قرآن کا حسن1 242

قرآن کا حسن

تحریر شئیر کریں

منیر نیازی کا قول کہ “قرآن کی آیات میں اتنا حسن ہے کہ وہ بے ضمیر لوگوں سے پردہ کر لیتی ہیں” بہت گہرے اور معنی خیز الفاظ پر مشتمل ہے۔ اس قول پر تبصرہ کچھ یوں کیا جا سکتا ہے:

منیر نیازی کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کی آیات میں ایسا روحانی اور اخلاقی حسن ہے جو انسان کی روح اور دل کو موم کر دیتا ہے۔ لیکن جب بات بے ضمیر لوگوں کی آتی ہے، تو یہ حسن ان پر اثر نہیں کرتا۔

یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ:

1. قرآن کی تاثیر:

قرآن کی آیات کی روحانی اور اخلاقی تاثیر ان لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہے جو اپنے اندر صداقت، پاکیزگی اور ضمیر رکھتے ہیں۔ بے ضمیر لوگ، جو کہ سچائی اور اخلاقی اصولوں سے خالی ہوتے ہیں، ان پر قرآن کا یہ حسن اثر انداز نہیں ہوتا۔

2. روحانی پردہ:

بے ضمیر لوگوں کے لیے قرآن کی آیات ایک پردہ بن جاتی ہیں، کیونکہ وہ ان کے باطن کی گہرائی اور حسن کو دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ان کے دل اور دماغ اس روحانی روشنی کو قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

3. اخلاقی بصیرت:

قرآن کی آیات میں موجود حکمت اور حسن ان لوگوں کے لئے عیاں ہوتا ہے جو اپنے اندر اخلاقی بصیرت اور سچائی رکھتے ہیں۔ بے ضمیر لوگ اس حسن کو نہیں دیکھ پاتے، کیونکہ ان کی روحانی آنکھیں بند ہوتی ہیں۔

4. قرآنی حکمت:

قرآن کی آیات کی حکمت اور معرفت کو سمجھنے کے لئے ایک صاف دل اور ضمیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے ضمیر لوگ اس حکمت کو نہیں پا سکتے، کیونکہ ان کی روحانی حالت اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ اس حسن کو سمجھ سکیں۔

منیر نیازی کا یہ قول ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قرآن کی آیات کا حسن اور تاثیر ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے دل اور ضمیر کو سچائی اور پاکیزگی سے روشن رکھتے ہیں۔ بے ضمیر لوگ اس حسن اور روشنی کو نہیں پا سکتے کیونکہ ان کا ضمیر اور دل اس روشنی کو قبول کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں