رمضان المبارک کی گزرتی ساعتیں
وقت کی رو تیز ہے بلکہ تیز تر ہے اس کا اندازہ گذرتے رمضان سے ہوا۔
رمضان المبارک آیا بھی اور چلا بھی گیا پورے 23 روزے یوں پلک جھپکتے میں گزر گئے کہ پتہ ہی نہ چلا۔
رمضان کی مبارک ساعتوں، فضیلتوں اور برکتوں سے کس نے فائدہ اٹھایا اور کون بدقسمت خالی دامن ہی رہا؟ یہ تو ہر شخص خود اپنا جائزہ لے سکتا ہے۔
دلوں کے اندر جھانکیے اور دیکھیے یہ ریگ مال کتنا کام کر گیا۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ بیمار دل اتنے مؤثر ٹانک سے محروم ہی رہے ہوں اور ابھی بھی غصے، کینے، بغض اور نفرتوں کی آگ میں جھلس رہے ہوں۔
رمضان آتا ہے ہماری کجیوں، کمیوں کو دور کرنے۔ تو پھر اس رمضان میں میرے اندر کی ٹیڑھ کتنی درست ہوئی؟
اس ماہ مبارک میں نفل فرض کے برابر اور فرض ستر گنا بڑھا دیے جاتے ہیں توجائزہ لیجیئے کہ معاملات کے نوافل کہاں تک پہنچے؟
نبئ محترم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق ہر سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں اور ان میں سے ان لوگوں کی بخشش ومعافی اور اجر کا معاملہ مؤخر کردیا جاتا ہے جن کے باہم کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے ساری عبادات دھری کی دھری رہ جائیں گی جب تک دل صاف نہ ہوئے۔دلوں میں گنجائش پیدا کیجیے آگے بڑھ کر معاف کر دیجئے۔
آج رات پھر طاق رات ہے آج پھر آپ قیام و سجود میں وقت گذاریں گے آج پھر عفو وکرم کی التجائیں کریں گے۔جس چیز کا مطالبہ رب کریم سے کریں گے اور اس کی شان ہے کہ جب کوئی طلب کرتا ہے تو وہ اپنی شان کے مطابق دیتا ہے اگلے کی اوقات نہیں دیکھتا تو کیوں نہ ہم بھی اپنے پیاروں کو ان کی غلطی کی بجائے اپنے ظرف کے مطابق معاف کر دیں۔
دوستوں کے لیے تو ہم بہت اچھے ہیں ذرا رشتوں کے ترازو میں خود کو تولیے اور وزن کیجیے۔
پھر دیکھیے یہ عبادت واقعی حلاوت بخشے گی اور عید سچ میں عیدسعید لگے گی۔
ابھی چند دن ہیں اپنے اعمال نامے سے سارے گناہ نیکیوں میں بدلوا لیجیئے۔
اپنے دل پسند مال اللہ کی دل پسند جگہوں پرخرچ کر ڈالیے۔
اپنا محبوب وقت اس کی رضا میں کھپا دیجئیے۔
اپنی عزیز انا اس کی چاہت میں قربان کر دیجئیے۔
پھر دیکھیے دعائیں بھی قبول ہوں گی اور عبادتیں بھی مزہ دیں گی۔
حقداروں تک پہنچئے اور حق پہچانیے یہ ہے رمضان کا پیغام اور یہی اس کا مقصد ہے. اسی لیے اسے شھر مواساۃ کہتے کہا گیا۔
دلوں کے زنگ زدہ قفل کھلتے نہیں تو توڑ ڈالیے ورنہ محرومی مقدر ٹھہرے گی اور اگلا رمضان کس نے دیکھا یہاں تو اگلی ساعت کا پتہ نہیں۔
تو پھر بیٹھیے اور سوچیے اپنے پیاروں کے بارے جو ہماری انا کی بھینٹ چڑھ چکے۔آج رات ان سب کو دل سے معاف کر دیجئے کوئی بات نہیں اگر وہ قصور وار بھی ہیں تو ہم بھی تو اپنے قصوروں پر ہی معافی کے طلب گار ہیں۔
ان کے لیے دل سے دعا کیجئے کہ اللہ ان کے دل صاف کر دے اور انہیں معاف کر دے۔
یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو اپنے مومن بھائی کے لیے کوئی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کے حق میں وہی دعا قبول فرماتا ہے ۔کیسا پیارا نسخہ ہے آج اس پر بھی عمل کر دیکھئے ۔ہر وہ چیز اپنے بہن بھائیوں کے لیے مانگیے جو آپ کی خواہش و ضرورت ہے۔
آج کی رات اور آنے والی دو راتیں مانگیے اور صرف مانگیے صاف دل کے ساتھ، محبت کے ساتھ، خشوع کے ساتھ، امید ورجا کے ساتھ، یقین کے ساتھ اور رب بڑی شان والا ہے امید ویقین سے مانگی کوئی دعا رد نہیں کرتا۔ بغض وکینے سے پاک اٹھے ہاتھوں کو ناکام نہیں لوٹاتا۔
اللہ آپ کو اور مجھے رمضان المبارک کی ان گذرتی ساعتوں سے مکمل فیضیاب کرے۔آمین
ثوبیہ عمار… جھنگ