عاشق رسول غازی علم دین شہید
غازی علم دین شہید عاشقان رسول صل اللہ علیہ وسلم کی لڑی کا بے تاج بادشاہ جس نے سولی چڑھ کر یہ ثابت کیا کہ فداک یا رسول اللہ”اپ پر قربان اے اللہ کے رسول”
علامہ اقبال غازی علم دین شہید کی قبر میں اترے اور کہا کہ ہم تو باتیں ہی کرتے رہ گئے اور پانے والے پا گئے”
قائد اعظم اپنے وقت کے ایک قابل وکیل تھے انھوں نے مفت میں غازی علم دین کا مقدمہ لڑا،کہنے لگے علم دین تم سزائے موت سے بچ سکتے ہو بس عدالت میں یہ کہہ دو کہ نے جذبات میں آ کر راج پال کا قتل کیا ہے مگر عاشق رسول کی غیرت اس کے لیے گوارا نا تھی،اور پھر اکتیس اکتوبر کو غازی علم دین کو شہادت کے رتبے پہ فائز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
غازی علم دین شہید ایک سچا عاشق رسول ﷺ
غازی علم دین شہادت سے ایک رات قبل کا واقع چوکیدار کو سناتے ہیں جو غازی کی کوٹھڑی پہ معمور تھا ،اس نے ایک ایسی روشنی دیکھی جس سے پورا کمرہ جگمگا رہا تھا حالانکاس وقت بجلی کا تصور بھی نا تھا اس کے اصرار پر غازی علم دین بولے رات نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم مجھے دلاسہ دینے آئے تھے۔
یہ تھے علم دین شہید جن کو راج پال کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گی ،راج پال نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ذات پر الزامات پر مبنی کتاب پبلش کی تھی جو کہ غازی علم دین سے برداشت نا ہوسکا اور اس نے راج پال کو قتل کر دیا،اس وقت انگریز کی حکومت تھی غازی نے اقرار جرم کیا جس کی وجہ سے پھانسی دے دی گئ۔
عاشق رسول غازی علم دین شہید
اللہ ان کی لحد پر اپنی رحمتیں برساتا رہے۔آمین