زندگی ایک نکتے پہ رک گئ تھی۔ایک کنارے پہ کھڑے تھے دونوں۔۔بس ایک جھٹکا چاہیے تھا یا اس پار یا اس پار۔۔۔جب کیفیت یہ ہو کہ بس ابھی گۓ۔تب دل ہردم اچھل کر حلق۔میں آن بیٹھتا ہے۔کچھ اچھا نہیں لگتا۔ساری رونقیں معدوم ہو جاتیں ہیں۔نجانے کیوں؟کبھی کبھی اپنے کیے ہوۓ فیصلے بھی اپنا ساتھ نہیں دیتے۔ایسا کیوں ہوتاہے؟یا پھر اسی کے ساتھ ہو رہا تھا۔اس نے گھر کی دہلیز تو پار کر لی تھی۔اب اسی گھر سے جانے کا دکھ بھی تھا اور نا جانے کی تمنا بھی۔۔ یہ دوہرا عذاب آخر اس کے حصے میں ہی کیوں آیا تھا۔اللہ۔۔اتنی بڑی آزمائش ہوتا ہے یہ عورت کا گھر ۔۔۔جو دراصل اسے کے شوہر کا گھر ہوتا ہے۔جس کے ہونے سے سارے گھر عورت کے ہوتے ہیں۔بھائی کا گھر،باپ کا گھر مگر جب یہ ایک چھت نا رہے تو کوئی بھی اپنا نہیں رہتا۔کتنی تلخ حقیقت تھی اس بے رحم زمانے کی۔جو تلوار کی نوک پہ لکھی عورت کو ہمہ وقت اس ننگی حقیقت سے روشناس کرواتی رہتی ہے۔اسے جب جب یہ ننگی حقیقت یاد آتی تب تب دل چاہتا لیگسوٹنل کی گولی کھا کر سب کچھ بھول جاۓ۔دماغ سن ہوجاۓ۔یکلخت اسے یاد آیا۔لیگسوٹنل کی گولی کھانے کی تمنا اس کو اس تلخ ترین شادی کے تین سالوں میں کیوں نا ہوئی؟کیا وہ پچھتا رہی تھی؟پھر لیگسوٹنل کی گولی میری زندگی میں آنےو الی تھی۔۔۔نہیں نہیں۔۔ وہ تو کب کی چھوٹ گئ تھی۔۔ تب سے جب اس نے سرخ جوڑا پہنا تھا۔وہ سرخ جوڑا جو بہت سی ٹینشنوں کا خاتمہ کرتا ہے اور بہت سی ٹینشنوں کو جنم بھی دیتا ہے۔اب فیصلہ کرنا تھا۔کہ کون سی زندگی کا چناو کیا جاۓ۔وہ جو لیگسوٹنل کے ساتھ یا پھر لیگسوٹنل کے بغیر مگر شوہر کے ساتھ ؟جیسا بھی تھا اس کے ہوتے ہوۓ لیگسوٹنل تو نہیں کھاتی تھی نا۔۔۔چلیں اتنا تو ان تین ماہ مین جان ہی لیا تھا۔پتہ نہیں اس کی تقدیر میں کیا لکھا تھا۔وہ نہیں جانتی۔۔۔بس اللہ سے دعا ہے کہ جو بھی ہو اس کا کرم اس۔کے ساتھ ہو۔۔۔کرم ہوگا تو سب کچھ آسان ہوجاۓ گا وہ بھی جسے کونین کی گولی سمجھ کر چھوڑ آئی تھی۔وہ جو بھری دنیا میں اس کا واحد اپنا تھا۔نجانے کچھ ماہ سے بیگانہ کیوں ہوگیا تھا۔اس کی یہی بیگانگی بے رخی اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی وہ اسے بتا نہیں سکتی تھی۔۔اس لیے چپ چاپ چلی آئی۔
393