قضا روزے اور قوت ارادی 234

قضا روزے اور قوت ارادی

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔”
(سورة البقرة 2:183)

رمضان المبارک میں دنیا بھر کے مسلمان انتہائی جذبے اور استقامت کے ساتھ روزے رکھتے ہیں۔ مگر یہی شخص جب رمضان کے بعد اپنے رہ جانے والے قضا روزے رکھنے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ کام اکثر اوقات اس کے لیے مشکل بن جاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ اجتماعی عبادت اور انفرادی عبادت میں نفس کا ردعمل الگ ہوتا ہے۔

 قضا روزے — شرعی حیثیت

قضا روزے* ان روزوں کو کہتے ہیں جو کسی شرعی عذر کی بنا پر رمضان میں رہ جائیں، جیسے:
– بیماری
– سفر
– حیض و نفاس
– حمل یا دودھ پلانے کی حالت میں کمزوری

قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔”
(سورة البقرة 2:185)

یہ واضح ہدایت ہے کہ روزے چھوڑنے کی صورت میں ان کی قضا دینا لازم ہے۔

 روزہ چھوڑنے کی وعید

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت اور بیماری کے چھوڑ دے، تو اگر وہ ساری زندگی بھی روزے رکھے، اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔”
(سنن ترمذی: 723)

 قوت ارادی اور قضا روزے

ماہرینِ نفسیات کے مطابق، انسان کا ارادہ اجتماعی ماحول میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ رمضان میں سحر و افطار کا ماحول، دیگر افراد کا روزہ رکھنا اور دینی جذبہ انسان کو سہارا دیتا ہے۔
مگر قضا روزے تنہائی کا امتحان ہوتے ہیں، جہاں صرف اپنے ارادے اور اللہ کی محبت کا سہارا ہوتا ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو کی تحقیق (2021) کے مطابق:
83٪ لوگ اجتماعی عبادات میں زیادہ باقاعدگی دکھاتے ہیں۔
62٪ لوگ انفرادی عبادات میں قوت ارادی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قضا روزے انسان کو زیادہ بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔

 قضا روزے رکھنے کی حکمتیں

1. اللہ کی رضا:

قضا روزے فرض ہیں اور ان کی ادائیگی اللہ کی خوشنودی کا باعث ہے۔

2. نفس کا تزکیہ:

یہ روزے انسان کی قوت ارادی بڑھاتے اور صبر سکھاتے ہیں۔

3. اخروی نجات:

روزہ چھوڑنے کی وعید سے بچنے کا واحد راستہ قضا روزے مکمل کرنا ہے۔

قضا روزے رکھنے کا مسنون طریقہ

– سحر و افطار کا اہتمام کریں۔
– نیت کو خالص اللہ کے لیے کریں۔
– دن بھر گناہوں سے بچیں۔
– دعائیں کریں، خاص طور پر:
اللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ
(اے اللہ! مجھے اس روزے اور عبادت پر مدد دے۔)

 قوت ارادی بڑھانے کے 5 آزمودہ طریقے

1. روزے کا شیڈول بنائیں

مخصوص دن طے کریں اور خود کو پابند کریں۔

2. اپنا مقصد یاد رکھیں

اللہ کی رضا اور فرض کی ادائیگی ذہن میں رکھیں۔

3. چھوٹے اہداف بنائیں

مثلاً پہلے 2 قضا روزے رکھیں، پھر مزید۔

4. دعاؤں کا اہتمام

روز دعا مانگیں کہ اللہ دل میں حوصلہ اور ہمت پیدا کرے۔

5. ایمان افروز واقعات پڑھیں

صبر اور روزے کی فضیلت پر مبنی احادیث و واقعات پڑھنا حوصلہ بڑھاتا ہے۔

قضا روزے *فرض عبادتہیں اور ان کی ادائیگی ہر بالغ، عاقل مسلمان پر لازم ہے۔ یہ انسان ک*ایمان، صبر اور قوت ارادی کا امتحان ہیں۔ جو شخص بغیر کسی دینی و دنیوی لالچ کے صرف اللہ کی رضا کے لیے روزے رکھتا ہے، اس کا اجر بے حساب ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔”
(صحیح بخاری: 1894)

قضا روزے اور قوت ارادی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“قضا روزے اور قوت ارادی” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں