اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی صحیح تاریخ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں کئی جگہ اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
**قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:**
> “یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰهَا ۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی ۭۡ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۭ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ یَسْأَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْهَا ۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ” (الاعراف: 187)
> “لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا۔ آپ کہہ دیں کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے۔ وہی اس کو اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری (بات) ہے، وہ تم پر نہیں آئے گی مگر اچانک۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے کہ آپ اس کے متعلق خوب تحقیق کرچکے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”
*اسی طرح، حضرت جبرائیل علیہ السلام کے مشہورحدیث میں ہے کہ:**
> “جب جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ‘اس کا علم اس شخص سے زیادہ نہیں جس سے پوچھا جا رہا ہے۔'” (صحیح مسلم)
لہذا، قیامت کا وقوع پذیر ہونا دس محرم کو ہونے کا کوئی ثابت شدہ حدیث نہیں ہے۔ قیامت کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ہمیں اس کی تیاری کرنی چاہیے کیونکہ وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے۔