قربانی عید قربان کے حوالے سے لکھی گئ تحریر
اقصی ایجاز
“زندگی کا سکون قربانی دینا ہے
سو ہر ایک چیز کو قربان کرنا سیکھ “
قربانی ہمارا مذہبی تہوار ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے نام کو عید الاضحی کہا جاتا ہے عام الفاظ میں ہم اس کو بڑی عید بھی کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا یہاں تک کہ اللہ تعالی کی محبت میں اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو بھی قربان کرنے چلے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل کو بتایا کہ میں تمہیں اللہ کی راہ میں قربان کرنے چلا ہوں تو حضرت اسماعیل نے کہا اس سے زیادہ بہترین بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔۔۔سبحان اللہ
ہم کتابوں میں اس کے بارے میں بہت تفصیل سے پڑھتے آئے ہیں لیکن موجودہ دور میں یوں لگتا ہے کہ وہ سب صرف پڑھنے کی حد تک تھا انسان قربانی کا اصل مقصد بھول چکا ہے اس مذہبی تہوار کے پیچھے انسان کی اللہ تعالی سے کی گئی محبت کے لمحات اور واقعہ کو بھول چکا ہے جو کہ اس تہوار کی اصل بنیاد ہے۔۔۔
اللہ تعالی انسان کو اس کے اعمال کی نیت سے جانچتا پرکھتا ہے وہ علیم ہے وہ دلوں کے بھید جانتا ہے تو کیسے انسان کی قربانی کی نیت کو نہ جان سکے گا؟؟؟
آج کے دور کا انسان قربانی جس نیت سے کرتا ہے اس میں خدا سے محبت کا اظہار تو شاید کہیں رکھتا ہو لیکن اللہ تعالی کی بنائی گئی مخلوق سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا قربانی کے تہوار کے بنائے گئے تقاضوں پر تو پورا اترتا ہی نہیں ہے قربانی کے جانور کے گوشت کو وہ مستحقین کے حق میں دینے کا روادار نہیں ہوتا ۔۔
اس نفسا نفسی کے دور میں انسان صرف اپنا پیٹ بھرنے کے بارے میں سوچتا ہے وہ اپنے غریب رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق بالکل فراموش کرچکا ہے ۔اور پھر وہ یہ نہیں سوچتا کہ کیا اللہ تعالی کو اس کے جانور کی قربانی چاہیے ؟؟
کیا اللہ تعالی ایسی عبادات کو قبول کرتا ہے جس میں انسانیت کا احساس نہ ہو ؟؟
کیوں کہ اللہ تعالی کو اگر صرف عبادت ہی چاہیے ہوتی اس کے لئے تو بے شمار فرشتے بھی تھے پھر انسان کیوں جانتے بوجھتے ہوئے اپنے اعمال میں اس تہوار کے حوالے سے بے حد گناہ بھرتا جاتا ہے ؟
انسان باشعور ہونے کے باعث کیوں اس تہوار کا اصل مقصد بھول جاتا ہے ؟
کیوں انسان اپنی انا اپنا غرور و تکبر اور بے حسی کی قربانی نہیں دیتا ؟
جب ہم لوگ اللہ کی راہ میں قربانی دیتے ہیں تو کیوں اللہ کی بنائی گئی مخلوق کے لیے ہمارے دل پتھر کے ہو جاتے ہیں ؟
اور اس تہوار پر ہمارا اتنا ظرف بھی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی کی راہ میں قربان کئے گئے جانور کے گوشت کو حق داروں میں تقسیم کر سکے ۔۔۔
اس معاشرے میں اپنے ہی گھروں میں اگر نظر ڈالی جائے تو ہم خود بھی اس بے حسی کا شکار ہے ہم اپنے جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں اور اس کے گوشت پر صرف اپنا حق سمجھتے ہیں قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی ہم اپنے نامہ اعمال میں کسی قسم کی قربانی کا ثواب حاصل نہیں کر پاتے جس کی بڑی وجہ ہمارا اپنی ذات اور پیسوں پر تکبر ہے یہ ہمارے اندر کا تکبر ہے کہ ہم دوسرے انسان کو حقیر سمجھتے ہیں بجائے ان کی مدد کرنے کے ان کو دھتکار دیتے ہیں ۔۔۔
جو غریب لوگ عام حالات میں گوشت کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے یہ دن ان کے لئے بھی عید کا دن ہوتا ہے لیکن ہم ان کا خیال نہیں کرتے اور اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں اور آنے والے کل کی فکر میں ہلکان لوگ گھر کے فریج میں گوشت کو محفوظ کرتے ہیں یہ جانے بغیر کے شاید ان کو کل کا سورج بھی نصیب ہو کہ نہ ہو ۔۔۔
اللہ تعالی نے ہر رزق پر کھانے والے کا نام لکھا ہے ہم جب اپنے گھر میں اس طرح گوشت جمع کرتے ہیں تو ہم اللہ تعالی کے بنائے گئے دائروں میں دخل اندازی کرتے ہیں ۔۔۔
ہم یہ سوچ کر اکثر قدم نہیں اٹھاتے کہ سب ایسا کرتے ہیں۔۔ پورا معاشرہ ہی اس راہ پر چل رہا ہے۔۔ ہم کس کس کو ٹھیک کریں؟
تو میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم صرف خود پر توجہ دیں لیں تو پورے معاشرے کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔
یہ دنیا فانی ہے یہ زیست ایک امتحان گاہ ہے اگر ہم لوگ اچھے امتحان نہیں دیتے تو نتیجہ صفر ہی آئے گا جو کبھی بدل نہیں سکے گا۔۔
لیکن ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے ہم اپنے نامہ اعمال کو بہترین کر سکیں اس سے پہلے وقت ہاتھ سے نکل جائے اللہ ہم سب کو اچھے اعمال کرنے کی توفیق دے آمین۔
ختم شد ۔