غلامیِ رسول میں
میں ایک نعت شریف سن رہی تھی ۔ وہ نعت شریف پڑھنے والے صاحب دوران نعت کچھ بات کرنے لگے اور کیا ہی پیاری بات فرماٸی سیدھی دل پہ جا لگی
پہلے تو آپ میری سن لیں ، ہم پتہ ہیں کیا ہیں ؟
بریانی پکانا جانتے ہیں ، مگر دال ابالنے سے نا واقف ہیں ۔ پانچ کروڑ کی بلڈنگ تعمیر کرنا ہمارے باٸیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ مگر دس ہزار کی کٹیا بنانا نہیں جانتے ۔ پچاس لاکھ کی کار تو خرید سکتے ہیں مگر ایک سادہ سی ساٸیکل خریدنے سے خود کو معذور سمجھتے ہیں
اب یہاں دو میں سے ایک بات ہے ۔ یا تو ہم خود بیوقوف ہیں ، یا دوسروں کو بیوقوف بنا رہے ہیں ۔یا تو اتنے مہنگے اور مشکل کام کرنے کی بات کرتے ہوٸے ہم جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم یہ یہ اور یہ کر سکتے ہیں ، اور یوں دوسروں کو بیوقوف بناتے ہیں ، یا پھر ہم خود بیوقوف ہیں ، کہ ہمیں یہ کام کرنا واقعی آتے ہیں ، مگر ان کے برعکس آسان کام کرنا ہم جب مشکل سمجھتے ہیں تو گویا ہم اپنے آپ سے ہی نا واقف ہیں یعنی جو مشکل کام کر سکتا ہے ، آسان کیسے نہیں کر پاٸے گا ؟
ہاں شاید ، ہم واقعی بیوقوف ہیں ، اگر پہلے کی بجاٸے دوسرا آپشن ہم پہ فٹ ہوتا ہے اور ہم دوسروں کو بیوقوف نہیں بنا رہے ، خود بیوقوف بن رہے ہیں تو یقین کیجیے ہم بہت خوش قسمت ہیں ، انتہاٸی خوش قسمت ہیں ، کہ جب ہم مشکل کام کر سکتے ہیں ، تو آسان تو بدرجہ اولیٰ کرنے کے متحمل ہیں ، بس ہمیں اپنے ارادے کا رخ موڑنے کی ضرورت ہے
یہ تو ہوٸی میری بات ۔ جو آپ کی سمجھ میں نہیں آٸی ۔ اب ہم چلتے ہیں ، ان نعت خوان صاحب کی بات کی طرف ۔ میری بات بھی ان کی بات سے ہی سمجھ میں آٸے گی
وہ فرما رہے تھے ، ہم سب یہ کہتے ہیں ، غلامیِ رسول میں موت بھی قبول ہے ۔ مگر کیا ہمیں غلامیِ رسول میں ڈاڑھی بھی قبول ہے ؟
کیا ہمیں غلامیِ رسول میں پانچ وقت کی نماز بھی قبول ہے ؟
میری بات آپ کی سمجھ میں کچھ کچھ آ گٸی ناں ؟
ہاں ہم اس مشکل کام کا دعویٰ کرتے ہیں ، کہ ہم نبی علیہ السلام کی حرمت پہ جان بھی دینے کو تیار ہیں ، مگر کیا وجہ ہے کہ ہم پانچ نمازیں دینے کو تیار نہیں ؟ سنت کے لیے چہرہ دینے کو تیار نہیں ، خواتین شرعی پردے کے لیے تیار نہیں ، دوکاندار حضرات ناپ تول کی کمی چھوڑنے کو تیار نہیں ، ساس بہو اور بیٹی میں فرق چھوڑنے کو تیار نہیں ، بہو ساس سسر کی خدمت کے لیے تیار نہیں ، بد گمانی ، غیبت جھوٹ اور مزید کٸی براٸیاں چھوڑنے پہ ہم تیار نہیں ، مگر نبی علیہ السلام کی ناموس پہ کٹنے کے لیے ہم سارے تیار ہیں ، اب یا تو ہم خود بیوقوف ہیں ، یا پھر دوسروں کو بیوقوف بنا رہے ہیں ، یا ہم واقعی غلامیِ رسول میں موت کو گلے لگا سکتے ہیں ، بس چھوٹے احکامات کو ماننے کا ٹیلنٹ ہم خود میں سے ڈھونڈ نہیں پا رہے جو ہمارے اندر ہی کہیں موجود ہے بس اپنی شخصیت کو تراش کر اسے باہر نکالنا ہے
یا پھر ہم دوسروں کو بیوقوف بنا رہے ہیں کہ پڑھنا ہمیں نماز بھی مشکل لگتی ہے اور باتیں کرتے ہیں جان دینے کی ۔ بھلا کہاں ہم ، کہاں جان دینے کے دعوے
چلیے ہم ایک دفعہ خود کو خوش قسمت کی کیٹیگری میں داخل کرتے ہیں ، کیونکہ اقبال نے کہا تھا
یہ توہّم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
اور تو اور چودہ سو سال پہلے اللہ نے ہی فرما دیا تھا
میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ، القرآن
یعنی بندہ جو سوچتا ہے میں ویسا ہی کر دیتا ہوں ، تو آج ہم اپنا گمان خوش قسمت والا بناتے ہیں کہ ہم واقعی جان دے سکتے ہیں ، پھر کیا ہمیں نماز پڑھنا ، ناپ تول کی کمی چھوڑنا ، ڈاڑھی رکھنا ، شرعی پردہ کرنا ، محبتیں بانٹنا ، گناہوں کو چھوڑنا اور سنتوں پہ چلنا مشکل لگے گا ؟
نہیں ناں ، کیونکہ یہ سارے کام جان دینے کی نسبت کٸی گنا آسان ہیں
اب سوال ہے کہ یہ ہمیں مشکل لگتے کیوں ہیں ؟
یہ ہمیں اس لیے مشکل لگتے ہیں کہ
1 ہم نے ان کو مشکل سمجھ لیا ہے یعنی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم یہ کام کر ہی نہیں سکتے
2 ہم نے اپنے ارادے کے رخ کو ان کی طرف نہیں موڑا
اب اس کا علاج کیا ہے ؟
یہ جاننے سے پہلے ایک اور بات جان لیں کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف قدم بڑھاتے ہیں ، نیک بننے کی کوشش شروع کرتے ہیں ، اس کوشش کے شروع کرنے کے کچھ عرصے بعد ان میں سے ہر ایک کی زندگی میں ایک پن پواٸنٹ ضرور آتا ہے ۔ یعنی سوٸی کا مقام
یوں سمجھیں کہ وہ چلتے جا رہے ہوتے ہیں اور چلتے چلتے ایک جگہ پہ جہاں قدم رکھنا ہوتا ہے وہاں زمین ایک سوٸی الٹی گڑی ہوٸی ہوتی ہے ۔ اس سوٸی کا اوٸی والا سرا اوپر کی جانب ہوتا ہے اب ظاہر ہے کہ قدم رکھیں گے تو سوٸی چبھے گی اور نہ رکھیں تو کھڑے ہونا پڑے گا
کیا کہا ؟
پھلانگ جاٸیں ؟
جی نہیں ، یہاں ہر قدم ہی طویل جگہ گھیرے ہوٸے ہیں ہیں ، پھلانگ سکتے ہی نہیں
یہ آپ کو اگرچہ سمجھانے کے لیے لکھا ہے لیکن ہوتا واقعی ایسا ہی ہے اور یہ یاد رکھیں کہ ہر ایک کا پن پواٸنٹ الگ ہوتا ہے ۔ کسی کا کوٸی ، کسی کا کوٸی ۔ یعنی سوٸیاں مختلف رنگ کی ہوتی ہیں مگر ہوتی سوٸیاں ہی ہیں ۔
بس ہمیں غلامیِ رسول میں اسی سوٸی کو قبول کرنا ہے ۔ جی ہاں! پھر ہی ہم اپنی بات میں سچے ثابت ہوں گے ۔ ورنہ جھوٹے ہیں ہم ، کھوکھلے دعوے کرتے ہیں ،
ان سوٸیوں کے رنگ مختلف کیسے ہوتے ہیں ؟
یہ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے لیے پنجگانہ نماز پڑھنا مشکل ہے ، کوٸی نماز کا تو عادی لیکن نماز اول وقت میں نہیں پڑھ پاتا ، کسی کو ڈاڑھی رکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی کہ والدین ڈانٹیں گے ابھی سے بوڑھے ہو گٸے ہو ، کسی خاتون کے لیے شرعی پردے میں مشکل ہے کہ لوگ طعنے دیں گے ۔ کسی کو سنتوں پہ چلنا مشقت بھرا لگتا ہے ، کسی کی کماٸی سود کی ہے اور نوکری چھوڑنے پہ روٹی کے لالے پڑتے ہیں ، غرض ہر ایک کا پن پواٸنٹ الگ ہے
بس اسی پن پواٸنٹ پہ ہمیں قدم رکھنا ہے ۔ اب چلتے ہیں انہی سب مشکلات کے علاج کی طرف جس کا پہلے ذکر کیا
سوال ہے کہ قدم کیسے رکھیں ،
ایک سیدھا سا حل تو یہ ہے کہ آنکھیں بند کریں ، قدم اٹھاٸیں اور آگے رکھ دیں
اور اگر یہ مشکل لگتا ہے وسوسے آتے ہیں ،کہ ہو جاٸے گا وہ ہو جاٸے گا ۔ خوف محسوس ہوتا ہے ۔ تو پھر ایک دوسرا حل ہے
ان کاموں کے مشکل لگنے کی وہ دو وجوہات جو اوپر لکھی ہیں وہ ذرا دوبارہ پڑھ لیں
پڑھ لی ؟
اب ہمیں دو ہی کام کرنا ہیں
1 یہ اپنے ذہن میں بٹھا لیں ، کہ یہ کام جو مجھے مشکل لگ رہا ہے ، خواہ نماز ہے ، شرعی پردہ ، حرام کماٸی چھوڑنا یا کچھ بھی ، یہ کام میرے لیے آسان ہے
2 پکا ارادہ کر لیں ، کہ مجھے تو یہ کام ہر حال میں کرنا ہی ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ سخت گرمی کا روزہ رکھ کر بھوک پیاس برداشت کر لیتے ہیں مگر ارادہ مضبوط رکھتے ہیں کہ شام تک کچھ بھی کھانا پینا نہیں ، ایسے ہی اپنے آپ سے کہہ دیں کہ میرا روزے جیسا ارادہ ہے کہ مجھے تو یہ کام ہر حال میں کرنا ہی ہے خواہ کچھ بھی ہو جاٸے
اب اس کی ایک تیسری صورت بھی ہے ۔ یہ ان نعت خوان صاحب کی بات کے گرد گھومتی ہے اللہ ان کو اجر دے
آپ اگر ان دو باتوں پہ عمل کے بعد بھی کامیاب نہیں ہو پا رہے یا ایک بار کامیاب ہوٸے پھر لڑکھڑا گٸے تو اب آ جاٸیں اس صورت کی طرف ہے
آپ کو روزانہ اکیلے بیٹھ کر دو جملے سو بار اپنے آپ سے کہنا ہیں ،آ آواز اتنی رکھیں کہ خود آپ کے کانوں تک پہنچ جاٸے بس ۔ اور ہاں آپ کو اس وقت اپنی پوری توجہ بھی ان جملوں کی طرف رکھنا ہے اور اس دوران کوٸی اور کام نہیں کرنا
آپ کو دین کے جس کام میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے اسی کا ان جملوں میں ذکر کرنا ہے اس طرح
”جس طرح مجھے غلامیِ رسول میں موت بھی قبول ہے اسی طرح مجھے غلامیِ رسول میں حرام کماٸی چھوڑنا بھی قبول ہے “
یا
”جس طرح مجھے غلامیِ رسول میں موت بھی قبول ہے اسی طرح مجھے غلامیِ رسول میں پنجگانہ نماز بھی قبول ہے “
پہلا جملہ یہی رہے گا دوسرا اپنے حالات کے مطابق لگا لیں ، غلامیِ رسول میں ، شرعی پردہ بھی قبول ہے ،غلامیِ رسول میں طعنہ بھی قبول ہے ، غلامیِ رسول میں سنت بھی قبول ہے ، غلامی رسول میں ڈانٹ بھی قبول ہے ، غلامی رسول میں حجاب کی گرمی بھی قبول ہے ، غلامی رسول میں تنہاٸی بھی قبول ہے ، غلامی رسول میں در گزر بھی قبول ہے ، غلامی رسول میں صلہ رحمی بھی قبول ہے ، غلامی رسول میں معاف کرنا بھی قبول ہے ۔ غلامیِ رسول میں مشقت بھی قبول ہے ، غلامیِ رسول میں تلاوت بھی قبول ہے ، غلامیِ رسول میں تہجد بھی قبول ہے ، غلامیِ رسول میں دیانت بھی قبول ہے ۔ غلامی رسول میں سب کچھ قبول ہے ۔
تکرار کرنے سے وہ بات آپ کے دل میں بیٹھ کر آپ کے اراے کو مضبوط کرتی چلی جاٸے گی ۔ آپ یہ ایک مشکل قدم اٹھاٸیں گے تو اللہ دوڑ کر آٸے گا اور آپ کو گلے لگا لے گا پھر وہ خود آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو چلاٸے گا اور جب اللہ خود آپ کا ہاتھ پکڑ لے گا تو پھر کوٸی مشکل ، مشکل نہ رہے گی
جب آپ پن پواٸنٹ پہ قدم رکھیں گے اپنی آرزو کا خون کریں گے ۔ آپ کے دل کی گردن سے جیسے ہی اس خون تمنا کے چند قطرے گریں گے آپ حلال ہو جاٸیں گے ۔ اللہ کے ہاں آپ کی قربانی قبول کر لی جاٸے گی اور حلال ہو جانے کے بعد اگلے مراحل آپ کے لیے آسان ہو جاٸیں گے بالکل اس بکری کی طرح جس کو جب ذبح کر دیا جاتا ہے تو پھر کھال اترتے ، گوشت کٹتے ، اور بوٹیاں بنتے ہوٸے اسے تکلیف نہیں ہوتی ۔
ہم ابھی پہلا قدم تو اٹھاٸیں ، ہم کھڑے پہلی سیڑھی پہ ہیں اور دعویٰ آخری سیڑھی پہ پہنچنے کا کر رہے ہیں جبکہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ درمیان کی سیڑھیوں پہ قدم رکھے بغیر ہم آخری سیڑھی پہ نہیں جا سکتے ۔ جان دینا تو آخری سیڑھی ہے ۔
آٸیے! آج سے ہم سب غلامیِ رسول میں دین کے ہر حکم پہ عمل کرنا قبول کرتے ہیں ، اللہ ہمیں نبی علیہ السلام کا سچا عاشق بناٸے آمین
راٸٹر
ساجدہ بتول
غلامی رسول میں