262

راز کی بات

تحریر شئیر کریں

رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ چاندنی کی ہلکی روشنیصحن کے فرش پر کسی پراسرار کہانی کی مانند بکھری تھی۔ اماں کے ہاتھوں میں دعا کی تسبیح گردش کر رہی تھی، لیکن ان کی نظریں دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔

بیٹی جوان ہو جائے تو گھر میں دو چیزیں ہمیشہ کے لیے ختم کردینی چاہئیں: راز اور غفلت۔ یہ بات اماں نے دادی سے سیکھی تھی، اور آج جب نورہ جوان ہو چکی تھی، تو اماں کو اس بات کا مطلب پہلے سے کہیں زیادہ واضح محسوس ہو رہا تھا۔

نورہ بچپن ہی سے حساس طبیعت کی مالک تھی۔ وہ ہر چیز کا مشاہدہ کرتی، سوال اٹھاتی اور چیزوں کو جوں کا توں قبول کرنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو کھوجنے کی کوشش کرتی۔ لیکن پچھلے چند دنوں سے وہ کچھ زیادہ ہی خاموش ہو گئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک خوف سا تھا، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو لیکن ہمت نہ کر پا رہی ہو۔

ایک رات اماں نے نورہ کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔ کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی اور تسبیح کے دانے آہستہ آہستہ اماں کی انگلیوں سے سرک رہے تھے۔

“نورہ بیٹی، کچھ دنوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ تُو پریشان ہے۔ کیا بات ہے؟” اماں نے نرمی سے پوچھا۔

نورہ نے آنکھیں اٹھا کر اماں کی طرف دیکھا، پھر تیزی سے نظریں جھکا لیں۔ “کچھ نہیں اماں۔ بس ویسے ہی…” اس کی آواز میں لرزش تھی۔

اماں نے نورہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ “بیٹی، راز دل میں رکھنے سے وہ بوجھ بن جاتے ہیں۔ بتا، کیا ہوا ہے؟”

نورہ نے ایک گہری سانس لی اور دبے الفاظ میں بولی، “اماں، میں نے کل رات کچھ عجیب دیکھا تھا۔ ابّا کے کمرے کی کھڑکی سے کوئی شخص اندر آ رہا تھا۔ جب میں نے غور سے دیکھا تو وہ ہمارے محلے کے حارث چچا تھے، لیکن وہ چھپ کر کیوں آ رہے تھے؟”

اماں کا چہرہ یکدم سخت ہو گیا، جیسے وہ کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ “حارث چچا؟ تُو نے یقیناً کچھ غلط دیکھا ہوگا، بیٹی۔ وہ تو تیرے ابّا کے پرانے دوست ہیں۔”

نورہ کی آواز میں بے چینی بڑھ گئی۔ “نہیں اماں! میں نے خود دیکھا۔ اور اس کے بعد ابّا نے دروازہ لاک کر لیا۔ پھر کسی کی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔ اماں، کچھ تو غلط ہو رہا ہے۔”

اماں نے گہری سوچ میں ڈوب کر نورہ کی طرف دیکھا۔ راز اور غفلت—یہی دو چیزیں تھیں جو ایک گھر کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ کیا آج ان کے اپنے گھر میں بھی کوئی ایسا ہی راز پل رہا تھا؟

نورہ کی آنکھوں میں سچائی تھی، اور اماں جانتی تھیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خود حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔

(جاری ہے…)

اگلی رات جب پورا گھر نیند کی آغوش میں جا چکا تھا، اماں اور نورہ دوبارہ ابا کے کمرے کی طرف بڑھیں۔ کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو حارث چچا اب بھی وہی فائل کھولے بیٹھے تھے، جبکہ ابا کے چہرے پر اضطراب نمایاں تھا۔

“یہ آخری موقع ہے، برادر۔ کل صبح سب کچھ طے ہو جائے گا۔” حارث چچا کی سرگوشی سنائی دی۔

اماں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ انہوں نے نورہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور دبے قدموں واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھیں۔

“اماں، یہ کیا ہو رہا ہے؟” نورہ نے بے چینی سے پوچھا۔

اماں نے دروازہ اندر سے بند کر لیا اور آہستہ آواز میں بولیں، “یہ معاملہ ہماری سوچ سے زیادہ پیچیدہ لگ رہا ہے۔ مجھے ابا سے خود بات کرنی ہوگی۔”

اگلی صبح ناشتے کی میز پر اماں نے نرمی سے بات شروع کی۔ “آپ رات گئے تک جاگ رہے تھے؟ کچھ خاص بات تھی؟”

ابا نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، پھر بولے، “بس حارث کے ساتھ کچھ ضروری معاملات پر بات ہو رہی تھی۔”

نورہ نے فوراً پوچھا، “کیا یہ معاملات اتنے خفیہ ہیں کہ ہمیں بھی نہیں بتا سکتے؟”

ابا چونک گئے۔ اماں نے سنجیدہ لہجے میں کہا، “ہم نے خود دیکھا ہے، کچھ ایسا چل رہا ہے جو عام نہیں لگتا۔ اگر یہ ہمارے گھر کی بھلائی کے خلاف ہے، تو ہمیں اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔”

ابا نے گہری سانس لی، جیسے کوئی فیصلہ کر رہے ہوں۔ “تم ٹھیک کہہ رہی ہو، زبیدہ۔ مجھے معلوم تھا کہ تمہیں شک ہو جائے گا۔ اصل میں…”

ان کے الفاظ ابھی مکمل بھی نہ ہوئے تھے کہ دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ باہر دو پولیس افسر کھڑے تھے۔

“مسٹر نعیم، ہمیں اطلاع ملی ہے کہ آپ کے پاس کچھ اہم دستاویزات ہیں جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ہمیں تفتیش کرنی ہوگی۔” ایک افسر نے سخت لہجے میں کہا۔

نورہ اور اماں نے ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھا۔ ابا کا چہرہ زرد پڑ گیا، جبکہ حارث چچا کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ اماں نے پرسکون لہجے میں کہا، “آپ جو بھی تلاش کر رہے ہیں، وہ شاید ہمارے علم میں نہیں، لیکن ہم سچائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

یہ کہتے ہی نورہ نے ایک گہری سانس لی۔ اسے محسوس ہوا کہ راز اور غفلت کے درمیان جو لکیر تھی، وہ آج ہمیشہ کے لیے مٹ چکی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں