437

ماں بیتی

تحریر شئیر کریں

ماں بیتی ان لمحوں کی داستاں جو محسوسات بن کر رگوں میں دور رہے تھے۔یہ دوڑتے بھاگتے پل نوک قلم پر صرف ملاحظ کیجیے قلم کتاب پر
۔

۔۔۔۔۔۔۔
مبارک ہو بہت بہت آپ ماں بننے والی ہیں ۔ڈاکٹر کا جملہ منہ میں تھا اور وہ سٹک پکڑے وہی جام ہوگئ تھی۔بہت سے پل یونہی بیت گۓ۔بے خیالی میں نا جانے اور کتنے پل گزر جاتے جب ڈااکٹر کی آواز گونجی اب اسے پھینک بھی دیں۔تو سٹک لیے جلدی سے دروازے کی طرف لپکی مگر باہر آکر بھی کتنی دیر کھڑی رہی آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے خوشی کے آنسو شکر سے لبریز یو کر بارگاہ الہی کے اس فیصلے پر سرشار تھے۔لگتا تھا دل اپنی تال بدل چکا ہے۔مجھے زندگی کی نوید سنائی گئ تھی مگر کان بے یقین بنے کھڑے تھے۔ڈاکٹر نے ضروری ہدایات کے ساتھ میڈیسن لکھ کر تھما دی اور ایک ماہ بعد دوبارہ چیک اپ کے لیےبلوایا تھا کے لیے۔۔۔پرچی ہاتھ میں تھی اور قدم باہر کی طرف بڑھا دیے ۔میں محسوس کر سکتی تھی کہ میری چال اب وہ چال نا تھی جسے چل کے میں رازی ہاسپٹل آئی تھی۔سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ قدم ایک ماں کے تھے جس کے قدموں تلے جنت تعمیر ہونے جا رہی تھی۔یہ اعزاز قدرت کا مظہر تھا۔اس کی کرامت تھی ورنہ چالیس سال کی عمر اور شوگر کی مریض جو انسولین پہ تھی۔کیسے ماں بن گئ۔۔۔بس حیرتوں رحمتوں کا جہاں اس کے اردگرد آباد تھا اور وہ رکشے میں جا بیٹھی۔۔۔پھر دن دن نا رہے انتظار بن گۓ کب میرا بچہ مجھے دکھائی دے گا کب پیاسی نگاہیں سیراب ہوں گیں۔

۔۔۔۔

مٹھا میوہ
وہ لمحہ نہیں تھا میری زندگی کا حاصل تھا وہ لمحہ ہر لمحے پہ بھاری تھا جس لمحے نرس نے میری گڑیا میرے بازوں میں بھر دی تھی۔ناتواں بازو اب ناتواں نا تھے۔۔۔خا لی گود اب بھر چکی تھی۔گل گوتھنا وجود میری آنکھوں کے سامنے تھا۔حیرت بے یقینی محبت کیا کچھ نہیں تھا ان نگاہوں میں بس تکے جا رہی تھی۔اور یہ بھی بھول گئ کہ نرسری میں مجھے کیوں بھیجا گیا تھا۔بریرہ تین دن سے نرسری میں تھی۔آج اسے مدر فیڈ کروانے آئی تھی۔پر اسے دیکھنے سے فرصت نا تھہ۔ننھی سی گڑیا منہ بسورے جا رہی تھی مگر دودھ پکڑنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ہم دونوں اکیلی تھی۔نرس جا چکی تھی۔میری پیاسی ممتا کا پہلا بوسہ بریرہ کے ماتھے پہ امر ہوگیا۔بہت مختلف انوکھا احساس جو ماں بننے پہ محسوس کر رہی تھی۔آج اس لمحے جب اپنی بیٹی اپنی کائنات بازؤں میں لی تو پتہ چلا لوگ اولاد پانے کے لیے انتہاوں پہ کیوں چلے جاتے ہیں۔چلے کاٹنے پڑیں تو وہ بھی کاٹتے ہیں۔محبت کرنے والی بیویاں تیاگ دی جاتیں ہین۔والدین چھوڑ دیے جاتے ہیں۔زمانے کے رسم ورواج سے ہٹ کر الٹا چلنا پڑے تو چل دیتے ہیں۔کس لیے؟صرف اور صرف اولاد پانے کے لیے۔۔مٹھا میوہ۔۔۔جس کی مٹھاس ہر میوے سے نرالی اور جدا ہے۔جس کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔آج اس میوے سے ملاقات کا پہلادن ،پہلی ملاقات اور پہلابوسہ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں