روبینہ شاہین
گاؤں کی فضا میں اداسی چھائی ہوئی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی، لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک عظیم کہانی چھپی ہوئی تھی۔ یہ کہانی اس وطن کے شہیدوں کی تھی، جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے اس ملک کو آزاد کروایا۔
پرانے درخت کے نیچے بیٹھے بوڑھے دادا جان اپنے پوتے احمد کو جنگ کی کہانی سنا رہے تھے۔ احمد کی آنکھوں میں چمک اور دل میں سوالات کی ایک دنیا آباد تھی۔
“دادا جان، آپ نے بھی جنگ میں حصہ لیا تھا؟” احمد نے معصومیت سے پوچھا۔
دادا جان نے اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، “ہاں بیٹے، میں بھی اس جنگ کا حصہ تھا۔ ہم سب نے مل کر اپنے وطن کی حفاظت کی۔”
احمد نے حیرانی سے پوچھا، “دادا جان، آپ نے کبھی خوف محسوس نہیں کیا؟”
دادا جان نے مسکراتے ہوئے کہا، “خوف تو تھا، بیٹے، لیکن وطن کی محبت نے ہمیں خوف سے آزاد کر دیا تھا۔ ہم جانتے تھے کہ اگر ہم پیچھے ہٹ گئے تو ہمارا وطن تباہ ہو جائے گا۔”
دادا جان نے کہانی سنانا شروع کی۔ “یہ ۱۹۴۷ کا زمانہ تھا۔ ہمارا گاؤں دشمن کے حملوں کا نشانہ بن گیا تھا۔ ہم نے اپنے گھروں کو چھوڑا اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے نکل پڑے۔”
دادا جان کی آواز میں جذبات کا طوفان تھا۔ “میرے دوست علی، جو میرے ساتھ بچپن سے تھا، نے اپنی جان قربان کر دی۔ اُس نے کہا، ‘دادا، اگر ہم نہیں لڑیں گے تو ہمارے بچے کبھی آزادی نہیں دیکھ سکیں گے۔'”
احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “دادا جان، علی چچا بہت بہادر تھے۔”
دادا جان نے احمد کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا، “ہاں بیٹے، علی صرف بہادر نہیں تھا، وہ ہمارا ہیرو تھا۔ اس کی قربانی نے ہمیں یہ آزادی دی ہے۔”
احمد نے عزم سے کہا، “دادا جان، میں بھی اپنے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔”
دادا جان نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “بیٹے، وطن کی خدمت کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا، اسے تعلیم، محنت اور ایمان سے مضبوط بنانا ہوگا۔”
احمد نے وعدہ کیا، “دادا جان، میں ہمیشہ اپنے وطن کی خدمت کروں گا۔”
دادا جان کی آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے۔ “بیٹے، یہی شہیدوں کا خواب تھا کہ اُن کے بچے ایک آزاد اور خوشحال ملک میں جی سکیں۔ تم جیسے نوجوان ہی اس خواب کو حقیقت بنائیں گے۔”
یہ کہانی سن کر احمد نے عزم کیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے گا اور اپنے وطن کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ دادا جان کی کہانیاں ہمیشہ اس کے دل میں رہیں گی، اور وہ کبھی اُن بہادروں کی قربانیوں کو نہیں بھولے گا جنہوں نے اسے ایک آزاد وطن دیا۔
اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ وطن کی محبت اور خدمت ہی اصل عبادت ہے۔ شہیدوں کی قربانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہمیں اپنے وطن کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔