334

سارہ کا خواب

تحریر شئیر کریں

سارہ کا خواب
مصنفہ : مہک یامین

سردی کے دن تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوایں چل رہی تھیں۔ احمد اور علی کمبل اوڑھے مونگ پھلیاں کھا رہے تھے اور مزے لے رہے تھے اچانک امی کی آواز ائ۔
” احمد! علی!” بیٹا سونا نہیں ہے کیا”؟ پتا ہے نا! صبح اسکول بھی جانا ہے ۔
دونوں ایک آواز ہوکر بو لے” جی! بس لیٹ رہے ہیں۔ لیکن پہلے آپ ہمیں کہانی سنائیں پھر ہم سوئیں گے”۔
امی نے کہا “ٹھیک ہے آج میں اپ کو سارہ کی کہانی سناتی ہوں” ۔
سارہ بہت ہی اچھی بچی تھی۔ صبح وقت پر اٹھتی رات کو وقت پر سوتی،اپنی تمام چیزیں ترتیب سے رکھتی تھی ۔ کھانے میں ہر چیز کرتی اور اللہ کا شکر ادا کرتی۔ لیکن اس میں ایک بات نہایت بری تھی وہ بڑوں کا کہنا نہیں مانتی تھی اور ہر بات پر ضد کرتی تھی۔
ایک مرتبہ وہ اپنے اسکول گئ ہوئ تھی ۔اسکول میں اردو کے استاد سر رضا پڑھا رہے تھے۔ لیکن اسکا دھیان پڑھائی کی طرف بالکل بھی نہیں تھا بلکہ وہ اپنے ہاتھ میں ایک کھلونا لیے کھیل رہی تھی۔ اچانک سر کی نظر اس پر پڑی۔
سر نے اس سے کھلونا چھین لیا اور کہا “پڑھائی پر توجہ دیں ۔بس پھر کیا ہونا تھا, اس نے زور زور سے چیخنا اور رونا شروع کردیا کہ میرا کھلونا واپس کردیں مجھے نہیں پڑھنا۔
سر نے پیار سے سمجھایا کہ “بڑوں کی بات مانتے ہیں اور استاد سے عزت سے پیش آتے ہیں” لیکن , مگر اسکے کانوں پر جوں تک نہں رینگی آخر کار چھٹی کا وقت ہو گیا ۔
اس نے گھر پہنچ کر ایک طرف اپنا بیگ پھینکا تو دوسری طرف جوتے , موزے اور اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئ ۔
لیٹتے ہی اسے نیند ا گئ , خواب میں کیا دیکھتی ہے کہ وہ بڑی ہوگئ ہے اور استانی بن گئ ہے۔
بچے اسکی بات نہیں سن رہے, اسکا بہت مذاق اڑا رہے ہیں ۔وہ شدید غصے اور بے بسی کے عالم میں کلاس سے باہر نکلتی ہے کہ اچانک اسکی آنکھ کھل جاتی ہے۔
پھر وہ اپنے رویے سے بہت شرمندہ ہوتی ہے
اور اب اسے اپنی امی کی باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔ایک مرتبہ امی نے تفصیل سے بتایا تھا کہ استاد کی عزت کرنا کتنا ضروری ہے ۔
یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
“بے شک مجھے معلم بنا کے بھیجا گیا ہے” ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں