دھوکہ مختصر افسانہ
وہ نقاب میں چہرہ چھپائے کافی دیر سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔پہلے مجھے لگا کہ میرا وہم ہے کچھ دیر بعد مجھے احساس ہویا کہ وہ حقیقت میں میری منتظر ہے ۔
می نے بھی انا کے بہکا وے میں آے بغیر اس سے ہم کلام ہونے کا ارادہ کیا ۔
هم كلام ہونے پر پتہ چلا وہ وہی تھی جسے میں کافی عرصہ قبل اپنی زندگی سے نکل جانے کا کہ چکا تھا۔ آج بھی اسکی آنکھوں می وہی کشش تھی جس پر میں مر مٹا تھا ۔
میں نے اس سےصرف اتنا پوچھا کہ اداس اور تنہا کیو ں بیٹھی ہو ؟
وہ نم انکھو ں سے بولی :”هجوم سے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہی اس شخص کو نہ دیکھ لو جس کے جانے کے بعد میں نے جینا چھوڑ دیا ہے۔ “
یہ کہتے ہویے اسکی انکھوں سے بارش برسنے لگی ۔میرا شد ت سے دل . چا ہا کہ اسکے آنسو کو اپنی هتھيلی میں سمو لو لیکن پھر وہی انا ا ڑ ے ا گی ۔اور میں جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہویا وہ ہنستے ہویے بولی “:بس کردے کب تک یہ جھوٹا دکھاوا کرے گا، کم از کم خود کو تو دھوکا مت دے ۔”
جہا ں ہر بات پر اسکو ڈانٹ دیتا تھا آج پتہ نہیں شا ید جواب نہیں تھا اسی لئے خا موش ہو کر چل دیا ۔
اقراء ملک۔