438

فیملی کرایے پر دستیاب ہے

تحریر شئیر کریں

فیملی کرایے پر دستیاب ہے۔ایک اچھوتی تحریر جو مدتوں یاد رہے گی۔

جاپان کے بارے میں ایک مختصر دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ یہ کرایے کا خاندان ہے۔ جن میں اداکاری کرنے والوں کے ایک گھنٹے کا کرایہ تین سو یورو تک ہوتا ہے۔ دستاویزی فلم میں دو خواتین جو ایک جاپانی کی بیوی اور بیٹی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ جن کو دو گھنٹے کے لیے کرایے پر لیا گیا ہے۔ کرایے پر لینے والے جاپانی مرد کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ زیادہ وقت نہیں ہے لیکن اس دوران یہ دونوں میری بیوی اور بیٹی بن کر مجھے اچھی یادیں دے جاتیں ہیں۔ یہ مجھے اس وقت کی یاد دلاتی ہیں جب میں خوشگوار گھریلو زندگی گزار رہا تھا لیکن ان کی ساری خدمات بیڈ روم سے باہر کی ہوتی ہیں۔ وہ میرے لیے کھانا بناتی ہیں اور بھرپور طریقے سے محبت کرنے والی بیوی اور بیٹی کا کردار نبھاتی ہیں۔

یہ جاپان کی کہانی ہے جہاں تنہائی ایک وبا بن گئی ہے اب کورونا کے بعد تو اس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا اب ایسی خدمات فراہم کرنے والی باقاعدہ کمپنیاں وجود میں آگئی ہیں جو شادی بیاہ اور تدفین جیسے موقعوں پر خواہش مند لوگوں کے لیے خاندان کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ ان خاندانوں میں اداکاری کرنے والے ہر فرد کا الگ الگ کرایہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک کمپنی ’’فیملی رومانس‘‘ کے مالک جو خود بھی اس میں اداکار ہوتے ہیں بتاتے ہیں کہ کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو انہیں اپنا والد سمجھتے ہیں دو چار گھنٹوں کے بعد مجھے اُن سے بچھڑنا ہوتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں انہیں چھوڑ کر نہ جاؤں. وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں، گلے ملتے ہیں، میرے لیے روتے ہیں لیکن میرا تو یہ کام ہے۔

کسی بھی معاشرے میں خاندان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جہاں خاندان کا ادارہ ٹوٹ جاتا ہے وہاں ایسے ہی مناظر نظر آتے ہیں۔ کرایے کے رشتوں کا حصول دل کے سکون اور خوشی کے لیے کیا جاتا ہے لیکن مستقل خاندان کی صورت میں زندگی گزارنا مشکل اور ناپسندیدہ بات سمجھی جاتی ہے۔ یہ مغرب کا حال ہے جہاں بچے والدین کا ساتھ سولہویں سال ہی چھوڑ کر علٰیحدہ رہنے لگتے ہیں۔ جہاں کوئی ایسا نہیں کرتا تو اسے مغربی معاشرے میں عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اُس کے ساتھ ہی وہاں گرلز اور بوائے فرینڈ ایک لازمی دوستی سمجھی جاتی ہے جس کے برسوں کے بعد ساتھ رہنا یا الگ ہوجانے کا فیصلہ ایک عام صورت حال ہے۔

جوڈی ہے مان اپنی کتاب Forgotten Familis (بھولے بسرے خاندان) میں لکھتے ہیں کہ ’’ملازمت پیشہ خواتین کی تعداد ترقی پزیر دنیا میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے. اس کے علاوہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے ان دونوں عوامل کی بنا پر بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے قدیم تصورات اور ادارے ختم ہورہے ہیں، بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ نسلیں ماں باپ کے بغیر آزادانہ طور پر پل رہی ہیں اور قدیم اجتماعیت اور خاندانوں کا نظام ختم ہوگیا ہے

۔ یہ حال مغرب ہی کا نہیں مشرق کا بھی ہورہا ہے۔ پھر صرف بچے ہی نہیں خاندان کے بڑے بوڑھے اولڈ ہاؤس میں زندگی کے اختتام کے منتظر ہیں۔ اولاد کے پاس ہفتہ وار ملاقات کا بھی وقت نہیں۔ جس معاشرے میں بوڑھوں کی دیکھ بھال اور ان سے باتیں کرنے کے لیے اولاد کو فرصت نہیں اور رشتے داروں کو ایک دوسرے کے پاس آنے جانے کی فرصت نہیں وہ حقیقت میں ایک تباہ کن معاشرہ ہوتا ہے۔ اور آج مغرب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلم ممالک کے معاشروں میں بھی یہ کیفیت سرائیت کرتی چلی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تصویر کا دوسرا رخ

فیملی کرایے پر دستیاب ہے

ابتدا میں مغرب میں عورت کی آزادی اور معاشی خود مختاری نے خاندانی نظام کو مکمل تباہی سے دوچار کیا، اب یہی فارمولا مسلم ممالک میں بھی اختیار کیا جارہا ہے۔ عورت کا زندگی کے لیے ہمیشہ ہی بنیادی کردار رہا ہے، مغرب نے عورت کو خود مختاری اور آزادی کا جھانسا دے کر اپنے دفاتر اور صنعت کے لیے ایک سستا مزدور حاصل کیا لیکن ساتھ ہی عورت سے اس کی ممتا کی قربانی مانگی. عورت مظلوم ہے کہ یہ سب کرکے بھی اُسے کچھ حاصل نہ ہوا، گود خالی اور گھر ویران ہوگئے۔

مغرب کو خاندانی نظام کے بکھرنے سے بہت نقصانات ہوئے۔ ہمارے لیے بھی یہ نقصانات ہیں۔ کیوں کہ ہمارے ہاں بھی خاندان کو منقسم اور منتشر کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے تو بزرگوں کا معاملہ ہے کہ وہ تنہائی اور بیچارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، وہ معمر لوگوں کے ہوسٹل میں رہتے ہیں اور بچے سال میں ایک دفعہ آکر گلدستہ پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ یہ ایسی زندگی ہے جس میں انسان کو موت زندگی سے بہتر محسوس ہوتی ہے۔

انسان کو سب سے زیادہ محبوب دل کا سکون ہے اور یہ سکون انسان کو یا تو تعلق باللہ سے حاصل ہوتا ہے یا ایک انسان کو دوسرے انسان سے۔ بچوں کو ماں باپ کی گود میں جو سکون ملتا ہے وہ کہیں اور سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ ماں باپ کی خدمت اولاد کرے، ان کے سر میں تیل لگائے یا اُن کے پاؤں دبائے تو والدین کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ پاس بیٹھ کر حال چال پوچھنا باتیں کرنا بھی اُن کی خدمت ہے۔

شوہر بیوی بھی ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں۔ کوئی چیز بھی اس کا متبادل نہیں ہوتی۔ بہن بھائی کی محبت میں خوشی کا بے پناہ احساس ہے۔ خاندان کا بکھرنا رشتوں کو ختم کر دیتا ہے جیسے بجلی کے بغیر بلب سے روشنی حاصل نہیں کی جا سکتی اسی طرح بے روح رشتوں سے بھی انسان کو سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔ سکون کی غذا کے بغیر معاشرے میں بے خوابی، ڈپریشن اور خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھتے ہیں۔ خاندانی نظام کرایے کے رشتوں یا مفادات کے رشتوں سے نہیں قائم ہوتا۔

غزالہ عزیز

فیملی کرایے پر دستیاب ہے


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں