روح کا سفر…. نصرت یوسف اپریل 2022
پتھر سے بنی سیڑھیاں اونچے ستون، چبوترہ اور ارد گرد کے قدیم درخت اور انکے ساتھ پھیلا غیر مرئ سکوت اس عمارت میں داخلے وقت سحر کررہا تھا، میں ان سیڑھیوں پر بیٹھنا چاہتی تھی، فنا اور بقا کے لبادے مجھے اسکی کھڑکیوں میں متحرک لگ رہے تھے، آوازیں، چہرے، قدموں کی چاپیں اور پھر موت کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ، انسان میں اکڑ واقعی مضحکہ خیزی سے زیادہ کچھ نہیں، چوترے پردائیں دیوار کے ساتھ ساۓ کے پھایہ میں رکھی کرسی پر بیٹھا مسکین سے تاثرات والا آدمی بائیں جانب دیوار پر لگا یونیسف کی ہدایات پر مبنی کووڈ ویکسینیشن بورڈ.
یہاں پہنچ کر میرے قدم کچھ سست ہوگۓ، مجھے رکتا دیکھ کر مسکین پر امید نگاہوں سے دیکھنے لگا. اسے بخشش کی طلب تھی شاید، کرسی پر بیٹھا گداگر.
نظریں اس جانب سے ہٹاتے میں نے اونچے برجوں کو مرعوبیت سے دیکھا،” حضرت صالح انکی قوم اور انکی جانب بھیجی گئ اوٹنی سب نہ جانے کتنے بلند ہونگے؟” ، خیال کی لہر تھی جو راستہ بناتی گزری.
1906 میں بنی اس عمارت میں طاقت کا اختیار اسی ملت کے پاس تھا جو آج 2022 میی بھی فاتح ہے، بھوک ہو بھیک ہو، کوُک ہو یا نیک ہم آج بھی اسی ملت سے ملی کُمک پر جیتے ہیں. چبوترہ سے جڑے عظیم ہال میں بیٹھے انسان اتنے چنے منے سے لگ رہے تھے کہ پہاڑوں کو تراشنے والی قوم پھر کیا ہوگی، وہ باکمال تھی لیکن خدا واحد کی وفادار نہ تھی، پرانی عمارتیں مجھے حال میں زندہ نہیں رہنے دیتیں، یہ کوئی مناسب طرز نہیں بحرحال.
لکڑی کی پچیس یا لگ بھگ تیس میزیں کووڈ ویکسینیشن کے لیے عملہ سمیت موجود تھیں، ہر دو میزوں کے ساتھ فلور اسٹینڈنگ انورٹر کھڑا تھا اور عملہ کام کی قلیل ترین مقدار سبب پارٹی کے سے ماحول میں تھا.
جوان انسانوں کے وقت اور توانائی کی یہ بے حرمتی تھی، دل کو یہ نظارہ خوشکن نہ لگا.. سرکاری وسائل کا اس قدر ضیاع کچھ نیامنظر یا معلومات تو نہ تھیں لیکن منظر کا حصہ بننے میں دکھ اندر تک چلا گیا.
یہ ہی ہال تھا جہاں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی کو انکے رفقاء سمیت انگریز حکومت نے آزادی کی جدوجہد کرنے پر سزا سنائی تھی، “اف یہ ماضی سے آنے والی آوازیں!”
بوسٹر میرے دائیں بازو میں انجیکٹ ہوچکا تھا، اور لگانے والی دوشیزہ نے کمال ادا سے کاغذ کے ٹکرے سے ٹکور کردی.. غم اور حیرت سے بازو پر چپکے کاغذ کو دیکھا اور ٹھنڈے ٹھار وسیع ہال سے انّاللہ وانّا الیہ راجعون پڑھتے باہر آگۓ. مولانا کو دو سال قید انگریز نے اپنے کاغذ پر لکھ دی تھی، اور ایک کاغذ ہمارے پاس چپکا تھا. وہ 1921 تھا یہ 2022..حال میں زندہ رہ کر مجھے بھی کچھ کرنے کو سانسیں دی گئیں ہیں. خالق دینا ہال سے نکلتے شاعر کہہ رہا تھا
تھا لمحۂ وصال کہیں جسم سے پرے
اب اس جگہ سے کون پکارے وجود کو