آج صبح میری اہلیہ کی ایک شاگردہ اسے ملنے آئی ۔ بہت افسردہ اور ملول تھی۔ چند ماہ پہلے اس کی والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔ بھائیوں کے پاس رہتی ہے۔
کہنے لگی۔ باجی! میں نے امی کے سارے سوٹ نشانی کے طور رکھے ہوئے ہیں۔ جب بہت اداس ہوتی ہوں تو ان میں سے کوئی ایک نکال کر پہن لیتی ہوں۔ دل کو جھوٹی تسلی دے لیتی ہوں کہ امی کی گود میں ہوں۔ لیکن بھابیاں لڑتی ہیں۔ کہتی ہیں: مرے ہوئے کی استعمال شدہ چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔ انہیں گھر میں مت رکھو۔ جتنی جلدی ہوسکے ان سے جان چھڑا لو۔
میں کچن میں بیٹھا ناشتہ کررہا تھا۔ جب یہ بات میرے کانوں میں پڑی۔
میں نے وہیں سے پوچھا۔ “اچھا یہ بتاؤ آپ کی امی کے جو استعمال شدہ زیورات تھے۔ کانوں کی بالیاں یا ہاتھوں کی چوڑیاں وغیرہ وہ کہاں ہیں؟”
کہنے لگی۔۔ “بھائی وہ تو بھابھیوں نے آپس میں بانٹ لیے، اپنی بیٹیوں کے لیے کہ ان کی اماں کی نشانی ہے۔”
میں کہا ۔۔۔ “بھابھیوں سے پوچھو۔۔ یہ سونے کے زیورات بھی تو مرحومہ کے استعمال شدہ ہیں۔ کیا ان میں نحوست نہیں ہے۔ کیا ان کو بھی صدقہ نہیں کر دینا چاہیے تھا۔ ساری نحوست کیا صرف جوتی کپڑوں اور سستی چیزوں میں گھستی ہے۔”
کیسا عجب معاشرہ ہے ہمارا۔ مرحوم کی قیمتی اور من پسند چیزیں بخوشی ہڑپ لیتا ہے۔ اور سستی اور ناپسندیدہ چیزوں پر منحوس کا لیبل ٹانک کر غریبوں میں صدقہ کر دیتا ہے۔ گویا کہ غریب غرباء صرف منحوس چیزوں کے حقدار ہیں ۔ اور صدقے میں صرف بے کار چیزیں دی جانی چاہئیں۔
ہماری بے حسی اور مرحوم کی اس سے زیادہ بے توقیری اور کیا ہوگی۔