رات کی آخری چیخ 230

رات کی آخری چیخ

تحریر شئیر کریں

جاسوسی کہانی

ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ سڑک کے کنارے لگے بلب جھپکنے لگے تھے، جیسے انہیں بھی کسی انجانے
خوف نے جکڑ لیا ہو۔ احمد نے اپنی گاڑی کا دروازہ بند کیا اور سنسان سڑک پر نظریں دوڑائیں۔ آج وہ کام سے دیر سے نکلا تھا، اور اب اسے جلدی گھر پہنچنا تھا۔

اس نے گاڑی کا انجن اسٹارٹ کیا اور سڑک پر چل پڑا۔ شہر سے باہر نکلتے ہی راستہ سنسان ہونے لگا۔ گھپ اندھیرا، جنگل نما درخت، اور دور کہیں اُلو کی آواز… سب کچھ کسی بھیانک خواب کا منظر پیش کر رہا تھا۔

چند میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اچانک گاڑی کے سامنے کوئی چیز آئی۔ احمد نے فوراً بریک لگائی، لیکن جیسے ہی وہ باہر نکلا، وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔

“شاید کوئی جانور تھا،” احمد نے خود کو تسلی دی اور دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔

چند منٹ بعد، ریئر ویو مرر میں کسی کو بیٹھے دیکھ کر اس کا خون خشک ہو گیا۔

ایک عورت، لمبے کالے بال، سر جھکائے بیٹھی تھی۔

“ک… کون ہو تم؟” احمد کی آواز لرزنے لگی۔

عورت نے سر اٹھایا۔ اس کا چہرہ خوفناک حد تک سفید تھا، آنکھیں خالی، اور ہونٹ سلے ہوئے…

احمد کی سانسیں رکنے لگیں۔ اچانک، عورت نے ایک زوردار چیخ ماری اور گاڑی کے شیشے خود بخود چکنا چور ہونے لگے۔

گاڑی میں اندھیرا چھا گیا… احمد نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز نہ نکل سکی…

اگلی صبح، پولیس کو سڑک کنارے ایک تباہ شدہ گاڑی ملی، جس میں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ احمد کہاں گیا؟ یہ کوئی نہ جان سکا…

جاری ہے…

احمد کی آنکھ کھلی تو وہ ایک اجنبی جگہ پر تھا۔ چاروں طرف دھند تھی اور زمین ٹھنڈی اور گیلی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا سر چکرا رہا تھا۔ “یہ میں کہاں ہوں؟” وہ بڑبڑایا۔

اچانک، دور سے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ احمد نے ارد گرد دیکھا، مگر دھند کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ پھر وہی عورت نمودار ہوئی، مگر اس بار اس کی آنکھیں سرخ انگاروں کی مانند جل رہی تھیں۔

“تم یہاں کیوں آئے؟” اس کی بھاری آواز گونجی۔

“م… میں… میں نہیں جانتا!” احمد کے الفاظ اٹکنے لگے۔

“یہ جگہ زندوں کے لیے نہیں!” عورت کی آواز گونجی، اور اچانک احمد کو ایسا لگا جیسے زمین اس کے پیروں تلے ہل رہی ہو۔

وہ بھاگنے کے لیے مڑا، مگر جیسے ہی اس نے قدم بڑھایا، اس کے پیروں میں کوئی چیز لپٹ گئی۔ نیچے دیکھا تو انسانی ہاتھ تھے، جو زمین سے نکل کر اسے کھینچ رہے تھے۔

احمد نے پوری طاقت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، مگر ہاتھ مزید سختی سے جکڑنے لگے۔ اس کے حلق سے ایک زوردار چیخ نکلی۔

پھر سب کچھ تاریکی میں ڈوب گیا…

صبح کے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی: 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں