553

ضدی بچوں کو ہینڈل کیسے کریں؟

تحریر شئیر کریں

۔

ضدی بچوں کو ہینڈل کیسے کریں?؟

ضدی بچوں کو ہینڈل کیسے کریں ؟یہ ہر گھر اور ہر ماں کا مسئلہ ہے۔ماہرین کے کچھ ٹپس جن پر عمل کر کے ہم اس پہ قابو پاسکتے ہیں۔

عموما مائیں شکایت کرتی نظر آتیں ہیں کہ ہمارا بچہ ضد بہت کرتا ہے۔بات سن کے اندازہ ہوتا ہے کہ بچہ دس بارہ سال کا ہوگا۔مگر بہت حیرت ہوتی ہے جب پتہ چلتا بچے کی عمر بمشکل دو یاتین سال ہے۔لمحہ فکریہ ہے جب بچہ اتنی چھوٹی سی عمر میں سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے تو بڑے ہو کر کیا عالم ہوگا۔؟

اس حوالے سے ہمیشہ یہ یاد رکھیں۔کہ جو حکمت عملی طے کریں اس پر سختی سے خود بھی عمل کریں اور باقی گھر والوں کو بھی اس حوالے سے اپنے ساتھ رکھیں۔

بچہ جب ضد کرے تو آپ نے اسے رسپانس نہیں دینا۔اگنور کرنا ہے۔اور اسیے بیٹھنا ریلیکس ہو کر جیسے آپ نے سنا ہی نہیں۔یہ بہت اہم پوائنٹ ہے۔عموما ایسے موقعوں پر مائیں سمجھانا شروع کر دیتیں ہیں۔یہ ٹھیک نہیں۔یا پیار کرنا شروع کر دیتیں۔اس وقت سمجھانا،پیار کرنا،ڈانٹنا یہ سب نقصان دہ ہے۔آپ نے صرف ایک کام کرنا اسے کچھ بھی نہیں کہنا۔اور اگر بچہ مار نا شروع کردے۔بعض بچے رسپانس نا پاکر ماں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اگر بچہ ایسا کرتا ہے تو اسے زور سے پکڑیں اسکی آنکھوں میں دیکھیں اور کہیںں” نو”اور اس کے کمرے میں چھوڑ دیں۔آپ دیکھیں گے کہ بچے پر اس رویے کا اثر ضرور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

میوزک اسلام اور جدید سائنس

ضدی بچوں کو ہینڈل کیسے کریں ؟اس حوالے سے ماوں کو زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔بچے کی ضد کے حوالے سے ناروے میں ایک اصول ہے اگت بچہ رات کو روتا ہے تو اسے کبھی دودھ مت دیں۔کیونکہ اسے پتہ چل جاۓ گا کہ رونے سے دودھ مل جاۓ گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بچے ساری عمر بلیک میل کرتے ہیں۔لہذا جڑ پکڑو۔۔۔ابتداء سے ایسے ہینڈل کرو کہ ضد کے بیج اس کے اندر نمو نا پاۓ۔یہ ماں باپ ہوتے ہیں جو بچے کے اندر ضد کے بیج بوتے اور اپنے رویوں سے مضبوط کرتے ہیں۔امام غزالی کا فرمان ہے جس نے اپنے بچے کو ضد سے بچا لیا اس نے ہر شر سے بچا لیا۔

ماں کو چاہیے اگر بچہ جنک فوڈ کی ضد کرتا ہے تو طے کریں کہ یہ نہیں کھلانا۔جب بچہ مانگے تو گھر میں نٹس کھجور اور اس طرح کی صحت مند چیزیں رکھیں جو ضد کرنے پہ بچوں کو فراہم کی جا سکیں۔ماؤں کو اس حوالے سےگھر کے دیگر افراد کو بھی اپنے ساتھ ملانا ہے۔ان کے ساتھ بنا کر رکھنی ہے کھانے کے چیزیں متبادل دادا دادی وغیرہ کو دے دی جاۓ تاکہ بچے کو ضد کرنے پہ دے سکیں۔اس طریقے سے بچے کو باہر کے جنک فوڈ سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

اس سلسلے میں اہم بات یہ کہ بچے کو بے جا لاڈ پیار کا عادی مت بنائیں۔جب بچہ دیکھتا ہے کہ مجھے اتنا پیار مل رہا ہے تو وہ ہر چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے۔اور نہیں ملتی تو چھین لینا چاہتا ہے۔ایسے کردار بڑے ہو کر بھی اسی روش پہ قائم رہتے اور معاشرے اور اپنی ذات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو تے ہیں۔بچے کو کھلائیں سونا کا نوالہ مگر دیکھیں شیر کی نگاہ سے۔۔۔یہ اصول تربیت کے لیے ہمیشہ یاد رکھیں۔

آج کل بچے موبائل کی ضد کرتے ہیں۔موبائل کا بھی وقت طے کریں کہ کتنے وقت کے لیے دینا ہے۔اتنے وقت سے زیادہ مت دیں۔کبھی دے دینا اور کبھی نا دینا یہ رویہ بچوں کو کنفیوز کرتا ہے۔ بچوں کی ضد پوری کرنے کے لیے ماؤں کا مستقل مزاج ہونا بہت ضروری ہے۔اگر آپ بطور ماں بچے کو مستقل مزاجی اور حکمت سے ہینڈل کرتیں ہیں۔تو کچھ شک نہیں آپ کے بچے کے اندر ضد جیسے منفی جذبات پنپ نہیں پائیں گے۔ضدی بچوں کو ہینڈل کیسے کریں؟اس حوالے سے پیرنٹنگ پہ کتابیں موجود ہیں ان سے استفادہ کریں۔ماہرین سے پوچھیں۔ایسی ماؤں سے ملیے جو اپنے بچوں کو احسن طریقے سے مینج کر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں