میں اولڈ ہومز قائم کرنے کا جذبہ شدید کردے گا جو کہ نظر آنا شروع ہوچکا ہے۔ یہی معاشرہ ہے جو ننھے وجودوں سے ماں چھین کر آیا اور ماسی دے رہا ہے جو کہ محبت کا لمس اور نرم بوسے سے محروم ہو کر جھنجھلاہٹ اور دانٹ کی سختی کا شکار ہورہے ہیں
وہ مائیں کہاں سے آئیں گی جو بیٹیوں کو نسلوں کی تربیت کرنا سکھائیں گے اور بیٹوں کے سینے رب اور رسول کے لئے غیرت سے بھردیں جنھیں حلال و حرام کی تمیز سکھائیں، اسوقت ہم اپنی اولاد سے مسلسل غافل ہیں اور اُن کے ہاتھوں میں موبائل گیمز، کمپیوٹر اور ٹیبلٹس تھما کر مصروف کردیا ہے، یہ بچے بہت تیزی سے اپنی بنیادوں اور اپنے دین سے دور ہورہے ہیں ھمیں ضرور اس پر سوچنا ہوگا۔ یہ ہمارے کل کا سوال ہے ورنہ یہ وہ نقصان ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ خدارا اپنی اولاد کو خود سے دور نہ کریں۔ محبت، تحفظ اور رہنمائی ان کا حق ہے انہیں محروم نہ کریں، اپنی رعیت کی حفاظت کریں اُنہیں صدقہ جاریہ بنائیں، اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچائیں۔
دوپٹہ امی کا