201

 قبر کی دہلیز پر

تحریر شئیر کریں

 قبر کی دہلیز پر

ابا کے مرتے ہی اماں نے دوسری شادی کر لی۔ میرے لیے یہ سب اچانک ہوا، جیسے کسی نے میرے آسمان سے سورج چھین لیا ہو۔ نئے ابا کے ساتھ نئی زندگی شروع ہوئی، مگر میرے لیے وہ زندگی نہ تھی، اذیت تھی، قید تھی۔

ایک دن سکول سے دیر سے آئی تو سوتیلے ابا نے دروازے پر ہی روک لیا۔

“آوارہ لڑکیوں کی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں!”
یہ کہہ کر دروازہ بند کر دیا۔
اور اماں کو خبردار کر دیا:
“گر دروازہ کھولا تو تجھے بھی طلاق دے دوں گا۔”

دروازہ بند، اماں خاموش، محلہ سویا ہوا۔
میں… بس میں جاگ رہی تھی، تنہا، بے آسرا۔
میں در و دیوار سے سر ٹکرا کر روئی، لیکن کوئی سننے والا نہ تھا۔ نہ در کھلا، نہ دل۔

رات کا ایک بج چکا تھا۔
ڈر نے پورے جسم کو جکڑ لیا تھا۔
بارش ہونے لگی تھی، سردی میرے بھیگے کپڑوں میں اترتی جا رہی تھی۔

مجھے بس ایک ہی جگہ یاد آئی…
ابا کی قبر۔
اسی قبر پر جا بیٹھی۔
وہی مٹی، جو شاید اب بھی مجھے پہچانتی تھی۔
میں اس قبر سے لپٹ گئی جیسے ابا کی گود ہو۔
اور وہیں سو گئی۔

فجر کے وقت آنکھ کھلی تو ایک عجیب منظر نے ہوش اڑا دیے—
میرے قریب روٹی، پانی اور ایک کمبل رکھا تھا۔
میں نے اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی نہ تھا۔

پہلے دن سوچا شاید کسی گزرنے والے نے ترس کھا کر رکھ دیا ہو۔
لیکن پھر یہ ہر روز ہونے لگا۔
ہر رات میں ابا کی قبر پر سوتی،
اور فجر کے وقت کھانا، پانی اور کمبل موجود ہوتا۔

ایک رات میں نے سونے کا ناٹک کیا۔
دھڑکنیں تیز تھیں، سانسیں دبی دبی۔
اور پھر…
وہ منظر دیکھا جس نے میری روح کو ہلا کر رکھ دیا۔

ایک سفید لباس میں لپٹا ہوا وجود آہستہ آہستہ قبر کے قریب آیا،
ہاتھ میں کھانا، کمبل، پانی۔
نرمی سے سب رکھا،
میری پیشانی پر ہاتھ رکھا اور بولی:

“بیٹی… باپ کبھی نہیں مرتا۔
وہ صرف روپ بدلتا ہے۔”

میں لرز گئی۔
میری آنکھیں نم تھیں، مگر زبان پر سکوت تھا۔

میں چیخی نہیں، بھاگی نہیں۔
بس اُٹھ کر بیٹھ گئی اور اُس وجود کو دیکھا—
چہرہ روشنی سے چمک رہا تھا،
آنکھیں… بالکل ویسی تھیں جیسی ابا کی تھیں۔

“کون ہو تم؟” میں نے پوچھا۔

“تیرا باپ ہوں… دعا بن کر لوٹ آیا ہوں۔
اس وقت کے لیے جو تُو نے تنہائی میں مانگی تھی۔”

اگلی صبح جب لوگ فجر کے بعد قبرستان سے گزرتے،
تو مجھے وہیں سویا ہوا دیکھتے،
اور حیران ہو کر چپ چاپ آگے بڑھ جاتے۔

لیکن میں جان چکی تھی،
کہ جس دنیا میں رشتے صرف زبانی دعوے ہوں،
وہاں سچی پناہ صرف رب کی ہوتی ہے
یا اُس باپ کی جو مرنے کے بعد بھی اپنی بیٹی کا خیال رکھتا ہے۔

—

پیغام:
اس کہانی میں سوتیلے رشتوں کے ظلم، ایک بچی کی بے بسی، اور باپ کی بے مثال محبت کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک چیخ ہے اُن معاشروں کے لیے، جہاں یتیم بچیوں کو صرف بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اور یاد رکھیں، اگر دنیا ٹھکرا دے… تو خدا کے ولی قبر کی مٹی سے بھی مدد کر سکتے ہیں۔

— قبر کی دہلیز پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں