290

زمین قدرت کا ایک معمہ

تحریر شئیر کریں

زمین قدرت کا ایک معمہ

ثامرہ نزیر

یہ زمین ہے میرے پیروں تلے،آگے اور پیچھے،دائیں اور بائیں ۔میں کتنا ہی بھاگنا چاہوں کہ اس کے سرے سے باہر نکل جاؤں ،نکل نہ سکوں گی ۔غور کریں یہ زمین کتنا بڑا معمہ ہے ۔یہ کن چیزوں سے بھری ہوئی ہے۔


اس کے اندردہکتی آگ بھی ہے اور پانی بھی۔ جو زندگی کی بقا کا ذریعہ ہے ،گڑے ہوئے پہاڑ ہیں جو اس کو پکڑ کر رکھے ہوئے ہیں مبادا کے یہ ڈولے نہ ، دولت یعنی سونا ،چاندی اور دیگر قیمتی معدنیات بھی جس کی خاطر انسان اس کی سطح پر مسلسل جنگیں لڑ رہا ہے۔روز قیامت یہ سب خزانے نکال باہر کرے گی مگر تب انسان کو ان سے کوئی غرض نہ ہوگی۔

قاتل دیکھ کر کہے گا کہ اسی(مال ) کی وجہ سے تو میں نے قتل کیا تھا،رشتہ دار ی توڑنے والا کہے گا:اسی وجہ سے تو میں نے رشتہ داری توڑی تھی،چور دیکھ کر کہے گا کہ اسی مال کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا پھر سب اس مال کو چھوڑ دیں گے اور کوئی اس میں سے کچھ نہیں لے گا۔


اس کے پیٹ میں ان گنت مردہ انسان دفن ہیں۔اگر یہ اس کی اجازت نہ دیتی تو انسان کس قدر مشکل میں پڑ جاتا ۔اس کی سطح زندوں کا مسكن ہے ۔اور اس کا پیٹ مردوں کا ۔ معلوم نہیں اس کے اندر کتنے رنگ اور ذائقے پوشیدہ ہیں۔یہ انسان کی ضرورت کی ہر چیز اگاتی ہے۔انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے رنگارنگ سجےباغات ، اس کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے انواع اقسام کی خوردنی اشیاء بھی ۔


سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسان زمین کو دیتاہی کیا ہے سوائے بوجھ کے ۔زندہ ہو یا مردہ ،یہ دونوں طرح زمین پر بوجھ ہے۔یا یہ اس کے چھوٹے چھوٹے حصوں پر اپنا حق جتاتے ہوئے جنگیں لڑتا ہے اور اس دوران زمین کو برباد کرنے میں بھی یہ تردد نہیں کرتا ۔ اور بدلے میں وہ اسے کیا دیتی ہے ۔کیا ہو اگر وہ اس کے پیروں کے نیچے سے کھسکنا چاہے۔ مردوں کو چھپانے سے انکار کر دے ۔ اس کے لئے اگانے سے مکر جائے ۔

اپنے خزانوں کو ہاتھ بھی نہ لگانے دے ۔پانی کو اتناگہرائی میں لے جائے کہ انسان کی اس تک رسائی نہ ہو ۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرتی۔ وہ بے غرض ہو کر خود غرض انسان کو سب کچھ دیتی ہے ۔ بدلہ نہیں لیتی ۔
ناکارہ چیز لے کر احسن چیز لوٹاتی ہے ۔ اس کوایک بیج دو، یہ تناور درخت لوٹاتی ہے ۔


اے انسان !زمین سے سیکھ ۔حسن سلوک کیا ہوتا ہے ۔بدلہ کیسے لوٹایا جاتا ہے ۔خیر خواہی کیا ہوتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں