عبد الرحمن کی دعا
مصنفہ: مہک یامین(کراچی)
ککڑوں کو ککڑوں کو, ٹیں ٹیں ٹیں,چوں چوں چوں,میں میں میں ……………. ہر طرف جانوروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں تو کہیں گاڑیوں کا شور اور جانوروں کو خریدتے ہوئے گاہک ” ماموں جان ! ماموں جان ! مجھے تو بس چوزے ہی چاہیں” – چار سالہ حریم نے ضد کرتے ہوئے کہا ماموں جان: اچھا گڑیا!!! جو آپ کہو۔ماموں:بھائی ! یہ گلابی رنگ کے دو چوزے نکال دو ۔”یہ آپ کیوں اتنے لال پیلے ہو رہے ہو عبد الرحمن! “”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی”عبد الرحمن نے منہ موڑتے ہوئے جواب دیا۔ماموں جان: “ارے بھئی! ایسی بھی کیا بات ہوگئ ذرا ہمیں بھی تو پتا چلے۔
“عبد الرحمن:”چوزے تو میں نے مانگے تھے حریم نے کیوں لے لئے”-ماموں جان : بس! اتنی سی بات!چلو بتاؤ کونسا چوزا چاہئے؟عبد الرحمن: نیلا چوزا!ماموں : ارے! اب نیلا چوزا کہاں سے لائیں ہم؟ماموں : بھائی! یہ سفید والے دو چوزے نکال دو۔حریم: بھائی جان ! اس میں کیا مسلئہ ہے! ہم خود رنگ کرلیں گیں۔ہا! ہا! ہا! ہا! سب نے زوردار قہقہہ لگایا اور گاڑی میں سوار ہوکر منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔حریم : ارے! پنجرہ تو رہ ہی گیاعبد الرحمن: کیوں ؟
وہ آپ خود نہیں بناسکتی کیا؟حریم: اوہ!!!(ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے )ماموں: ہا ! ہا! ہا! ہا۔بچوں ہم سب مل کر پیارا سا پنجرہ بنائیں گے ۔عبد الرحمن: اور ہم اس پر رنگ بھی کریں گے۔ تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی ۔اس بار عبدالرحمن کو یاد آیا ۔وہ ا چانک سے زوردار آواز میں بولا”ماموں جان! ہم نے باجرہ تو لیا ہی نہیں”
۔ماموں جان : تو کیا ہوا ! حریم ہے نہ وہ پودہ لگا لے گی باجرے کا۔عبد الرحمن: ہا !ہا! ہا !ہا !اب کی بار عبد الرحمن کی ہنسی نہیں رک رہی تھی وہ خوب لوٹ پھوٹ ہوکے ہنس رہا تھا۔اور حریم شرمندہ نظروں سے دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔گاڑی گھر کے دروازے پر آکر رک گئی۔ ماموں: چلو بچوں ! اپنے چوزے لے کر گھر چلیںبچے مسکراتے ہوئے اور خوشی سے دمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔اور گھر کے صحن میں چوزے چھوڑ دئیے۔
ماموں : بچوں ! آپ لوگ چوزوں کے ساتھ کھیلو میں ابھی دانا لے کے آتا ہوں۔عبد الرحمن: حریم! وہ دیکھئے میرے چوزے کتنا تیز بھاگ رہے ہیں بالکل میری طرح اور آپکے چوزے بالکل آپ کی طرح سست ہیں۔حریم: (ناک پھیلاتے ہوئے)جی نہیں! میرے چوزے تو گلابی رنگ کے ہیں میرے پسندیدہ رنگ کے ۔عبد الرحمن : چلنا تک تو آتا نہیں انھیں۔حریم : ا بھی انکو بھوک لگ رہی ہے نہ! ماموں کھانا لے آئیں پھر آپ دیکھے گا میرے چوزے کتنا تیز بھاگتے ہیں۔
چھوٹے چھوٹے پیارے پیارے چوزے پورے گھر میں چو چو کرتے پھر رہے تھے ۔بچوں نے ان کے دانے پانی کے لئے چھوٹی چھوٹی کٹوریاں رکھ دی تھیں۔عبدالرحمن کو خیال آیا کیوں نہ اسکو اپنی پسند کا کھانا کھلایا جائے۔ بسس! پھر کیا ہونا تھا وہ پھنچ گئے فریج کی جانب اور قیمہ نکال کر لے آئے اور حریم بھی دم کی طرح بھائی کے پیچھے اور سارے چوزے ان دونوں کے پیچھے پیچھے۔عبد الرحمن: کٹ! کٹ! کٹ! کٹ!سارے چوزے کٹ کٹ کی آواز پر دوڑتے ہوئے آئے لیکن قیمے پر چونچ مار کر چلے جاتے ۔
بچے چوزوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے خوش ہو رہے تھے۔ سب سے دلچسپ منظر تو وہ تھا جب ایک چوزے کو کہیں سے کیڑا مل گیا اور سب چوزے چھینا جھپٹی کرنے لگےاچانک حریم کو شرارت سوجی اور اس نے ایک ٹب میں پانی بھر کر نیل ملایا اور سارے چوزے اس میں ڈال دیے۔اب تو چوزے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں خوب ڈبکیاں لگا رہے اور اپنے پر پھر پھڑا رہےتھے۔ نہانے کے بعد سفید چوزے نیلے رنگ کے ہوگئے اور پہلئے سے بھی زیادہ
خوبصورت معلوم ہونے لگےپھر ہوا کچھ یوں کہ ہواؤں نے لیا ایک نیا رخ اور ہوا کے ساتھ ایک تانبے کا تار اڑتا ہوا آیا اور نیلے چوزے کو زخمی کر گیا۔وہ بے چارہ لنگڑانے لگا عبد الرحمن کا غم و غصے سے رو رو کر برا حال ہوگیا۔اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور ماموں جان آگئے ماموں جان : ارے بیٹا !!! کیا ہوا؟عبد الرحمن: میرا چوزا سخت زخمی ہوگیا ہے۔ماموں: بیٹا ! پریشان نہیں ہوتے اللہ سے مدد طلب کرو دعا کے ذریعے
۔ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:الدعاء ھوالعبادہ (دعا عین عبادت ہے)-یہ جامع ترمیزی کی حدیث نمبر 2969 ہے۔عبد الرحمن کو بات سمجھ آگئی اور وہ دل و جان سے دعا میں مشغول ہوگیا۔پیارے بچو! امید ہے آپ بھی ہر مشکل میں گھبرانے کی بجائے اللہ سے مدد طلب کریں گے دعا کے ذریعے۔
عبد الرحمن کی دعا