=============
“سیلاب زدہ لُٹیرے”
آج میں بہت غصے میں ہوں مجھے کچھ غصہ نکالنے دیجیے گا پلیز. دو دن سے فیس بُک پر اودھم مچا ہوا ہے کہ سیلاب متاثرین لٹیروں کی طرح امدادی ٹرکوں کی لوٹ مار کرتے ہیں. سامان چھین لیتے ہیں اور لڑنے لگتے ہیں. خاص طور پر دور کے بڑے شہروں سے امداد بھیجنے والے اس بات کا پراپیگنڈا کر رہے ہیں.
آپ نے معلومات بھی لی ہیں یا جو کچھ کسی وال پر پڑھا اسے آگے فارورڈ کرنا فرض عین سمجھ لیا ہے؟
کون لوٹنے والے تھے اور لُٹنے والے کون تھے،، میں آپ کو اپنا آنکھوں دیکھا حال بتاتا ہوں.
پرسوں لاہور سے ایک این جی او ٹائپ تنظیم کے کچھ افراد پراڈو گاڑیوں میں سیلاب زدہ علاقے میں آئے ہوئے تھے جن کے ساتھ دو ٹرک سامان راشن وغیرہ تھا. بڑی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے مسٹرز اینڈ میم صاحبان گرمی کی وجہ سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہ رہے تھے. ہوم ورک کرکے نہیں آئے تھے. مقامی کسی تنظیم سے رابطہ نہیں تھا بس کسی جاننے والے کو بلا رکھا تھا جو شاید کہیں مصروف تھا.
اس نے انھیں انتظار کرنے کا کہا تو یہ ایک گھنٹہ لوگوں کو اپنے پیچھے لگائے آہستہ آہستہ شہر کے اندر ٹرک لیے پھرتے رہے. کسی نے ان کو ہماری تنظیم کا بتایا تو مجھ سے فون پر رابطہ کیا اور ہمارے کیمپ کے باہر آگئے. مجھ سے بات ہوئی، میں نے انھیں متاثرہ بستیوں کا بتایا کہ آپ وہاں جاکر بانٹ دیں. میں راستوں کی رہنمائی کے لیے دو لڑکے آپ کے ساتھ بھیج دیتا ہوں. یہ لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے. راستے میں ان کو ان کے اسی بندے کا فون آیا کہ بس پہنچنے والا ہوں رک جائیں. یہ نفیس لوگ تھوڑی دیر مزید انتظار کرکے تھک گئے تو ایک ٹرک کھول کر سامان بانٹنا شروع کردیا جو کہ سکون سے تقسیم ہورہا تھا کہ اتنے میں ان کا بندہ وہاں پہنچ گیا. اس نے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور فلاں سردار کے ڈیرے پر چل کر سامان تقسیم کریں. انھوں نے تقسیم روک کر روانہ ہونا چاہا تو گھنٹوں ان کے پیچھے پیچھے پھرنے والا ہجوم سردار کے ڈیرے کا سن کر مشتعل ہوگیا کہ جن سرداروں نے ہمارا استحصال کر رکھا ہے اب اتنا انتظار کرنے کے بعد پھر این جی اوز کی طرف سے آنے والی امداد بھی انھی کے لوگوں کو نوازی جائے گی؟ اسی بات پر ہجوم مشتعل ہوا، نعرے بازی بھی کی گئی اور لوگ ٹرک کے آگے بھی احتجاجاً بیٹھ گئے.
دیکھیں اگر آپ اتنے نفیس ہیں کہ ایک منٹ بھی دھوپ برداشت نہیں ہوتی تو مہربانی کریں خود تشریف نہ لایا کریں. اپنے ملازموں کے ذریعے سامان تقسیم کرا دیا کریں لیکن پلیز یہاں کے لوگوں کو بدنام نہ کریں. بھوک کے مارے لوگوں کو گھنٹوں اپنے پیچھے پھرانے کے بعد آپ کہیں اور چلے جائیں گے تو صاف ظاہر ہے لوگوں میں بے چینی تو بڑھے گی. راجن پور، تونسہ اور ڈیرہ غازی خان پڑھے لکھے لوگوں کے شہر ہیں. یہاں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ توبہ توبہ کی پوسٹس لگا کر ظاہر کر رہے ہیں.
رہی بات غیر مستحق افراد کی جن کو آپ پروفیشنل یا بھکاری کہہ کر سامان اکٹھا کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں تو مجھے بتائیں کہ کیا آپ خود کسی ٹرک کے پیچھے ہزار دو ہزار کے سامان کے لیے بھاگیں گے؟
ایک شہر میں کتنے بھکاری ہوتے ہیں جن سے آپ کو جان اور سامان کا خطرہ ہے؟
ہاں آٹے میں نمک کے برابر کچھ لوگ واقعی سیلاب زدہ نہیں ہوتے لیکن آپ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ اس علاقے میں دیہاڑی داروں کی روزی بھی بند ہے. کوئی کام کرا رہا ہوگا تو مزدوری بھی ملے گی.
آدھے سے زیادہ شہر تو ڈوبے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں. وہ شام کو گھر کیا لے کر جائیں گے؟
ان کے بچے کیا کھائیں گے یہ سوچا ہے آپ نے؟
استحقاق کا فیصلہ کرنے والے آپ کون ہوتے ہیں؟
لاہور، اسلام آباد یا کراچی سے ایک دن کے لیے آکر ٹھنڈی گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے چار منٹ میں آپ یہاں فیصلہ بھی کرلیں گے کہ کون مستحق ہے اور کون نہیں؟
اگر آپ کو یہاں کسی پر بھروسہ نہیں ہے تو بے شک یہاں مت آئیے. کسی رجسٹرڈ بڑی آرگنائزیشن کو فنڈ کر دیجیے لیکن پلیز ہمارا مذاق نہ اڑائیے.
ہمارے شہر نے سیلاب جیسی آفت پہلی بار دیکھی ہے. ہم بیچاروں کو تو ڈھنگ سے مانگنا بھی نہیں آتا اور آپ ہمیں لٹیرے کہتے ہیں؟؟
یقین مانیں میں نے ان لوگوں کو بھی لائن میں لگے ہوئے دیکھا ہے جو اپنی بیٹھک پر بٹھا کر مسافروں کو سارا سارا دن کھانا کھلاتے تھے. ہم دو سال پہلے سے کرونا جیسی بیماری کے مارے ہوئے لوگ ہیں جن کا سارا انحصار کاشت کاری پر ہے. اس سیلاب میں فصلیں بھی نہیں رہیں اور گھر بھی ڈوب گئے ہیں. آپ سفید پوشی بچانے کی بات کرتے ہیں ہمارے لیے تو اس وقت جان بچانا مشکل ہو رہا ہے. بھوک بہت گندی چیز ہے بھیا! یہ تہذیب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی.
“سیلاب زدہ لُٹیرے”
عثمان کریم بھٹہ