289

رسول بیگم اور بھینسیں

تحریر شئیر کریں

گجرات کی خاک آلود گلیوں میں ایک بوڑھی ماں، رسول بیگم، زندگی کے تھپیڑوں سے بے نیاز اپنی آخرت کی فکر میں مصروف تھی۔ جوانی میں اُس نے اپنے بچوں کے لیے اپنا تن، من، دھن سب قربان کر دیا۔ مگر وقت بدلا، اور وہی اولاد جب اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی، تو ماں کے سائے کو بوجھ سمجھ کر دروازے سے نکال دیا۔

اس دن رسول بیگم کے پاس صرف ایک چیز بچی تھی — اپنی پیاری بھینس کا بچہ، جسے وہ “کالی” کہتی تھی۔ وہ بچہ اس کے لیے صرف ایک جانور نہیں تھا، بلکہ اس کی امید، اس کی جمع پونجی، اور حج کے خواب کی تعبیر تھا۔

وہ ریلوے اسٹیشن کے ایک سنسان کنارے پر بسیرا کر کے رہنے لگی۔ دن بھر کالی کو چراتی، خود سوکھی روٹی کھاتی، اور بھینس کے دودھ کو بیچ کر پیسے جوڑتی۔ تین سال گزرے، اور اس کی محنت سے اس کے پاس تین خوبصورت، موٹی تازی بھینسیں ہو گئیں۔ وہ خوش تھی، کیونکہ اب حج کی منزل قریب محسوس ہونے لگی تھی۔

مگر خبر جب اولاد تک پہنچی تو وہ لالچ میں اندھی ہو کر واپس آ گئی۔ “ماں، ہم سے غلطی ہو گئی، اب تم گھر چلو!”
مگر رسول بیگم نے انکار کر دیا۔ اُس نے سکون سیکھ لیا تھا اور دل کے زخم بھرنے لگے تھے۔

اگلی ہی صبح، جب وہ جاگی تو ریلوے اسٹیشن کے کونے سے بھینسوں کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ تینوں بھینسیں غائب تھیں۔ اُس کی سانسیں رکنے لگیں۔ لوگ کہنے لگے، “اماں، پولیس رپورٹ درج کراؤ!”
مگر وہ آسمان کی طرف دیکھ کر رو پڑی،
“میں نے اللہ کے ہاں رپورٹ کر دی ہے… اُس کی عدالت کبھی بند نہیں ہوتی!”

اگلی صبح کا منظر حیران کن تھا۔

جیسے ہی فجر کا وقت ہوا، پورے ریلوے اسٹیشن پر بھینسیں ہی بھینسیں تھیں۔ آس پاس کے لوگ حیران، کچھ نے کہا شاید کسی نے مذاق کیا ہے، مگر رسول بیگم جانتی تھی — یہ اُس کی دعا کا جواب تھا۔

نہ صرف اس کی پرانی تین بھینسیں واپس آ چکی تھیں، بلکہ ساتھ تین اور تھیں، اُن کے گلے میں پرچی لٹک رہی تھی:

“یہ اس ماں کے لیے ہیں جس نے رب پر یقین رکھا۔”

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ اسے ولی کہنے لگے، کچھ نے کہا کہ اللہ نے زمین پر اپنی عدالت دکھا دی۔ رسول بیگم نے وہ بھینسیں فروخت کیں اور کچھ ہی مہینوں بعد، سفید احرام میں مکہ کی گلیوں میں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ وہ لبیک کہہ رہی تھی — اُس رب کو جس نے اُسے اس کی اولاد کی خودغرضی کے بدلے اپنا قرب عطا کیا۔

—

💔 سبق:

رسول بیگم کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان ٹھکرائے تو رب سنبھالتا ہے۔ جب دنیا کی عدالتیں بند ہو جائیں، تو آسمانوں کا در کھلا رہتا ہے۔ ماں کی دعا، سچی نیت، اور صبر کا صلہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔

—

🔍 SEO Keywords:

رسول بیگم گجرات, ماں کی دعا کا اثر, حقیقی اسلامی کہانی, بھینس چوری اور معجزہ, ماں کے جذباتی قصے, رب کی عدالت, پاکستانی ایمان افروز واقعات, حج کی سچی کہانی

—

اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی، تو شئیر کریں تاکہ ہر وہ اولاد، جو والدین کو بوجھ سمجھتی ہے، عبرت حاصل کرے۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “رسول بیگم اور بھینسیں”

  1. اسلم ا۔ وعلیکم کیا میں اپنی کوی کہانی لکھ کر بھیج سکتی ہون

تبصرے بند ہیں